Archives for May 2025

May 14, 2025 - Comments Off on Digital Platforms, Environmental Journalism, and Censorship: Is Access to Truth Becoming Limited? By Samina Chaudhry

Digital Platforms, Environmental Journalism, and Censorship: Is Access to Truth Becoming Limited? By Samina Chaudhry

گزشتہ دہائی میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے معلومات کے پھیلاؤ کو انقلاب کی صورت میں بدل دیا ہے۔ سوشل میڈیا، آن لائن نیوز پورٹلز، اور بلاگرز نے صحافت کو نئی جہتیں دی ہیں، اور اب کوئی بھی فرد، کہیں سے بھی، اپنی آواز بلند کر سکتا ہے۔ یہ تبدیلی ماحولیاتی صحافت کے لیے خاص طور پر اہم رہی ہے کیونکہ روایتی میڈیا اکثر ماحولیاتی موضوعات کو نظر انداز کرتا رہا ہے۔

ڈیجیٹل دور نے دنیا کو ایک نئے انقلاب سے روشناس کرایا ہے۔ معلومات کی رسائی، اظہار رائے کی آزادی اور سماجی تحریکوں کی رفتار میں بے مثال تیزی آئی ہے۔ خاص طور پر ماحولیاتی صحافت جیسے حساس شعبے میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے نئی راہیں کھولی ہیں، جہاں مقامی مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، سنسرشپ اور معلوماتی رکاوٹیں ایک ایسا سنگین مسئلہ بن کر ابھری ہیں جو سچائی کی رسائی کو محدود کر رہی ہیں۔

تاہم، جیسے جیسے ڈیجیٹل دنیا نے معلومات کی آزادی کے دروازے کھولے ہیں، ویسے ویسے سنسرشپ، ڈیجیٹل کنٹرول اور جھوٹی معلومات کے ہتھیاروں نے ان دروازوں کو بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز حقیقت میں معلومات کی سچائی تک رسائی فراہم کر رہے ہیں، یا یہ ایک نئے دور کی سنسرشپ کا میدان بن چکے ہیں؟

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز: مواقع یا خطرہ؟

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے ماحولیاتی صحافیوں، کارکنوں، اور اداروں کو عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کرنے کا نادر موقع فراہم کیا ہے۔ EarthLens International جیسے پلیٹ فارمز، جو مقامی ماحولیاتی مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرتے ہیں، اس انقلاب کا عملی مظہر ہیں۔

لیکن دوسری طرف، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے الگورتھمز معلومات کی نمائش کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف بولنے والے کارکنوں کی ویڈیوز بعض اوقات "غیر مناسب" یا "حساس" مواد کے طور پر محدود کر دی جاتی ہیں۔ فیس بک اور ٹوئٹر پر ایسی بے شمار رپورٹس ہیں کہ حکومتوں یا بڑی کمپنیوں کے خلاف مواد کو دانستہ طور پر کم رسائی دی جاتی ہے۔

مثال کے طور پر، 2021 میں ایک تحقیق سے پتا چلا کہ فیس بک نے کلائمٹ چینج سے متعلق کئی معتبر رپورٹس کی رسائی محدود کی کیونکہ انہیں "سیاسی نوعیت" کا حامل سمجھا گیا۔ ایسے میں جب ریاستی ادارے اور کارپوریٹ مفادات مل جاتے ہیں، تو ماحولیاتی سچائی دب جاتی ہے۔

کیس اسٹڈی

2020 میں ایک معروف ماحولیاتی کارکن کیویٹا کرشنن نے بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ایک بڑے جنگلاتی کٹاؤ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی۔ انسٹاگرام پر ان کی پوسٹس کو "گمراہ کن" قرار دے کر شیڈو بین کر دیا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ پروجیکٹ ایک بڑی کارپوریٹ کمپنی کی سرپرستی میں تھا۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کس طرح غیر اعلانیہ سنسرشپ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

ماحولیاتی صحافت کی اہمیت اور مشکلات

ماحولیاتی صحافت محض آلودگی یا قدرتی آفات کی رپورٹنگ تک محدود نہیں؛ یہ انسانی حقوق، معیشت، اور سماجی انصاف سے بھی جڑی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، ماحولیاتی مہاجرت، غذائی عدم تحفظ اور صحت کے بحران جیسے موضوعات کا براہ راست تعلق ماحولیاتی رپورٹنگ سے ہے۔ لیکن ترقی پذیر ممالک میں ماحولیاتی رپورٹرز کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔

وسائل کی کمی: ماحولیاتی تحقیق اور فیلڈ رپورٹنگ مہنگی ہے، لیکن اکثر ادارے اس پر سرمایہ نہیں لگاتے۔

ڈیٹا تک محدود رسائی: حکومتی ادارے شفاف ڈیٹا فراہم نہیں کرتے، جس سے حقائق کی تصدیق مشکل ہو جاتی ہے۔

خطرات اور سنسرشپ: ماحولیاتی رپورٹرز پر بالواسطہ یا بلاواسطہ دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

پاکستان میں، کوئلے کے منصوبوں یا ڈیموں پر رپورٹنگ اکثر "قومی مفادات" کے خلاف تصور کی جاتی ہے۔ ایک پاکستانی رپورٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا

جب ہم نے ایک فیکٹری کی آلودگی پر رپورٹ دی، تو ہمیں ادارے کی جانب سے نوٹس ملا اور ہماری فیس بک پوسٹس کی رِیچ کم ہو گئی۔"

عالمی مثال

فلپائن میں، مشہور ماحولیاتی صحافی گیریٹ سانچیز کو اس وقت دھمکیاں موصول ہوئیں جب انہوں نے ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے جنگلاتی کٹاؤ کے منصوبے کو بے نقاب کیا۔

یہ مسئلہ عالمی سطح پر بھی موجود ہے۔ آسٹریلیا میں مرڈوک میڈیا گروپ پر الزام ہے کہ وہ جان بوجھ کر کلائمٹ چینج رپورٹنگ کو کم اہمیت دیتا ہے۔

EarthLens International ارتھ لینز انٹرنیشنل کا ماحولیاتی صحافت میں کردار

ارتھ لینز انٹرنیشنل  کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ ایسے موضوعات پر توجہ مرکوز کرے جو روایتی میڈیا میں اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم نوجوان صحافیوں، ماحولیاتی ماہرین، اور کارکنان کو ایک ایسا فورم فراہم کرتا ہے جہاں وہ آزادانہ طور پر تحقیقاتی رپورٹس، فیچر آرٹیکلز، انٹرویوز اور ویڈیو ڈاکیومینٹریز کے ذریعے اپنی آواز بلند کر سکیں۔ اس کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات، مقامی کمیونٹیز کی جدوجہد، اور پائیدار ترقیاتی منصوبوں پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طاقت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے،  ارتھ لینز انٹرنیشنل نے سوشل میڈیا، ویب سائٹ، اور یوٹیوب چینل جیسے ذرائع کو بروئے کار لا کر ماحولیاتی صحافت میں نئی روح پھونکی ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف خبریں فراہم کرتا ہے بلکہ سیکھنے اور سمجھنے کا ایک عمل بھی شروع کرتا ہے جس کے ذریعے عوام میں ماحولیاتی شعور بیدار کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کو تربیت دے کر انہیں اس قابل بنایا جا رہا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹیز میں تبدیلی کے سفیر بن سکیں۔

ارتھ لینز انٹرنیشنل کے کام کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ یہ صرف بڑے شہروں پر نہیں بلکہ دیہی اور پس ماندہ علاقوں کے مسائل پر بھی فوکس کرتا ہے۔ پانی کے بحران، جنگلات کی کٹائی، آلودگی، اور زراعت پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات جیسے موضوعات پر رپورٹنگ کے ذریعے یہ پلیٹ فارم ان آوازوں کو جگہ دیتا ہے جو عموماً مرکزی میڈیا میں دب جاتی ہیں۔ اس عمل نے ماحولیاتی انصاف کے تصور کو تقویت دی ہے اور پالیسی سازی پر بھی اثرانداز ہونے کی بنیاد رکھی ہے۔

سنسرشپ اور معلوماتی رکاوٹوں کے اس دور میں ارتھ لینز انٹرنیشنل نے خود کو آزادی اظہار کا علمبردار ثابت کیا ہے۔ تحقیق اور مستند معلومات پر مبنی رپورٹنگ کی بدولت اس پلیٹ فارم نے ماحولیاتی مسائل پر مبنی بیانیے میں شفافیت اور اعتبار کو فروغ دیا ہے۔ عالمی ماحولیاتی ایونٹس، کانفرنسز اور مقامی سرگرمیوں کی کوریج کے ذریعے ارتھ لینز انٹرنیشنل نے پاکستان کی ماحولیاتی صحافت میں ایک نیا معیار قائم کر دیا ہے۔

سنسرشپ کی اقسام اور اثرات

سنسرشپ کئی شکلوں میں سامنے آتی ہے:

ریاستی سنسرشپ: ماحولیاتی رپورٹنگ کو "قومی سیکیورٹی" کا مسئلہ قرار دے کر روکا جاتا ہے۔

کارپوریٹ سنسرشپ: بڑی کمپنیاں اشتہاری دباؤ کے ذریعے میڈیا پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

خود ساختہ سنسرشپ: رپورٹر خود حفاظتی نقطہ نظر سے حساس موضوعات پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

ڈیجیٹل سنسرشپ:

مواد کو"مسلیڈنگ" قرار دے کر دبانا یا ریچ  کم کرنا

یہ سب سوال اٹھاتے ہیں کہ جب سچائی ہی عوام تک نہیں پہنچے گی تو ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کیسے بڑھے گی؟

ماحولیاتی ماہرین کی رائے

اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے، معروف ماہر ماحولیات اور ماحولیاتی صحافیوں کی تربیت میں سرگرم عافیہ سلام نے کہا

"ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے مقامی مسائل کو اجاگر کرنے میں مدد دی ہے، لیکن ان کے ساتھ خطرات بھی موجود ہیں۔ ریاستی یا کارپوریٹ مفادات کے خلاف رپورٹنگ کرنے پر صحافیوں کو دباؤ، دھمکیوں یا سوشل میڈیا ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ

 "صحافیوں کو خود بھی احتیاط کرنی پڑتی ہے تاکہ وہ خبر دینے والے مقامی افراد کو کسی ممکنہ خطرے میں نہ ڈالیں۔ بعض اوقات یہ خطرہ صحافی کو حساس زبان یا الفاظ کے چناؤ پر مجبور کر دیتا ہے۔"

یہ بات واضح کرتی ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ایک طرف مواقع فراہم کرتے ہیں، تو دوسری طرف خطرات بھی بڑھا دیتے ہیں۔

ایک سینئر اور تجربہ کار صحافی، نعیم احمد، جو ماحولیاتی صحافت میں کئی سالوں کا عملی تجربہ رکھتے ہیں اور اپنا ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی چلا رہے ہیں، کہتے ہیں:

"میرا تجربہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے ماحولیاتی صحافت کو ایک نئی جہت دی ہے۔ لوگ اب ان موضوعات میں دل چسپی لے رہے ہیں اور فوری رسپانس بھی موصول ہوتا ہے۔ البتہ میں نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ محض مسائل بیان کرنے پر اتنا ردعمل نہیں آتا جتنا کہ اگر ساتھ ساتھ حل بھی تجویز کیے جائیں۔ میں نے شعوری کوشش کی ہے کہ اسٹارٹ اپس، مقامی کوششوں اور کیس اسٹڈیز کو نمایاں کروں تاکہ مثبت پیش رفت بھی اجاگر ہو۔"

سنسرشپ کے حوالے سے نعیم احمد کا کہنا ہے کہ انہیں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر براہ راست کوئی سنسرشپ کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم معلومات تک رسائی ایک بڑا چیلنج ہے۔ "ڈیٹا کی کمی اور ماہرین کی دستیاب معلومات کے غیر معیاری ہونے کی وجہ سے رپورٹنگ میں رکاوٹ آتی ہے، جس پر اضافی محنت کرنی پڑتی ہے۔"

اسی سلسلے میں ماحولیاتی صحافت کے موضوع پر تحقیق کرنے والی ڈاکٹر سعدیہ خالد کہتی ہیں

"مین اسٹریم میڈیا میں ماحولیاتی رپورٹنگ میں فیکچوئل غلطیاں عام ہیں۔ رپورٹس کا حوالہ دیے بغیر یا ناکافی تحقیق کے ساتھ خبریں شائع کر دی جاتی ہیں۔ گلگت بلتستان جیسے حساس علاقوں کے حوالے سے جغرافیائی غلط بیانی بھی دیکھی گئی ہے۔"

ڈاکٹر سعدیہ سنسرشپ کے ایک اور اہم پہلو پر روشنی ڈالتی ہیں

"بہت سے ایسے موضوعات ہیں جن پر اداروں یا سیاسی شخصیات پر تنقید نہیں کی جا سکتی۔ مثال کے طور پر، سیاسی پروٹوکولز کی وجہ سے ٹریفک جام، غیر ضروری ایندھن کا استعمال اور کاربن ایمیشنز میں اضافہ جیسے مسائل کو اجاگر نہیں کیا جاتا۔"

وہ مزید کہتی ہیں کہ

"حکومتی تقریبات میں خوراک کے ضیاع، سرکاری دفاتر میں غیر ضروری سفر، اور سیاسی جلسوں کے دوران ماحولیاتی نقصان جیسے موضوعات پر بھی کوئی احتساب یا رپورٹنگ نہیں ہوتی۔ یہ سب انوائرمنٹل کرپشن کی مثالیں ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم ان پر بات کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔"

سچائی کے لیے مزاحمت: کامیاب کوششیں اور نئے راستے

رکاوٹوں کے باوجود، مزاحمت جاری ہے

ارتھ لینز انٹرنیشنل  ارتھ لینز انٹرنیشنل جیسے پلیٹ فارمز مقامی کہانیاں اجاگر کر رہے ہیں

Climate Tracker اور Internews نوجوان صحافیوں کی تربیت اور معاونت کر رہے ہیں۔

Collaborative Journalism Projects جیسے "Covering Climate Now" عالمی سطح پر اداروں کو ماحولیاتی رپورٹنگ کے لیے اکٹھا کر رہے ہیں۔

ڈیجیٹل سکیورٹی ٹولز نے صحافیوں کو محفوظ رپورٹنگ کے ذرائع فراہم کیے ہیں۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اورآج کا نوجوان

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے نوجوانوں اور صحافیوں کو بے پناہ مواقع فراہم کیے ہیں، مگر ساتھ ہی نئی قسم کی رکاوٹیں بھی کھڑی کی ہیں۔ ماحولیاتی صحافت جیسی حساس فیلڈ میں ڈیجیٹل مہارت، آزاد رسائی، اور تخلیقی اظہار آج کی سب سے بڑی ضروریات بن چکی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں نوجوان آبادی دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے، وہاں ڈیجیٹل تعلیم، جدید تربیت، اور سنسرشپ کے خلاف شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اگر ہم آج صحیح فیصلے کریں، نوجوانوں کو بااختیار بنائیں اور سچائی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں، تو ہم ایک ایسا مستقبل تخلیق کر سکتے ہیں جو نہ صرف ڈیجیٹل طور پر ترقی یافتہ ہوگا بلکہ زیادہ شفاف، پائیدار اور انصاف پر مبنی بھی ہوگا۔

آگے کا راستہ: سفارشات

حکومتوں اور کمپنیوں کو ماحولیاتی ڈیٹا میں شفافیت لانا ہوگی۔

ماحولیاتی صحافیوں کو قانونی تحفظ اور مالی معاونت فراہم کرنی ہوگی۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنے الگورتھمز اور سنسرشپ پالیسیز میں شفافیت لانی چاہیے۔

عوام کو معلومات کے تجزیے اور جھوٹی خبروں کی شناخت کی تربیت دینا ضروری ہے۔

نتیجہ

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے صحافت کو نئی آزادی دی ہے، لیکن اسی کے ساتھ سچائی پر نئے قسم کے دباؤ  اور رکاوٹیں بھی کھڑی کی ہیں۔ ماحولیاتی صحافت جیسی حساس فیلڈ میں ڈیجیٹل مہارت، آزاد رسائی، اور تخلیقی اظہار آج کی سب سے بڑی ضروریات بن چکی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں نوجوان آبادی دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے، وہاں ڈیجیٹل تعلیم، جدید تربیت، اور سنسرشپ کے خلاف شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اگر ہم آج صحیح فیصلے کریں، نوجوانوں کو بااختیار بنائیں اور سچائی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں، تو ہم ایک ایسا مستقبل تخلیق کر سکتے ہیں جو نہ صرف ڈیجیٹل طور پر ترقی یافتہ ہوگا بلکہ زیادہ شفاف، پائیدار اور انصاف پر مبنی بھی ہوگا۔

ماحولیاتی سچائی، جو ہماری بقا کے لیے ناگزیر ہے، سنسرشپ اور کارپوریٹ مفادات کے نیچے دب رہی ہے۔

مگر امید باقی ہے۔ صحافی، کارکن اور باشعور شہری اگر یکجا ہو کر کام کریں تو سچائی کی راہیں ہمیشہ کھلی رہتی ہیں۔

ماحولیاتی صحافت محض ایک پیشہ نہیں، یہ انسانیت کی بقا کی جدوجہد ہے — اور اس کی حفاظت ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

May 14, 2025 - Comments Off on Privacy Threats and Intimidation Faced by Investigative Journalists (Urdu) By Saeeda Salarzai

Privacy Threats and Intimidation Faced by Investigative Journalists (Urdu) By Saeeda Salarzai

تحقیقاتی صحافت کو ڈیجیٹل نگرانی، سپائی ویئر اور دھمکیوں سے خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کی صحافیوں کو خطرات لاحق ہے۔ آئے روز صحافیوں کو اغوا، قتل، ٹارچر اور ڈرایا دھمکایا جاتا ہے جو کہ تحقیقاتی صحافت اور آزادی اظہار رائے پر ایک وار ہے۔ تحقیقاتی صحافت ہی ہے جو مسائل کی جڑ تک پہنچ کر اس کا حل نکالنے کی کوشش کرتی ہے۔ جب بھی کسی تحقیقاتی صحافی کو اغوا کر لیا جاتا ہے تو رہائی کے بعد وہ اس طرح اپنا کام جاری نہیں رکھ سکتا جس طرح وہ پہلے کیا کرتا تھا یا کرتی تھی۔ پورے پاکستان بالخصوص قبائلی اضلاع اور خیبر پختونخوا میں ایک تحقیقاتی صحافی کا کام کرنا انتہائی دشوار کام ہے۔

تحقیقاتی/انویسٹیگیٹیو جرنلسٹ عمر چیمہ نے بتایا کہ ”جب بھی ہم تحقیقاتی صحافت کرتے ہیں تو ہمیں مختلف قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس تحقیقاتی صحافت کی وجہ سے میرا ذاتی نمبر کسی نے شیئر کر دیا تھا جس کی وجہ سے مجھے مختلف قسم کی کالز آتی تھی لیکن میں کسی کو بھی ریسیؤ نہیں کرتا تھا۔ میرے صحافت کی وجہ سے مجھے پہلے سے دھمکی نہیں دی گئی تھی بلکہ مجھے سیدھا اغوا کر لیا گیا تھا۔ تحقیقاتی صحافت کرنا کوئی آسان کام نہیں اس کے لیے ہمیشہ آپ کو قربانی دینی پڑتی ہے۔

قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے تحقیقاتی صحافی اسلام گل آفریدی صحافت کے شعبے سے 2006 سے وابستہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "خیبر پختونخوا بالخصوص قبائلی اضلاع میں تفتیشی صحافت کرنا آسان کام نہیں کیونکہ یہ قبائلی اضلاع جنگ سے متاثر ہوئے ہیں اور اب بھی بد امنی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ایک تحقیقاتی صحافی کا ایسے علاقے میں کام کرنا نا ممکن سا ہے۔ 2018 میں میں نے لینڈ اینڈ مائنز کے حوالے سے ایک سٹوری کی تھی جس کی وجہ سے مجھے سرکار کی طرف سے اٹھا لیا گیا تھا اور مجھ پر پاکستان کے خلاف غیر ملکیوں کا ساتھی ہونے کا الزام لگایا گیا تھا مگر کوئی بھی ثبوت پیش نہ ہونے کی وجہ سے میں بے گناہ ثابت ہوا اور رہا ہوا۔ انہوں نے پاکستان میں صحافت آزاد نہیں ہے کیونکہ جب بھی ہم تحقیقاتی صحافت کرتے ہیں تو سرکاری ادارے ہمارا ساتھ نہیں دیتے اور نہ ہی ہماری رپورٹ شائع کرنے دیتے ہیں، ہمیں مختلف طریقوں سے پریشرائز کرتے ہیں مگر پھر بھی میری کوشش ہوتی ہے کہ میں مسائل کو اجاگر کروں کیونکہ مسائل کو اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے اور ایک اچھے صحافی کا کام ہی یہی ہے کہ وہ تحقیقاتی صحافت کے ذریعے ہی مختلف مسائل کو اجاگر کریں“

پی ٹی وی نیوزاینکر ماہ نور قریشی نے بتایا کہ "میں سٹیٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہوں جس کی وجہ سے دھمکیاں ملنا تو عام سی بات ہے مگر ان حالات کے ہم لوگ اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ کوئی دھمکی دیں یا کوئی پریشرائز کریں تو ہمیں کوئ فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ تو اب روز کا معمول بن چکا ہے۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ ہم انصاف کے لیے اور اپنے آپ کے لیے آواز اٹھاتے ہیں مگر اس کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا ہوتا۔ کئی بار تو میرا ڈیٹا بھی چوری ہونے کی کوشش کی گئی ہے جس کا مجھے میسج بھی آ جاتا ہے لیکن ڈیجیٹل ڈیٹا چوری ہونے کے حوالے سے مجھے اتنی سمجھ ہے کہ کوئی میرا ڈیٹا آسانی سے ہیک نہیں کر سکتا“

قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والی صحافی جمائمہ آفریدی نے بتایا کہ "مجھے میرے کام کی وجہ سے آئے روز دھمکیاں ملتی ہیں اور پریشرائز بھی کیا جاتا ہے۔ مجھے یہ تک کہا گیا ہے کہ اگر میں آپ کا والد یا بھائی ہوتا تو میں آپ کو کب کا مار چکا ہوتا مجھے یہ بھی دھمکی ملی ہے کے آپ جیسی لڑکی کو تو مار دینا چاہیے آپ کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ آپ جیسی لڑکی معاشرے کی اور خواتین کو بگاڑتی ہے۔ پہلے تو میں جواب دیتی تھی اور پریشان بھی ہو جاتی تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب میں ان سب کی عادی ہو چکی ہوں اور اب مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کون کیا بول رہا ہے مجھے بس اپنے کام سے کام رہتا ہے۔

قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والی صحافی سلمی نے بتایا کہ ایک خاتون صحافی ہوتے ہوئے ہمیں شروع ہی سے دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ کچھ سال پہلے جب مری میں برف کا طوفان آیا تھا تو میں نے ایک ادارے کے لیے لائیو رپورٹ بنایا تھا اور اس میں نے سر پر دوپٹہ بھی لیا ہوا تھا مگر لوگوں کی طرف سے یہی دھمکیاں مل رہی تھی کہ آپ کو تو مار دینا چاہیے یہ عذاب ہے اور یہ عذاب تو آپ جیسی خواتین کی وجہ سے آتا ہے۔ ان سب کی وجہ سے میں بہت زیادہ دل برداشتہ ہو گئی تھی مگر پھر ادارے والوں نے مجھے سمجھایا کہ آپ پریشان نہ ہو آپ تو ایک صحافی ہو اور بطور صحافی آپ کو ان سب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے مگر آپ اپنا کام جاری رکھیں“

ایک قبائلی خاتون صحافی نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ "میں خواتین کے مسائل کے اوپر لکھتی ہوں مختلف ویب سائٹس پر میرا کام شائع تو ہو جاتا ہے مگر مجھے طرح طرح کی دھمکیاں ملتی ہے کہ آپ ہماری خواتین کے مسائل کے بارے میں کیوں لکھتی ہے۔ اب میری کوشش یہ رہتی ہے کہ خواتین کے مسائل پر لکھوں لیکن کھل کر نہیں کیونکہ کھل کر لکھنے سے مجھے کئ دھمکیاں مل چکی ہیں۔ میرے علاقے میں بہت زیادہ مسائل ہیں میں چاہتی ہوں کہ اس کو رپورٹ کروں لیکن دھمکیوں، خوف اور ڈر کی وجہ سے میں کھل کر رپورٹنگ نہیں کر سکتی۔ مجھے تو دھمکیوں سے ڈر نہیں لگتا لیکن میں اپنی فیملی کی وجہ سے خاموش ہو جاتی ہوں کیونکہ میرے ساتھ میرے گھر کے تمام افراد منسلک ہیں۔ مجھے تو کئی بار کہا گیا ہے کہ آپ اپنے دھمکیوں کے حوالے سے آواز اٹھائیں، اپنی شکایات درج کروائیں لیکن میں نے آج تک کوئی بھی شکایت درج نہیں کروائی کیونکہ اگر میں ایسا کرتی ہوں تو مجھے مزید دھمکیاں ملیں گی اور مزید میرے کام کو روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ میڈیا میں میرے کئی صحافی دوست ہیں جن کو انصاف نہیں ملا تو مجھے کیا ملے گا“

وی نیوز کے سب ایڈیٹر احسن اعوان نے بتایا کہ "صحافیوں کے کام کے شائع کرنے کے حوالے سے ہمیں اکثر پریشرائز کیا جاتا ہے اور دھمکیاں بھی ملتی ہے جس کی وجہ سے ہمیں شائع شدہ مواد ویب سائٹ سے ڈیلیٹ کرنا پڑتا ہے اور ماضی میں ایسا کئی بار ہو چکا ہے“

ہم نیوز اسلام اباد کی رپورٹر صبا بجیر نے بڑے افسردگی سے بتایا کہ "صحافت کے 13 سالہ کیریئر میں مجھے بہت زیادہ دکھ اور دھمکیاں ملی ہے۔ میں نے اپنے صحافت کا آغاز کراچی سے کیا اور اس وقت میں نیوز ان کرتی جس کی وجہ سے لائیو پروگرام میں مجھے ایک سیاسی پارٹی کی جانب سے بہت زیادہ تنگ کیا جاتا تھا۔ بلکہ آئے روز ریسپشن پر کال آتی تھی کہ صبا کو بتائیں کہ اس موضوع پر بات نہ کریں۔ مگر مجھے اپنے ادارے کے ہیڈ کی سپورٹ حاصل تھی جس کی وجہ سے میں نے اپنی رپورٹنگ جاری رکھی لیکن اس کے علاوہ پھر بھی وہی کال آتی رہی کہ آج تو یہ بچ گئی لیکن کل یہ زندہ نہیں بچ پائے گی۔ کئی مرتبہ میری گاڑی کو بھی ٹارگٹ کیا گیا۔ پھر میں اسلام اباد شفٹ ہوئی لیکن اسلام اباد میں بھی میرے ساتھ بہت زیادتی ہوئی، سپریم کورٹ میں ایک سیاسی پارٹی کا کیس چل رہا تھا اور اس کیس میں مجھ پر تشدد بھی ہوا اور مجھے پمز ہسپتال میں بند کیا گیا۔ پاکستان میں صحافت آزاد نہیں ہے اور نہ ہی اظہار رائے کی صحیح معنوں میں آزادی ہے، آئے روز صحافیوں کو اغوا کیا جاتا ہے اور رہائی کے بعد وہ اس طرح نہیں بول پاتے جس طرح وہ پہلے بول پاتے تھے“

ایڈوکیٹ پشاور ہائی کورٹ مہوش محب کاکا خیل نے صحافیوں کو لاحق خطرات، دھمکیوں، ڈیٹا ہیکنگ اغوا اور مختلف مسائل کے حوالے سے بتایا کہ "صحافیوں کو انتہائی خطرات لاحق ہے کیونکہ جو بھی حقیقت لکھتا یا لکھتی ہے تو ان کو دھمکیاں ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ہمیں زیادہ ترخواتین صحافیوں کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں مگر آخر میں اپنی خاندان کے سیفٹی کے حوالے سے وہ کیسز واپس لے لیتی ہے۔ میرے پاس زیادہ ترافغان صحافیوں کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں ۔ کیونکہ وہ رہتے تو پاکستان میں ہیں مگر رپورٹنگ افغانستان کے مسائل پر کر رہیں ہوتے ہیں تو ان کو اس بات کا بہت زیادہ خوف ہے کہ وہ افغانستان جا کر ہمارے جان کو خطرہ ہوسکتا ہے کیونکہ ان کو بہت پہلے دھمکیاں مل چکی ہے۔ پیکا PECA ایکٹ صحافیوں کے مسائل کو ڈیل کرتا ہے اگر صحیح سے کام کرے تو۔

جب ایک صحافی کسی سیاستدان کے خلاف لکھتا ہے تو پھر وہ defamation کیس بن جاتا ہے جسے پاکستان پینل کورٹ کے سیکشن 499 اور 500 ڈیل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ PECA کا ایک سیکشن 20 اس کو ڈیل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 19 میں صحافیوں کا اظہار رائے کی ازادی حاصل ہے۔ 2021 میں ایک سیکشن آف جرنلسٹ اینڈ میڈیا پروفیشنلزایک صحافیوں کو فریڈم مہیا کرتا ہے۔ پاکستان پینل کورٹ سیکشن 324 کے انڈر ایک ٹیمس ٹو مرڈر کے تحت ایک صحافی ایف آئی آر FIR درج کر سکتا ہے۔ اور اگر ایک صحافی اغوا ہوتا ہے تو سیکشن 35 کے تحت 10 سال قید ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تنگ ہونے کے لیے سیکشن 377 کے تحت مختلف سزائیں ہے۔ سیکشن اینٹی ٹیررزم ایکٹ 1997 کے سیکشن 7 اور 11 ہے۔ جس میں سیکشن 7 ٹیر رزم کے متعلق ہے یعنی کسی صحافی پر حملہ ہونا وغیرہ۔ سیکشن ،302 قتل کے متعلق ہے جس پر سیکشن 324 لاگو ہوتا ہے۔ اگر کسی صحافی کا ڈیٹا ہیک ہوتا ہے تو پیکا PECA ایکٹ سیکشن 19 اس کو ڈیل کرتا ہے کہ فلانے بندے نے فلانے صحافی کا ڈیٹا ہیک کیا ہے اس کا تعاقب کیا ہے۔ جس میں سیکشن 17 سائبر سٹاکنگ کے تحت ڈیل کیا جاتا ہے۔ جبکہ سیکشن 24 صحافیوں کے ڈرانے اور دھمکانے کو ڈیل کرتا ہے“

جیو نیوز کے سینئر صحافی اعزاز سید نے بتایا کہ "آج کل صحافیوں کے ڈیجیٹل آلات بالکل بھی محفوظ نہیں ہیں۔ آئے روز صحافیوں کے موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کو ہیک کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی پرائیویسی لیک ہو جاتی ہے۔ ان تحقیقاتی صحافیوں کے ڈیجیٹر حالات کو ہیک کرنے کے لیے سپائی ویئرز کا استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ سپائی ویئر صحافیوں کے ذرائع کو جان لیتا ہے مثال کے طور پر ایک صحافی کس کس سے فون پر بات کرتا ہے یا کن کن لوگوں کے ایک صحافی سے رابطے ہیں جو کہ آج کل ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ مختلف گروپس میں بھیجے گئے معلوم ویب سائٹس کے لنکس نہ کھولے کیونکہ اس طرح کرنے سے اکثر صحافیوں کا ڈیٹا ہیک ہو جاتا ہے۔ صحافیوں کو اس حوالے سے ٹریننگز دینی چاہیے کہ جب بھی آپ کو کوئی مشکوک لنکس موصول ہو تو ان کو نہ کھولے کیونکہ اکثر صحافیوں کو اس بارے میں پتہ ہی نہیں ہوتا اور وہ جلدی میں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ لنکس کھول لیتے ہیں تو ان کا سارا ڈیٹا ہیک ہو جاتا ہے اور وہی ڈیٹا پھر ان کے خلاف بڑے آسانی سے استعمال ہوتا ہے“

ڈاکیومینٹری فلم میکر ثمرمن اللہ نے بتایا کہ "تحقیقاتی صحافت چاہے مرد کر رہے ہو یا خواتین دونوں کے لیے مشکل کام ہے۔ آئے روز تحقیقاتی صحافیوں کو ہم لوگوں نے مشکل میں اور گرفتار ہوتے دیکھا ہے۔ اب وقت ہے کہ ان کے لیے آواز اٹھائی جائے بلکہ ایسے اقدامات کیے جائیں کہ تحقیقاتی صحافیوں کی جان کو کوئی خطرہ نہ ہو اور وہ پرامن طریقے سے اپنی صحافت جاری رکھ سکیں“

May 14, 2025 - Comments Off on Online Harassment and Gendered Disinformation Faced by Women Journalists in Tribal Districts By Nazia Salarzai

Online Harassment and Gendered Disinformation Faced by Women Journalists in Tribal Districts By Nazia Salarzai

جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ قبائلی اضلاع میں خواتین صحافی بالکل نہ ہونے کے برابر ہے اور جو ہے وہ بھی انتہائی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، کیونکہ وہاں پر خواتین کی صحافت کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی ان کو کوئی سہولیات میسر ہے۔ جو چند قبائلی خواتین صحافی ہے وہ آنلائن ہراسانی کا شکار ہوتی ہے۔ آئے روز ان کو غلط کمنٹس، دھمکیاں، گالیاں اور بھی طرح طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہے جس کی وجہ سے ان کے خاندان والے پھر ان کو مزید کام کرنے سے منع کرتے ہیں۔

خواتین صحافی آنلائن ہراسمنٹ کی وجہ سے اضطراب اور تناؤ کا سامنا کرتی ہے جو بلآخر ڈپریشن کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ان خواتین صحافیوں کی پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ خواتین صحافی آنلائن ہراسمنٹ کی وجہ سے معاشرتی تنہائی کا بھی شکار ہو سکتی ہے۔ اور ان سب سے بڑھ کر خواتین صحافیوں کے اظہار راۓ آزادی پر بھی وار ہے۔

قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والی صحافی ناہید جہانگیر جو پشاور کے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ میں اسسٹنٹ میڈیا مینیجر کی نوکری پر فائز ہے انہوں نے بتایا کہ "میں خیبر پختونخوا کی پہلی خاتون صحافی تھی جس نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) ریڈیو پاکستان میں بطور نیوز اینکر کام کیا، اس کے بعد ٹرائیبل نیوز نیٹ ورک (ٹی این این) میں بطور نیوز اینکر اینڈ ایڈیٹر کام کیا، اور پہلی خاتون صحافی تھی جس نے پشتو زبان میں ٹرائیبل نیوز نیٹ ورک کے لیۓ بطور فیس بک لائیو نیوز اینکر کام کیا۔ جس کی وجہ سے مجھے آئے روز آنلائن ہراساں کیا جاتا تھا، کمنٹس اس قدر دل دکھانے والے ہوتے تھے جس ادارے کی طرف سے ڈیلیٹ بھی کیۓ جاتے تھے مگر آئے روز ڈیلیٹ کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اکثر میں اپنا دل بڑا کر کے ان کمنٹس کو اگنور کر دیتی تھی مگر اس میں معاشرے کا بھی بڑا کردار ہے کیونکہ لوگ پھر مجھے کمنٹس سے سکرین شاٹس لے کر دکھاتے تھے اور واٹس ایپ میں بھی بھیج دیتے تھے کہ یہ دیکھیں آج پھر آپ کو کتنی گالیاں کسی نے دی ہیں، یہ دیکھیں آپ کے بارے میں فلانے نے کیا بولا ہے، مگر میں پھر بھی اگنور کرتی تھی کیونکہ یا تو میسجز کو لے کر پریشان ہو کر گھر بیٹھ جاتی اور یا اپنا کام جاری رکھتی۔ میں نے اپنی محنت جاری رکھی اور آج میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں اسسٹنٹ میڈیا مینیجر کی نوکری پر فائز ہوں ابھی بھی آنلائن ہراسانی ہوتی ہے مگر یہ اب ہماری زندگی کا معمول بن چکا ہے جس کو اگنور کرنا ہی واحد حل ہے“

قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والی صحافی وگمہ فیروز جو نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا سے وابسطہ ہے اور ڈاکیومینٹری فلم میکر بھی ہے، انہوں نے بڑے افسوس کے ساتھ بتایا کہ "آنلائن ہراسمنٹ اور جینڈرڈ ڈس انفارمیشن کا تو میں روز شکار ہوتی ہوں کیونکہ ایک صحافی کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل میڈیا پر لائیں اور ان کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں مگر اس کے ساتھ ساتھ ہم خواتین صحافی عوام کی نظروں میں آ جاتی ہیں۔ بڑے مشکل سے ہمارے کام کی تعریف ہوتی ہے اور باقی تو تنقید ہی تنقید۔ مجھے تو سب سے زیادہ میرے چھوٹے بالوں کی وجہ سے ہراساں کیا جاتا ہے اور مجھے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ تو سرے سے پختون ہو ہی نہیں کیونکہ پختونوں کی خواتین اتنے چھوٹے بال نہیں رکھتی اور وہ سروں پر دوپٹے لیتی ہے۔ اس کے علاوہ مجھے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ نہ تو مرد ہے اور نہ ہی خاتون بلکہ آپ تو ایک خواجہ سرا ہے، آپ کی بات کون سنے گا آپ تو ہماری خواتین کو بگاڑ رہی ہیں۔ پہلے مجھے بہت زیادہ تکلیف ہوتی تھی اب بھی ہوتی ہے مگر اپنے خاندان کی خاطر میں خاموش ہو جاتی ہوں کیونکہ دھمکیاں دینے والے لوگ میرے خاندان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اپنے لیے نہ سہی لیکن اپنے خاندان کے لیے سب کچھ برداشت کر لیتی ہوں۔ آئے روز مجھے آنلائن یہی کہا جاتا کہ آپ تو اسلام آباد یا باہر رہتی ہونگی آپ کو پختونوں کے مسائل کا کیا پتہ، آپ تو قبائلی علاقوں کے نام پر ایوارڈز لیتی ہے، پتہ نہیں آپ کو پشتو آتی بھی ہے کہ نہیں آپ زرا پشتو کےدو تین الفاظ تو سنائیں مگر ان کو نہیں پتہ کہ میں بی بی سی پشتو کے لیے بھی کام کرتی ہوں۔ ہمارے کچھ اپنے ہی ہوتے ہیں جن کو ہماری پرسنل باتوں کا زیادہ پتہ ہوتا ہے جب وہ ہمیں سامنے سے ہراس نہیں کر سکتے تو وہ پھر ہمیں فیک سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس کے زریعے ہراساں کرتے ہیں تو تب زیادہ تکلیف ہوتی ہے کیونکہ انجان لوگوں کو ہمارے اندرونی معاملات کا کیا پتہ۔ اور ان سب کی وجہ سے ہم خواتین صحافی زہنی تناؤں کا شکار رہتی ہے“

قبائلی علاقہ حسن خیل سے تعلق رکھنے والی صحافی شمائلہ آفریدی نے بتایا کہ ”میرے کام کی وجہ سے آئے روز مجھے آنلائن ہراساں کیا جاتا ہے اور ان ہی کمنٹس کو لے کر میرے رشتہ دار اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں کہ دیکھو آج پھر شمائلہ آفریدی کو عجیب عجیب کمنٹس کیے گئے ہیں۔ اکثر تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ میرے رشتہ دار میرے گھر والوں کے کان بھرتے ہیں اور ان کو کہتے ہیں کہ شمائلہ آفریدی کو کہیں کہ آپ یہ صحافت چھوڑ دیں کیونکہ یہ ہمارے غیرت کے خلاف ہے اور آپ کی وجہ سے ہمیں طرح طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہے مگر میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کیونکہ میرے گھر والے میرے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمارے قبائلی علاقوں میں جب معاشرہ کسی لڑکی کے کام کے خلاف ہو جاتا ہے تو سب سے پہلے وہ اس کے گھر والوں کو ڈراتے دھمکاتے ہیں اور پھر اس کے گھر والے اس کو کام کرنے سے منع کرتے ہیں خواہ وہ تعلیم ہو، صحافت ہو، نوکری ہو یا کوئی اور شعبہ۔ جب بھی مجھے کوئی دھمکی ملتی ہے یا مجھے آنلائن ہراساں کیا جاتا ہے تو مجھے اس سے اور بھی زیادہ طاقت ملتی ہے اور میں اور بھی کوشش کرتی ہوں کہ اس سے اور بھی اچھا کام کروں کیونکہ میں ڈرنے والی نہیں اور نہ ہی یہ آنلائن ہراسگی میرے حوصلے پست کر سکتے ہیں۔ کسی کے غلط کمنٹ کی وجہ سے یا معاشرے کی وجہ سے اگر ایک لڑکی گھر بیٹھ جاتی ہے تو اس سے وہ ایک ذہنی کیفیت یا ڈپریشن میں چلی جاتی ہے کیونکہ اس کے سارے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں اور وہ ایک زندہ لاش بن جاتی ہے جو انسانیت کے خلاف ہے“

قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی صحافی اور رضیہ محسود ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی چیئر پرسن رضیہ محسود نے بتایا کہ "قبائلی اضلاع بالخصوص وزیرستان میں خواتین کا صحافت کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ میں وہاں کی پہلی خاتون صحافی ہوں۔ میں شمالی وزیرستان جنوبی وزیرستان ٹانک، ڈی آئی خان اور لکی مروت کے مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہوں۔ ان علاقوں میں ایک خاتون صحافی کا فیلڈ میں جانا ناممکن سا ہے بلکہ ان علاقوں میں تو مرد صحافی بھی انتہائی مشکل سے صحافت کرتے ہیں کیونکہ یہ علاقے انتہائی بدامنی کا شکار رہے ہیں اور اب بھی ہے۔ خاتون صحافی ہونے کے ناطے میں نے بہت سے مشکلات جھیلی ہیں اوراب بھی بہت سے مشکلات کا سامنا کر رہی ہوں مگر میں صحافت نہ کروں تو آخرکون کریں؟ قبائلی اضلاع کے لوگوں میں سوشل میڈیا، سائبر کرائم اور سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے آگاہی نہیں ہے اور نہ ہی ان کو کوئی ٹریننگ دی گئی ہے کیونکہ اگر ان لوگوں میں شعور آ جائے تو آنلائن ہراسمنٹ میں کافی حد تک کمی آ سکتی ہے۔ جب ایک خاتون سوشل میڈیا پر ایکٹیو ہوتی ہے تو دوسری طرف ہمارے مخالفین بھی ہوتے ہیں جو ہم پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔ لوگ اکثر میری تصاویر کو ایڈیٹ کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں جو انتہائی نا مناسب ہے۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ خواتین صحافیوں کو کوئی مشکلات نہیں تو یہ میں نہیں مانتی۔ لوگوں کو مجھے ہراساں کرنے کے بجائے میرے کام کی تعریف اور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کیونکہ میری رپورٹنگ انتہائی حساس علاقوں سے ہوتی ہے۔

قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والی صحافی رانی عندلیب نے بتایا کہ "آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا دور ہے اور مجھے سب سے زیادہ خوف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے غلط استعمال سے رہتا ہے کیونکہ میں اکثر سوشل میڈیا پر جب اپنی تصاویر لگاتی ہوں تو یہ ڈر رہتا ہے کہ کب کون میری تصاویر سے فیک نازیبا ویڈیو بنائیں اور سوشل میڈیا پر شیئر کردیں اور اسی وجہ سے جب میں اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر لگاتی ہوں تو وہ صرف اپنے قریبی لوگوں کو دکھائی دیتی ہیں کیونکہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں تو وہاں پر سچائی کو اتنا تسلیم نہیں کیا جاتا جس طرح سے افواہوں پر یقین کیا جاتا ہے۔ اور ان سب کی وجہ سے جنڈر ڈس انفارمیشن عروج پر ہے۔ ہمارے معاشرے میں جب کسی کی کوئی تصاویر یا ویڈیو لیک ہوتی ہے خواہ وہ فیک ہی کیوں نہ ہو تو پھر بھی لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ فیک نہیں بلکہ اصل ہی ویڈیو ہے یہ لوگ اپنے آپ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں کہ یہ ہم نہیں ہیں۔ پختون خواتین کے لیے صحافت کرنا کوئی آسان کام نہیں مگر پھر بھی میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی صحافت جاری رکھوں“

ایڈوکیٹ پشاور ہائی کورٹ مہویش محب کاکا خیل نے خواتین صحافیوں کے آنلائن ہراسمنٹ اور جینڈرڈ ڈس انفارمیشن کے حوالے سے بتایا کہ "کوئی بھی خاتون صحافی اگر حساس رپورٹنگ کرتی ہے تو ان کو آنلائن ہراسمنٹ اور سائبر سٹالکنگ کے زریعے تنگ کیا جاتا ہے۔ مگر پیکا ایکٹ کا سیکشن 21 آنلائن ہراسمنٹ اور سائبر سپیس میں کسی پر زبردستی کرنے کو ڈیل کرتا ہے جبکہ سیکشن 24 سائبر سٹالکنگ کو ڈیل کرتا ہے، کیونکہ جب کسی صحافی کا تعقب ھوتا ہے تب ہی اس کو آسانی سے تنگ اور ہراساں کیا جا سکتا ہے۔ پیکا ایکٹ کا سیکشن26A جینڈرڈ ڈس انفارمیشن کو ڈیل کرتا ہے اور اس سیکشن کے تحت جینڈرڈ ڈس انفارمیشن پھیلانے والے کو تین سال قید اور 20 لاکھ تک جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر صحیح معنوں میں ان سیکشنز پرعمل کیا جائیں تو کافی حد تک آنلائن ہراسمنٹ میں کمی آ سکتی ہے“

سارہ خان جو پشاور کے ایک ہسپتال میں بطور کلینیکل سائیکالوجسٹ کام کر رہی ہے، انہوں نے خواتین صحافیوں پر آنلائن ہراسمنٹ اور جینڈرڈ ڈس انفارمیشن کے بارے میں بتایا کہ "میرے پاس کئ خواتین صحافیوں کےکیسز آئے ہیں جن کی میں نے کاؤنسلنگ بھی کی ہے۔ آنلائن ہراسمنٹ اور جینڈرڈ ڈس انفارمیشن تو خواتین صحافیوں پر بہت زیادہ ہے اس کی وجہ سے وہ آئے روز سٹریس میں بھی رہتی ہیں۔ خواتین صحافیوں پر آنلائن ہراساں کرنے کے ذہنی اثرات شدید اور دیرپا ہوسکتے ہیں جس کے کچھ عام اثرات جذباتی تکلیف، اضطراب اور خوف، صدمہ اور کام میں دلچسپی کا کم ہونا ہو سکتے ہیں۔ آنلائن ہراساں کرنا تکلیف دہ ہوسکتا ہے خاص طور پراس وقت جب کسی صحافی کو دھمکیاں ملے، نفرت انگیز جملے بولے جائیں، یا ان پر ذاتی حملے کیے جائیں۔ اور ان سب کی وجہ سے ایک خاتون صحافی اس طرح رپورٹنگ نہیں کر پاتی جس طرح وہ چاہتی ہے۔ خواتین صحافیوں پر آن لائن ہراساں کرنے کے ذہنی اثرات کی شدت کو تسلیم کرنا اور مدد کے حصول کے لئے ان کے لئے معاونت، وسائل اور محفوظ جگہیں فراہم کرنا بہت ضروری ہے“

خیبر پختونخواہ اومبڈز پرسن فار پروٹیکشن آف ویمن اگینسٹ ہراسمنٹ ایٹ ورک پلیس، رخشندہ ناز نے بتایا کہ "آئے روز خواتین صحافی آنلائن ہراساں ہوتی ہے، آج کل آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے زریعے ان کی فیک تصاویر، ویڈیوز، آڈیوز اور میسیجزعوام کے درمیان پھیلائی جاتی ہے جو کہ انتہائی خطرناک عمل ہے۔ بطور اومبڈز پرسن مجھے بھی آنلائن ہراساں کیا گیا تھا میرے تمام سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس کو ہیک کیا گیا تھا۔ اس وقت ایک ہی ادارہ تھا ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کا جس نے مجھے فوری طور پر ہراسمنٹ سے بچایا اور میرے تمام سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس جو ہیک ہو گئے تھے دوبارہ بحال کروائے، کیونکہ اس وقت اگر ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن وقتی طور پر عمل میں نہ آتی تو میرے تمام ہیک شدہ سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس میرے خلاف غلط طریقے سے استعمال کیے جا سکتے تھے۔ ایف آئی اے کے مقابلے میں مجھے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی زیادہ سپورٹ ملی۔ پہلے بھی مجھے خواتین کی ہراسمنٹ کے کئی شکایات موصول ہوئی ہیں جن کو پھر میں نے لیگل مدد فراہم کی ہے اور زیادہ کیسز ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے حوالہ کئے ہیں۔ اب بھی جب مجھے کسی خاتون صحافی یا کسی عام خاتون کی ہراسمنٹ کے حوالے سے کوئی شکایات موصول ہوتے ہیں تو میں فوراً اس کو ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کو ریفر کرتی ہوں کیونکہ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن ہراسمنٹ کے حوالے سے بہت زیادہ سنجیدہ ہے“

جینڈرڈ ڈس انفارمیشن کے حوالے سے رخشندہ نے بتایا کہ "خیبر پختونخواہ میں جینڈرڈ ڈس انفارمیشن بہت زیادہ ہے، خواہ وہ میمز کی شکل میں ہو، سٹیریو ٹائپس کی شکل میں ہو، ہیٹ سپیچ ہو یا خواتین کے خلاف کوئی اور پرویپیگنڈا ہو سوشل میڈیا پر بغیر کسی تصدیق کے پھیلائے جاتے ہیں جس کا اثر خواتین کے ذہنوں پر ہوتا ہے۔ میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ ہراسمنٹ کہی بھی ہو رہی ہو خواہ وہ آنلائن ہو اور یا ایٹ ورک پلیس ہو کو روک سکوں اس ہی وجہ سے میں ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن اور سائبر کرائم یونٹ کے ساتھ مل کر کام کرتی ہوں تاکہ کوئی بھی خاتون اس سے نہ گزرے۔ اداروں کو شفافیت سے کام لینا چاہئے تاکہ کوئی بھی کسی خاتون کو اپنا آسان شکار نہ بنا سکے۔ سوشل میڈیا جتنا مردوں کے لیے ہے اتنا ہی خواتین کے لیے بھی ہے۔ اسی ہراسانی کی وجہ سے خواتین کی آنلائن سپیسز میں موجودگی انتہائی کم ہے۔ خواتین صحافیوں کو آنلائن ہراسمنٹ اور جینڈرڈ ڈس انفارمیشن کے شدید اثرات سے بچا کر ہم ایک محفوظ، جامع اور قابل احترام آنلائن ماحول پیدا کرسکتے ہیں“

May 14, 2025 - Comments Off on Not Just Words, Now Faces Too Have Become Weapons: A New Front of AI Against Women Journalists By Zunaira Rafi

Not Just Words, Now Faces Too Have Become Weapons: A New Front of AI Against Women Journalists By Zunaira Rafi

’’میرا چہرہ، جو ایک لڑکی کے لیے سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے، بری طرح بگڑ گیا۔ وہ حادثہ میری زندگی کا ایک ایسا بھیانک باب تھا جس نے مجھے تقریباً ایک سال تک گھر کی چار دیواری میں قید کر دیا۔ آج بھی جب لوگ میرے چہرے کے نشانات دیکھتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں افسوس، ہمدردی اور رحم کے جذبات جھلکتے ہیں۔ کاش وہ جان پاتے کہ ان کے یہ جملے میرے دل پر کتنے گہرے زخم لگاتے ہیں، یہ نشانات محض داغ نہیں، یہ میری ہمت اور بہادری کی مثال ہیں۔‘‘

سیدہ فائزہ گیلانی کا تعلق کشمیر سے ہے۔ جنہوں نے خاتون صحافی ہونے کی تلخ حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ معاشرے میں خواتین صحافی پہلے ہی بے شمار چیلنجز سے نبرد آزما ہیں۔ دفتر کا دباؤ اور بعض اوقات گھریلو مسائل کی وجہ سے بھی انہیں ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اب، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے آنے سے ان پر یہ بوجھ دگنا ہو چکا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر صحافیوں کی موجودگی ناگزیر ہو چکی ہے۔ بدقسمتی سے، جو صحافی سوشل میڈیا سے دور ہیں، انہیں صحافی تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ مجبوری کے تحت سوشل میڈیا کا استعمال تو کرنا پڑتا ہے، لیکن پہلے تو خواتین صحافیوں کو گالم گلوچ یا ان کے کریکٹر پر کیچڑ اچھالا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے نام سے فیک اکاؤنٹس بنا کر الٹا سیدھا مواد شئیر کیا جاتا تھا۔ مگر اب تو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے کچھ بھی ممکن ہے۔ کسی کا چہرہ کسی اور کے دھڑ کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے، کسی کی آواز تک کسی بھی ویڈیو میں استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے خواتین صحافیوں کی زندگی کو مزید کٹھن بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین صحافیوں میں انزائٹی اور ڈپریشن کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اپنی زندگی کے مزید کچھ دردناک تجربات کا زکر کرتے ہوئے فائزہ نے بتایا کہ ان کی زندگی پہلے ہی مصائب سے گھری ہوئی ہے۔ انہوں نے نہ صرف آن لائن ہراسانی کا سامنا کیا بلکہ دو بار جسمانی حملوں جیسی خوفناک صورتحال سے بھی گزری چکی ہیں۔ جس میں سے پہلے حملے سے ان کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئی تھیں۔ اور دوسری بار ان کا چہرہ شدید متاثر ہوا۔

’’حال ہی میں کسی نے میرے نام سے سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس بنا لیے، کیونکہ میں نے توہین مذہب پر ایک اسٹوری کی تھی۔ اس کے بعد مجھے سوشل میڈیا پر دھمکیاں دی گئیں کہ تم ذرا گھر سے باہر تو نکلو' اور دیگر دل دہلا دینے والے تبصرے کیے گئے۔ مجھے دو بار جان سے مارنے کی کوشش بھی کی گئی۔ ان واقعات کے بعد میں شدید ڈپریشن میں چلی گئی۔ یہاں تک کہ میرے نام سے واٹس ایپ اکاؤنٹ بھی بنا لیا گیا تھا۔ جس کے بعد میں بہت پریشان تھی۔ لیکن میں نے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا جنہوں نے میری بھرپور مدد کی اور ان تمام اکاؤنٹس کو بند کروایا۔ میں اس قدر خوفزدہ تھی کہ کہیں کوئی ان اکاؤنٹس کو استعمال کر کے کوئی ایسا گھناؤنا کام نہ کر دے جس کا الزام مجھ پر لگا دیا جائے۔ اور مجھ پر کوئی ایسا حملہ ہو جائے جس کے بعد میرا وجود بھی باقی نہ رہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی تشدد جیسے جان لیوا واقعات سے گزر چکی ہوں۔ خواتین صحافیوں کے خلاف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال ان کی زندگیاں تباہ کر سکتا ہے اور اب انہیں اس بات کا ہر وقت خوف لاحق رہتا ہے۔ ہر لمحہ ان کے سر پر خطرے کی تلوار لٹکتی محسوس ہوتی ہے۔ ہر وقت یہی ڈر ستاتا رہتا ہے کہ وہ ایک عورت ہیں اور کوئی ان کی ایک تصویر سے ان کی عزت کو خاک میں ملا سکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ  اے آئی نے خواتین صحافیوں کو مزید بے بس اور کمزور کر دیا ہے۔ کیونکہ میں ہر اسٹوری کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتی ہوں۔ کہ اس کا انجام کس حد تک بھیانک ہو سکتا ہے۔ لیکن شاید یہ خوف مجھے آگے بڑھنے سے روکے رکھتا ہے۔ ’’ کیونکہ اپنی جان تو ہر کسی کو پیاری ہوتی ہے نہ، جینا چاہتی ہوں، اور صحافت میں نام بنانا چاہتی ہوں۔ لیکن کبھی کبھی یہ لگتا ہے کہ شاید کہیں یہ خوف اور ڈر میرے اندر سے صحافت کا جنون ختم نہ کر دے۔‘‘

اپنے صحافتی کرئیر کے متعلق بات کرتے ہوئے فائزہ کا کہنا تھا کہ وہ رپورٹس جن کی وجہ سے مجھ پر جان لیوا حملے کیے گئے اس کے بعد اہک اچھے اور بڑے ادارے نے انہیں نوکری سے نکال دیا۔ بہت سے اداروں میں نوکری کے لیے گئیں۔ مگر انہیں نوکری دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس ساری صورتحال نے انہیں مزید ڈپریشن میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ اس قدر ڈپریشن میں جا چکی تھی کہ ڈاکٹرز نے خبرادار کیا کہ اگر وہ اس سے باہر نہ آئی تو ان کا اعصابی نظام بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔

’’ نوکری تو جا چکی تھی۔ اس کے بعد میں سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے کام کرنا شروع کیا۔ اور پھر مختلف غیر ملکی اداروں کے ساتھ فری لانسنگ شروع کر دی۔ یہ سچ ہیں کہ سوشل میڈیا کی بدولت صحافیوں کو آزادانہ صحافت کرنے میں مدد ملی ہے، چاہے وہ مرد ہوں یا خواتین۔ مگر جہاں مواقع پیدا ہو رہے ہیں، وہیں چیلنجز بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ جیسے خواتین کو تبصروں اور ان باکس میں آ کر گندی گالیاں دی جاتی ہیں۔ مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ سرے عام ان کے کریکٹر کو گندگی کے ڈھیر بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ سب دیکھنے کے بعد سوچتی ہوں کہ ان انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والے کچھ لوگوں کے لیے  اے آئی سے فحش ویڈیوز اور تصاویر بنانا اب کونسا کوئی مشکل کام ہے۔‘‘

یہ صرف فائزہ کی کہانی ہے۔ مگر پاکستان کی ایسی بے شمار خواتین صحافی ہیں۔ جن کے صحافتی تجربات شاید فائزہ کی زندگی سے بھی کہیں زیادہ خوفناک ہیں۔ جو ان پر بات کرنے سے گھبراتی ہیں۔ کبھی جان سے مار دیے جانے کے خوف سے، کبھی اپنی عزت کے خاطر اور کبھی نوکری سے نکال دیے جانے کے ڈر سے خاموش رہتی ہیں۔

نمرہ علی ( فرضی نام) کا تعلق ایک نامور ٹی وی چینل سے ہے۔ جنہوں نے اپنے بھیانک تجربات کے حوالے سے بتایا کہ چند مہینے قبل انہیں ان کی ایک دوست کی جانب سے ایک تصویر موصول ہوئی۔ جو وہ خود بالکل بھی نہیں تھیں۔ مگر اس تصویر میں چہرہ تقریبا ان کے چہرے سے ہی ملتا جلتا تھا۔ کیونکہ کسی نے ان ک چہرے کو کسی اور کے جسم سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی تھی۔

’’ میں وہ تصویر دیکھ کر یک دم سے حیران پریشان رہ گئی کہ آخر یہ کیا ہے۔ میں نے جب اپنی دوست سے استفسار کیا تو اسے میری وہ تصویر فیس بک پر ایک ڈی پی پر ملی، وہ تصویر میری تھی ہی نہیں۔ صرف میرا چہرہ تھا۔ جب میں نے وہ اکاونٹ دیکھا تو کوئی میرے نام سے فیک اکاونٹ چلا رہا تھا۔ اور اس اکاونٹ پر صرف فحش مواد ہی شئیر ہوا تھا۔ یہ سب دیکھ کر میں مزید گھبرا گئی۔ کیونکہ میرے گھر سے کوئی دیکھ لیتا تو شاید مجھے ان کو یقین دلانے میں بہت مشکل ہوتی۔ اور اگر ان کو مجھ پر یقین ہو بھی جاتا تو وہ ممکن ہے کہ مجھے نوکری چھوڑنے پر مجبور کرتے‘‘

کہتی ہیں کہ انہوں نے مختلف اکاونٹس سے اس اکاونٹ کو رپورٹ کیا۔ بلکہ اپنے تمام گھر والوں کے اکاونٹس سے چھپ کر اس اکاونٹ کو بلاک بھی کیا۔ تاکہ کسی کی نظر سے نہ گزرے۔ اور تقریبا 2 مہینے انہیں اسی کشمکش میں لگے۔ اور وہ 2 مہینے ان کے لیے کسی تکلیف سے کم نہیں تھے۔ کیونکہ کسی کو بتا نہیں سکتی تھی۔ سوائے چند ایک دوستوں کو اس سب کے بارے میں پتہ تھا۔ اور کچھ ٹائم بعد میٹا کی جانب سے اکاونٹ کو بلاک بھی کر دیا گیا۔

’’مجھے اب سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی سے خوف آتا ہے۔ ہر نئی تصویر پوسٹ کرنے سے پہلے دل کئی بار کانپتا ہے، حالانکہ میں اپنے سارے اکاونٹ پرائیویٹ کر چکی ہوں، لیکن اس کے باوجود بھی میرے اندر خوف بیٹھ چکا ہے۔ ‘‘

خواتین صحافیوں کو سوشل میڈیا کا استعمال کیسے کرنا چاہیے۔ اپنی آن لائن موجودگی کو کیسے محفوظ بنانا چاہیے؟ اگر ان پر کوئی سائبر حملہ ہو جائے تو انہیں کس سے رجوع کرنا چاہیے؟ اور اگر وہ ہیکر تک پنچنا چاہتی ہیں تو اس کا طریقہ کار کیا ہے؟

ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن، سائبر ہراسمنٹ ہیلپ لائن ایسوسی ایٹ انیقہ شاہد کا کہنا تھا کہ آن لائن پوسٹ کرتے وقت کچھ باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے جیسا کہ بغیر اجازت موسیقی، تصاویر یا ویڈیوز استعمال نہ کریں۔ کاپی رائٹ کی خلاف ورزی سے آپ کی پوسٹ کی مونیٹائزیشن اور ویزیبیلٹی متاثر ہوتی ہے، گستاخانه، پر تشدد یا دل دہلا دینے والا مواد شیئر نہ کریں، کالعدم تنظیموں کے نشانات یا لوگو استعمال نہ کریں، نفرت انگیز تقریر، جنسی مواد، مذہبی بے ادبی یا تشدد کو بڑھاوا نہ دیں یا واضح طور پر نہ دکھائیں، کسی متاثرہ شخص کی شناخت یا ذاتی معلومات شیئر نہ کریں۔ چاہے نام یا چہرہ دھندلا بھی کیا ہو، عمر، اسکول، علاقہ یا خاندان کی معلومات سے پہچان ہو سکتی ہے اس کے علاوہ بچوں سے زیادتی کے کسی بھی معاملے کا مواد شیئر نہ کریں، چاہے آگاہی کے لیے ہی کیوں نہ ہو ۔ تصاویر، اسکرین شانس یا دھندلے چہرے بھی نہیں۔ اور کوشش کریں کہ اپنی ذاتی رائے کو رپورٹنگ میں شامل نہ کریں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پوسٹ کرتے ہوئے چند باتوں کا دیہان رکھنا لازمی ہے۔ جیسا کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے پلیٹ فارم کی کمیونٹی گائیڈ لائنز ضرور پڑھیں، ہر پلیٹ فارم کے مخصوص اصولوں پر عمل کریں، اگر حساس مواد پوسٹ کر رہے ہیں تو ٹرگر وارننگ دیں، اور وضاحت ضرور کریں جیسے: " یہ صرف آگاہی / رپورٹنگ کے مقصد سے ہے‘‘ ، پوسٹ کرنے سے پہلے معلومات کی تصدیق کریں کہ درست ہیں یا نہیں، اگر کوئی دعویٰ کر رہے ہیں تو حوالہ اور ثبوت لازمی شامل کریں اور سب سے اہم اپنے اکاؤنٹ کی سیکیورٹی وقتاً فوقتاً چیک کریں اور پاس ورڈ تبدیل کرتے رہیں۔

انیقہ نے اس حوالے سے مزید آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اگر آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو فوری طور پر ایک آگاہی پوسٹ لگائیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے دوستوں، احباب اور سوشل میڈیا کے تمام حلقوں تک یہ اطلاع پہنچ جائے کہ آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہو چکا ہے۔ اس طرح سب لوگ کسی بھی ممکنہ غلط استعمال سے باخبر رہیں گے اور کسی بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔

دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ آپ اپنے اکاؤنٹ کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ نے کوئی ریکوری ای میل یا فون نمبر شامل کیا ہوا ہے، تو اس کے ذریعے اپنا پاسورڈ ری سیٹ کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کا ہیک شدہ اکاؤنٹ کسی دوسرے اکاؤنٹ سے منسلک ہے، تو اس منسلک اکاؤنٹ کے ذریعے بھی ریکوری کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

تیسری اہم بات یہ ہے کہ جس پلیٹ فارم کا اکاؤنٹ ہیک ہوا ہے، اس کی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ مثال کے طور پر، اگر فیس بک، انسٹاگرام یا واٹس ایپ ہیک ہوا ہے، تو آپ کو میٹا (Meta) کو اس بارے میں اطلاع دینی چاہیے۔ ان کے ہیلپ سینٹرز پر موجود فارمز کو پُر کر کے جمع کروائیں، تاکہ آپ کی اکاؤنٹ ریکوری کی درخواست متعلقہ ڈیپارٹمنٹ تک پہنچ جائے۔

اگر آپ ہیکر تک پہنچنا چاہتے ہیں، تو پاکستان میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) سائبر کرائم کے معاملات دیکھتا ہے۔ آپ اپنے شہر کے ایف آئی اے کے سائبر ہراسمنٹ ونگ میں ایک درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔ اس درخواست کے ساتھ ہیکنگ کے ثبوت اور اپنے شناختی کارڈ کی کاپی ضرور لگائیں۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن میٹا کے شراکت دار ہیں۔ اگر کسی صحافی کا اکاؤنٹ ہیک ہو جاتا ہے، تو وہ ان سے رابطہ کر سکتے ہیں، اور وہ میٹا کو ریکوری کی درخواست بھیج کر اکاؤنٹ بحال کروانے میں مدد کر سکتے ہیں۔

پاکستانی قوانین ہیکر تک پہنچ جانے کے بعد قانونی کارروائی کرنے میں کس حد تک مدد فراہم کرتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اس کے لیے آپ کو ایف آئی اے میں ایک باضابطہ درخواست جمع کروانی ہوتی ہے۔ جس کے بعد آپ کو ایک ویریفیکیشن آفیسر تفویض کیا جاتا ہے، جو درخواست کے ابتدائی مرحلے سے لے کر آپ کے کیس سے متعلقہ تمام قوانین کے بارے میں آپ کو آگاہ کرتا ہے۔ درخواست کی تصدیق کے بعد، معاملہ انویسٹیگیشن آفیسر کے پاس جاتا ہے، اور پھر باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز ہوتا ہے۔

یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا آرٹیفیشل انٹیلجنس واقعی اتنی میچور ہو چکی ہے۔ جس کے زریعے کسی بھی خاتون کی تصویر کو کسی بھی فحش ویڈیو یا فحش تصویر میں بدلنا ممکن ہے اور یہ بھی نہ پتہ چلا کہ یہ اے آئی سے بنائی گئی ہے؟

اے آئی ایکسپرٹ میسم رضا نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اے آئی دن بہ دن بہت زیادہ میچور ہوتی جا رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ اے آئی کے ذریعے کسی بھی شکل کو کسی بھی جسم کے ساتھ جوڑنا انتہائی آسان ہو چکا ہے۔ آپ کا چہرہ اور آواز کسی بھی ویڈیو میں استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ اے آئی ایسے ٹولز متعارف کروا چکی ہے کہ اگر کسی خاتون کو ٹارگٹ کرنا ہو تو باآسانی اس کی زندگی کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔

سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ان چیزوں کو پرکھنے والے ماہرین بہت کم ہیں، جس کی وجہ سے لوگ جو کچھ بھی دیکھتے یا سنتے ہیں، اس پر فوراً یقین کر لیتے ہیں۔ حالانکہ اے آئی، جتنی بھی میچور ہو چکی ہے، اب تک وہ اتنی پرفیکشن کے ساتھ اس طرح کے ٹاسک پرفارم نہیں کر سکتی۔ اگر ہم ان ویڈیوز یا تصاویر کا باریک بینی سے جائزہ لیں، جو اے آئی سے بنائی گئی ہیں، تو ان کی حقیقت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس حوالے سے کوئی آگاہی موجود نہیں، جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں خواتین کو زیادہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

میسم رضا نے مزید بتایا کہ جس تیزی سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر کام ہو رہا ہے، جلد ہی یہ بہت پرفیکشن سے کام کرنے لگے گی، جو پوری دنیا میں تہلکہ مچا سکتی ہے اور دنیا کو تباہی کے دہانے تک لے جا سکتی ہے۔ تاہم، امید کی جا سکتی ہے کہ اس کے ساتھ ایسے ٹولز بھی سامنے آ جائیں گے، جن کی مدد سے یہ جانچنا آسان ہو جائے گا کہ مواد اے آئی سے بنایا گیا ہے یا حقیقی ہے۔

وہ خواتین صحافی جو کسی بھی قسم کی ذہنی اذیت سے گزر رہی ہوں، انہیں فوری طور پر کیا کرنا چاہیے؟ کس قسم کی عادات کو اپنانا چاہیے؟ اور کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے؟

ماہر نفسیات ڈاکٹر سہرش افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صحافی جس ذہنی اذیت سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ وہ سب جانتے ہیں۔ کبھی انہیں غائب کر دینا، کبھی ان کے ساتھ کوئی ٹارگٹڈ حادثہ پیش آنا، اور خاص طور پر خواتین صحافیوں کی عزتوں کو جس طرح سے ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ کسی بھی شخص کو ذہنی تناو میں مبتلا کر سکتا ہے۔

کہتی ہیں کہ خواتین بچے، گھریلو مسائل، اور پھر نوکری کے مسائل، ہر چیز سے ایک ہی وقت میں نمٹ رہی ہوتی ہیں۔ اور پھر ان کے کام کی بنا پر انہیں ذہنی اور جسمانی تشدد بنانا، ایسے حالات میں ان کا شدید خوف، اضطراب اور ڈپریشن کا شکار ہونا فطری امر ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین کے لیے تو اپنی ذہنی صحت کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ ان منفی اثرات سے نمٹنے اور اپنی زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کے لیے کسی قابل اعتماد ماہر نفسیات یا کونسلر سے رابطہ کرنا سب سے پہلا اور اہم قدم ہے۔ کیونکہ ایک ماہر ہی آپ کو اپنے صدمات اور خوف پر قابو پانے، جذباتی مسائل کو حل کرنے اور صحتمند رہنے کی حکمت عملی تیار کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ سی بی ٹی اور ای ایم ڈی آر جیسی تھراپیز ذہنی سکون بحال کرنے میں کافی مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

’’ اگر آپ کسی ماہر نفسیات سے رجوع نہیں کرنا چاہتے یا کسی بھی وجہ سے آپ جانے میں دیر کر رہے ہیں۔ اس وقت تک ضروری ہے کہ آپ اپنے گھر والوں، دوستوں اور اپنے پارٹنر کے ساتھ اپنے تجربات اور احساسات کو شئیر کریں۔ ان کی جانب سے جزباتی سہارا اور ہمدردی آپ کو تنہائی سے نکالنے میں مدد دے گی۔ اس کے علاوہ گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ ہونے سے انسان میں حوصلہ پیدا ہوگا۔‘‘

اگر آپ مسلسل ذہنی تناو محسوس کر رہے ہیں۔ تو بہت ضروری ہے کہ آپ خود کو کچھ ایسی سرگرمیوں میں مگن کر لیں۔ جو آپ کو پسند ہوں۔ تاکہ آپ کو زیادہ سوچنے کا وقت ہی نہ ملے۔ اس کے علاوہ یہ سب سے بہترین بات ہوتی ہے کہ آپ کو محسوس ہو جائے کہ آپ ذہنی تناو کا شکار ہو رہے ہیں۔ کیونکہ یوں آپ خود کو زیادہ جلدی اس صدمے سے باہر لا سکتے ہیں۔ متوازن غذا، باقاعدگی سے ورزش کرنا اور مناسب نیند لینا مزاج اور توانائی کی شطح کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

اگر سوشل میڈیا آپ کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہو تو اس کے استعمال کو محدود یا کچھ ٹائم کے لیے مکمل طور پر بند کر دینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تاکہ جو چیز آپ کو پریشان کر رہی ہے۔ اس سے آپ کو چھٹکارا مل جائے۔ صرف ان لوگوں اور اکاؤنٹس کو فالو کریں جو مثبت اور حوصلہ افزا ہوں۔ اپنی آن لائن موجودگی کو محفوظ بنانے کے لیے پرائیویسی سیٹنگز کا استعمال کریں اور کسی بھی دھمکی یا ہراسانی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو رپورٹ کریں۔‘‘

اپنے جیسے تجربات سے گزرنے والی دیگر خواتین صحافیوں کے ساتھ اپنی کہانیاں اور تجربات بانٹیں۔ ایک دوسرے کی مدد کرنا اور ایک مضبوط کمیونٹی بنانا آپ کو تنہا محسوس ہونے سے بچا سکتا ہے اور آپ کو مزید طاقت دے سکتا ہے۔

May 14, 2025 - Comments Off on Journalism Under Pressure in the Shadow of Big Tech – Hasna’s Battle for Truth by Bushra Sardar

Journalism Under Pressure in the Shadow of Big Tech – Hasna’s Battle for Truth by Bushra Sardar

 

◦ تعارف بگ ٹیک کیا ہے؟

ڈیجیٹل دور نے جہاں معلومات تک رسائی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنایا ہے، وہیں اس سہولت کے پسِ پردہ کئی پیچیدہ چیلنجز جنم لے چکے ہیں، جن میں سب سے بڑا چیلنج آزاد صحافت پر بگ ٹیک کمپنیوں کا بڑھتا ہوا کنٹرول ہے۔ گوگل، میٹا، ایکس ( ٹوئٹر) اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز اب نہ صرف معلومات کی ترسیل کے راستے طے کرتے ہیں بلکہ یہ بھی فیصلہ کرتے ہیں کہ کس خبر کو دنیا کے سامنے لایا جائے اور کسے پسِ پشت ڈال دیا جائے۔ ان پلیٹ فارمز کے الگورتھمز اکثر سنسنی خیز، جذباتی اور تفریحی مواد کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ تحقیقاتی اور سنجیدہ صحافت کو نظر انداز یا محدود کر دیتے ہیں، جو صحافت کی روح کے خلاف ہے۔

◦ حسنہ کی کہانی سچ کی قیمت

تحقیقاتی صحافی "حسنہ" (فرضی نام) کی کہانی اس نئی ڈیجیٹل حقیقت کا عملی ثبوت ہے۔ حسنہ ایک محنتی اور باہمت صحافی تھی جو بگ ٹیک پلیٹ فارمز پر غلط معلومات اور سنسر شپ کے اثرات پر گہرائی سے تحقیق کر رہی تھی۔ کئی مہینوں کی محنت کے بعد اس نے ایک جامع رپورٹ تیار کی، جس میں واضح کیا گیا کہ یہ بڑی ٹیک کمپنیاں کیسے مخصوص خبروں کو دبانے، سچ کو مسخ کرنے، اور آزاد صحافت کو کنٹرول کرنے میں ملوث ہیں۔ لیکن جیسے ہی وہ اپنی رپورٹ شائع کرنے کے قریب پہنچی، اسے ایک پراسرار ای میل موصول ہوئی:’’یہ رپورٹ شائع کرنے سے پہلے ایک بار سوچ لیں‘‘۔یہ دھمکی تھی یا مشورہ؟ وہ خود بھی اس وقت تک نہیں جانتی تھی۔حسنہ نے خوف کے بجائے سچ کا ساتھ دیا اور رپورٹ شائع کر دی۔ لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ ایک ڈیجیٹل حملے سے کم نہ تھا: اس کی سوشل میڈیا پوسٹس غائب ہونے لگیں، اس کا اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا۔یہ وہ مقام تھا جہاں واضح ہو گیا کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نیا خطرہ ابھر رہا ہے — بگ ٹیک کا اختیار سچ کو خاموش کرنے لگا ہے۔اس ڈیجیٹل جبر کے باوجود، حسنہ نے ہار نہیں مانی۔ اس نے آزاد صحافت کے لیے آواز بلند رکھی، متبادل پلیٹ فارمز کا سہارا لیا، اور دوسرے صحافیوں کو بھی بیدار کرنے کی کوشش کی۔ اس کی جدوجہد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ آزادیٔ اظہار اور صحافت کی بقا کے لیے صرف سیاسی یا ریاستی سینسرشپ کو چیلنج کرنا کافی نہیں، بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے معاشی و ادارتی اثرورسوخ کو بھی سمجھنا اور اس کا احتساب کرنا ضروری ہے۔

◦ بگ ٹیک کا بڑھتا اثر: ماہرین کی نظر سے

    میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر /فائونڈر اسد بیگ نے کہا کہ بگ ٹیک کمپنیوں کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ آزاد صحافت کے لیے نئے اور پیچیدہ چیلنجز پیدا کر رہا ہے، جس میں سب سے اہم پہلو صحافتی اداروں کی مالی خودمختاری ہے۔ آج کے دور میں سینسرشپ صرف حکومتی دباؤ کے ذریعے نہیں، بلکہ آمدنی، رسائی اور الگورتھمز کے ذریعے کی جا رہی ہے، جہاں گوگل، میٹا اور دیگر پلیٹ فارمز مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ڈیجیٹل اشتہارات کی آمدنی تیزی سے بڑھ رہی ہے، لیکن اس کا 85 فیصد حصہ ان بڑی کمپنیوں کو جاتا ہے، جبکہ اصل صحافتی مواد تیار کرنے والے ادارے معمولی ریونیو پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ اسد بیگ کے مطابق، پاکستان میں میڈیا کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ پیمرا کا ناقص ڈھانچہ ہے جو میڈیا کو ترقی سے روکتا ہے اور مواد پر اثرانداز ہونے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ روایتی ٹی وی اشتہارات میں کمی، سبسکرپشن ماڈلز کی عدم موجودگی، اور ڈی ٹی ایچ کی غیر موجودگی نے میڈیا ہاؤسز کو کمزور کر دیا ہے، جبکہ کیبل آپریٹرز ایک متوازی معیشت چلا رہے ہیں جو اصل مواد تخلیق کرنے والوں سے کہیں زیادہ کمائی کر رہے ہیں۔ ٹی آر پی سسٹم میں شفافیت کی شدید کمی ہے، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے الگورتھمز صحافتی مواد کو کمزور کرتے ہیں، جیسا کہ خود میٹا نے اعتراف کیا ہے کہ وہ خبروں کو "ڈی پرائرٹائز" کرتا ہے۔ یوٹیوب پر سب سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والوں کی فہرست میں کوئی صحافتی ادارہ شامل نہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بگ ٹیک فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو کتنے پیسے ملیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آزاد صحافت نہ صرف متاثر ہو رہی ہے بلکہ اپنی بقا کے لیے لڑ رہی ہے۔ آج صحافت کا سامنا اس حقیقت سے ہے کہ پہلے حکومتیں اسے کنٹرول کرتی تھیں، اور اب یہ طاقت بگ ٹیک کے پاس چلی گئی ہے، جو نہ شفاف ہیں اور نہ ہی دنیا بھر میں صحافتی اداروں کے ساتھ کسی پالیسی یا فنڈنگ کے نظام میں سنجیدہ ہیں۔ جب گوگل جیسے پلیٹ فارمز خودکار AI سسٹمز کے ذریعے صحافتی مواد نکال کر صارفین کو پیش کرتے ہیں، تو وہ اس مواد کو تخلیق کرنے والے اداروں کو نظر انداز کرتے ہوئے خود مالی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا، آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے صرف اظہار رائے کی آزادی کافی نہیں، بلکہ میڈیا کی مالی پائیداری کو بھی بنیادی حق سمجھ کر قومی اور عالمی سطح پر پالیسی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

◦ تحقیقاتی صحافت اور شیڈو بیننگ: سعدیہ مظہر کا تجربہ

اسی طرح سعدیہ مظہر ایک صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ  ایکٹیوسٹ بھی ہیں اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے  کہتی ہیں کہ  مجھے ایسے حالات کا سامنا رہا ہے جہاں تحقیقاتی مواد، خاص طور پر وہ رپورٹس جو حکومتی احتساب، کرپشن یا انسانی حقوق سے متعلق تھیں، اپنی اہمیت اور بروقت ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پر اتنی مقبولیت حاصل نہیں کر سکیں جتنی انہیں کرنی چاہیے تھی۔ بعض اوقات ہماری پوسٹس کو شیڈو بین کر دیا گیا، بغیر کسی واضح وجہ کے فلیگ کر دیا گیا، یا ان کی رسائی کو محدود کر دیا گیا۔ اس قسم کی پابندیاں ہمارے کام کے اثر کو کم کر دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ خبریں جو عوامی اداروں کی کرپشن یا بنیادی سہولیات سے انکار کو بے نقاب کرتی تھیں، وہ ان کمیونٹیز تک نہ پہنچ سکیں جنہیں ان معلومات کی ضرورت تھی، جس سے احتساب کی کوششیں مزید مشکل ہو گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں عمومی پالیسی بیانات جاری تو کرتی ہیں، لیکن جب ان پالیسیوں پر عملدرآمد کی بات آتی ہے تو فیصلے مبہم اور غیر شفاف ہوتے ہیں۔ جب کوئی مواد ہٹایا جاتا ہے یا اکاؤنٹ پر پابندی لگتی ہے، تو اپیل کے باوجود اکثر کوئی واضح جواب نہیں دیا جاتا۔ صحافی، خاص طور پر خواتین، جب آن لائن ہراسانی کا نشانہ بنتی ہیں تو اکثر انہیں خودکار جوابات موصول ہوتے ہیں، حقیقی مدد نہیں ملتی۔ یہ تضادات ظاہر کرتے ہیں کہ بگ ٹیک کا نظام نہ صرف غیر شفاف ہے بلکہ آزادی صحافت کے تحفظ کے حوالے سے بھی بہت کمزور اور ناقص ہے۔انہو ں نے کہا کہ پاکستان میں جہاں مرکزی دھارے کا میڈیا سخت سنسرشپ کا شکار ہے، وہاں کئی آزاد صحافی اپنی بات کہنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن بگ ٹیک کے الگورتھم اکثر اہم مواد کو ترجیح نہیں دیتے، خاص طور پر اگر وہ مقامی زبانوں میں ہو یا اس میں حساس موضوعات شامل ہوں۔ خواتین صحافی، جو پہلے ہی صنفی تعصب اور ہراسانی کا سامنا کرتی ہیں، ان پلیٹ فارمز پر مزید غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔ موجودہ مواد کی نگرانی کی پالیسیز آزادی صحافت کو فروغ دینے کے بجائے اکثر ریاستی بیانیے کو بڑھاوا دیتی ہیں اور تنقیدی آوازوں کو خاموش کر دیتی ہیں، جس سے سچ کی جگہ ایک خطرناک خلا جنم لیتا ہے۔

◦ اخلاقی صحافت اور سوشل میڈیا پر جدوجہد: بشریٰ اقبال حسین کی کہانی

ایتھیکل جرنلزم ٹرینر اور محفوظ بچپن مہم کی روحِ رواں، بشریٰ اقبال حسین نے سوشل میڈیا پر درپیش مشکلات اور صحافتی ذمے داریوں کے تناظر میں اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ جب کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی، تو انہوں نے اس معاملے پر ٹوئٹر پر آواز بلند کی۔ تاہم، اس جرات مندانہ موقف کے نتیجے میں ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا۔ بعدازاں، ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن اور اس کی سربراہ نگہت داد کی مدد سے ان کا اکاؤنٹ بحال کروایا گیا۔

اسی نوعیت کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب انہوں نے فلسطینی بچوں سے متعلق ایک پوسٹ محفوظ بچپن کو فیس بک گروپ میں شیئر کیا ۔ فیس بک کی جانب سے انہیں اطلاع دی گئی کہ وہ فیک نیوز پھیلا رہی ہیں، حالانکہ وہ پوسٹ ایک معروف اور سینئر صحافی کی جانب سے تھی- بعد میں جب انہوں نے تفصیل سے چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ وہ مواد AI-generated تھا  بشریٰ کا کہنا تھا کہ"ہم میں سے اکثر انجانے میں ایسے مواد کو شیئر کر دیتے ہیں جو بظاہر مستند لگتا ہے، مگر وہ فیک ہوتا ہے۔

 اس لیے لازم ہے کہ کسی بھی پوسٹ کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی کراس چیکنگ ضرور کی جائے۔"انہوں نے خبردار کیا کہ غیر مستند مواد کی وجہ سے نہ صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم آپ کو وارننگ جاری کرتے ہیں، بلکہ بعض اوقات آپ کے صفحات کی ریچ کم کر دی جاتی ہے یا مکمل طور پر بند کر دیا جاتا ہے۔

ایتھیکل جرنلزم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بشریٰ نے کہا"اگر آپ کی معلومات تصدیق شدہ اور حقائق پر مبنی ہیں، تو چاہے کوئی آپ کو روکنے کی کوشش بھی کرے، وہ آسانی سے کامیاب نہیں ہو پائے گا، کیونکہ آپ اخلاقی بنیاد پر مضبوط ہوتے ہیں۔انہوں نے نوجوان صحافیوں اور کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز— جیسے کہ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور واٹس ایپ گروپس—کا دانشمندی سے استعمال کریں۔ تاہم، ان کا ماننا ہے کہ سب سے بہتر یہ ہے کہ صحافیوں اور کارکنوں کے پاس اپنی مستند ویب سائٹ ہو تاکہ ان کا مواد ان کے اپنے کنٹرول میں ہو۔ریچ اور سامعین تک رسائی کے حوالے سے انہوں نے محفوظ بچپن انسٹاگرام پیج کا تجربہ بھی بیان کیا۔ ان کا کہنا ہے

 ایک تربیتی ورکشاپ کے دوران، جہاں پچاس بچے موجود تھے، انہوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ ان کا پیج

 فالو کریں۔ وقتی طور پر فالورز کی تعداد بڑھی لیکن کچھ ہی دیر بعد وہ دوبارہ کم ہو گئی۔ان کا کہنا تھاکہ "میں پیڈ کمپین پر یقین نہیں رکھتی۔ اگر میرے کنٹینٹ میں جان ہے، تو لوگ خود بخود اسے فالو کریں گے۔"آخر میں انہوں نے بگ ٹیک کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کا تجربہ بتاتا ہے کہ مواد کا معیار اور عوامی مفاد سے جڑے موضوعات ہونے کے باوجود ان کے انسٹاگرام فالورز نہیں بڑھ رہے، جو کہ ایک طرح کی ڈیجیٹل ناانصافی ہے

آگے بڑھنے کا کیا حل ہے؟

◦ بگ ٹیک کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے رجحان کا توڑکرنے کے لیے چند بنیادی اقدامات

◦ ریگولیشن اور شفافیت

بگ ٹیک کمپنیوں کے لیے شفاف پالیسیوں اور اعتدال پسندی کے اصولوں پر عمل لازمی بنایا جائے۔

عالمی سطح پر آزادی اظہار اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے ایک مشترکہ ضابطہ تیار کیا جائے۔

◦ مقامی صحافت کی مالی معاونت

حکومتوں اور اداروں کو چاہیے کہ وہ اشتہاری آمدنی کا ایک معقول حصہ مقامی صحافتی اداروں کو فراہم کریں۔

◦ ڈیجیٹل خواندگی میں اضافہ

. عام صارفین کو تربیت دی جائے کہ وہ جعلی خبروں اور گمراہ کن معلومات کو پہچان سکیں۔

◦ متبادل پلیٹ فارمز کی ترقی

صحافیوں اور میڈیا اداروں کو چاہیے کہ وہ خود مختار ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تخلیق کریں تاکہ آزادانہ رپورٹنگ جاری رہ سکے۔

◦ سچ کی جدوجہد جاری ہے

بگ ٹیک کمپنیوں نے جہاں دنیا کو سہولت دی، وہیں آزادی صحافت کے لیے نئے خطرات بھی پیدا کیے۔

آج سنسر شپ صرف حکومتی سنسر شپ نہیں رہی، بلکہ ڈیجیٹل سنسر شپ الگورتھم شیڈو بیننگ اور مالی کنٹرول نے اسے مزید پیچیدہ اور مہلک بنا دیا ہے

مگر تاریخ گواہ ہے کہ سچ کی راہیں کبھی مکمل طور پر بند نہیں ہوتیں۔

صحافیوں، ایکٹیوسٹس اور باشعور شہریوں کی جدوجہد سے اندھیروں میں روشنی کی کرنیں پھوٹ سکتی ہیں۔

آزادی صحافت کوئی تحفہ نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے

اور یہ جدوجہد آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے

May 14, 2025 - Comments Off on Over 8 million women came online in 2024, GSMA Report

Over 8 million women came online in 2024, GSMA Report

In 2024, Pakistan witnessed a significant narrowing of its digital gender divide, with over 8 million women gaining internet access for the first time, according to the GSMA Mobile Gender Gap report released on Wednesday. This growth reflects ongoing efforts to increase women’s digital inclusion through targeted infrastructure expansion, affordability initiatives, and digital literacy programmes. While the gender gap in mobile internet usage still stands at 38%, the progress marks a substantial improvement from previous years. Experts attribute this trend to both private sector interventions and public policies aimed at empowering women digitally. However, the report also warns that affordability, social norms, and safety concerns continue to limit women’s full digital participation. Continued investment in equitable access, especially in rural areas, is essential to sustain this momentum and ensure that digital rights are equally accessible to all genders.

May 13, 2025 - Comments Off on April 2025 Newsletter: Digital Security Helpline Annual Report Launched!

April 2025 Newsletter: Digital Security Helpline Annual Report Launched!

     

DRF launched its annual flagship report for the Digital Security Helpline. This report marks a new chapter in the Helpline’s journey, transitioning to the Digital Security Helpline in order to cater to the current needs of our time, with an expanded scope of services and footprint that spans across the region.

Launched on International Girls in ICT Day, the report is also a fitting reminder of the Helpline’s objective to transform the digital realm into spaces that are safer for young girls and future generations. Read the press release here in English and in Urdu, and read the report here.

Detailed Breakdown of the Report:

Our Latest Research & Advocacy:

Five-Point Plan for an Inclusive WSIS+20 Review

DRF was part of a collective effort to recommend a Five-Point Plan to the WSIS+20 Review on meaningfully operationalising global digital governance and development goals—with transparency, inclusivity, and stakeholder engagement at the forefront. Read more here.

Safe Posting Tips for Journalists

The Digital Security Helpline produced a checklist for safe posting tips for journalists and media personnel, such as adding trigger warnings or reading Community Guidelines.

 

Reporting Harassment to the FIA

A clip from Pakistani drama ‘Meem se Mohabbat’ sparked an important conversation online, shedding light on cyber harassment, blackmailing & image-based abuse. The Digital Security Helpline highlighted the message in the clip, and shared some useful tips on reporting such crimes to the FIA to make survivors’ experience easier. Watch here.

 

Digital Rights Tracker Updates

Press Coverage:

Nighat Dad Talks About WhatsApp Hacking

Nighat Dad appeared on Bol News to discuss the prevalence of WhatsApp hacking, how to identify when your social media accounts have been compromised, and the importance of updating your software to protect against app vulnerabilities. Watch the entire segment here

Nighat Dad Shares Findings From Helpline Report

Nighat Dad appeared on Geo Pakistan to share major findings and recommendations from the Digital Security Helpline Annual Report. She emphasized the importance of accessibility and clarity for citizens to get legal redressal in cybercrime cases, and highlighted the importance of two-factor authentication for protecting against scams on WhatsApp. Watch the entire segment here.

Helpline Report Sheds Light on TFGBV Crisis

The Digital Security Helpline Annual Report’s figures on TFGBV were covered widely by news outlets, for example, in Dawn, Echoes Media, and Lub Azaad.

                 

DRF Condemns Violations of Privacy Rights in Police Raid

DRF strongly condemned the action of the Mustafabad Police in recording and sharing videos of young individuals after their arrest at a party. Read the statement here.

 

 

 

DRF was also mentioned in the following press coverage:

No. Media Outlet Date Title (with link)
1 24 News 7 April 2025 How to protect yourself from AI-based image blackmail: A guide for victims
2 CSOHate.Org 14 April 2025 Hindus in Pakistan Face Rising Online Hate and Disinformation
3 NetzPolitik.Org 21 April 2025 How activists want to bring Global Majority perspectives into EU tech policy
4 Minus News 24 April 2025 http://youtube.com/post/UgkxZGrUKovX6JIM4M-ga6iZtJ18aCHagdhL?si=kANnlKWmt9ygV56k
5 Samaa TV 24 April 2025 سائبر ہراسمنٹ خصوصاً امیج بیسڈ ایبیوز کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ
6 Dawn 24 April 2025 3,171 complaints of tech-facilitated gender-based violence reported in 2024: DRF
7 Hum English 24 April 2025 DRF records over 20,000 cases of online gender-based violence
8 Tech Juice 25 April 2025 Online Abuse Surges in Pakistan: 3,000+ Complaints in 2024 Target Women and Minors
9 Tech Juice 25 April 2025 Instagram Phishing Scam Hits Pakistan: Here's How to Spot It
9 The Reporters PK 26 April 2025 Pakistan’s Alarming Rise in Online Gender-Based Violence in 2024
10 Tribune 27 April 2025 Tech-facilitated GBV

 

Events:

Gender-sensitive and inclusive reporting training workshop

DRF, in collaboration with its consortium partners—the Pakistan Press Foundation and Tribal News Network—conducted a one-day training workshop in Karachi focused on gender-sensitive and inclusive reporting. Participants included representatives from rural media outlets across all four provinces. The training also featured sessions on digital safety and workplace safety policies.

Participated in a workshop on media freedom and journalist safety

DRF participated in a capacity-building workshop organized by the Parliamentarians Commission for Human Rights (PCHR) and Media Matters for Democracy (MMfD) on media freedoms and journalists’ safety on digitization of threats and crimes against journalists’ documentation system. 

 

Tip of the Month:

Stay Safe, Stay Smart: Best Practices for Everyday Digital Safety

  • Use Strong, Unique Passwords – Avoid reusing passwords across accounts. Consider a password manager.
  • Enable Two-Factor Authentication (2FA) – Add an extra layer of security to important accounts.
  • Keep Software Up to Date – Apply updates to your devices and apps to patch security vulnerabilities.
  • Watch for Phishing – Be skeptical of unsolicited emails or links, especially those requesting personal information.
  • Secure Your Wi-Fi – Use a strong password and avoid using public Wi-Fi for sensitive transactions.
  • Backup Your Data – Regularly backup important files to secure cloud or external storage.

DRF Resources:

Digital Security Helpline: 

The Digital Security Helpline received 266 complaints in April 2025, of which 227 (85%) were related to cyber harassment.

The Helpline also issued a scam alert for phishing on Instagram, with details about how the scam operates, what to do if you click the link, and how to protect yourself from phishing attacks.

If you’re encountering a problem online, you can reach out to our helpline at 0800-39393, email us at helpdesk@digitalrightsfoundation.pk or reach out to us on our social media accounts. We’re available for assistance from 9 AM to 5 PM, Monday to Sunday.

IWF Portal

www.report.iwf.org.uk/pk 

StopNCII.org

https://stopncii.org/

May 13, 2025 - Comments Off on Pakistani actors digitally erased from Bollywood promotional content

Pakistani actors digitally erased from Bollywood promotional content

Pakistani actors have reportedly been removed from Bollywood film posters and promotional content on Indian streaming platforms. The move appears to be part of a broader digital cultural boycott amid deteriorating diplomatic relations. Platforms including Netflix India and Amazon Prime Video have edited visuals to exclude Pakistani talent, further erasing cross-border collaboration from the public eye. Critics argue this digitally enforced erasure not only undermines artistic freedom but also feeds into divisive nationalist sentiment, weaponising culture in a digital propaganda war.

 

May 12, 2025 - Comments Off on Indian official faces online harassment after ceasefire

Indian official faces online harassment after ceasefire

India’s Foreign Secretary Vikram Misri, who announced the ceasefire with Pakistan, became the target of online harassment and nationalist trolling. The backlash included coordinated attacks on social media, questioning the government’s decision to pursue peace. Analysts have flagged the trend of digital mobs targeting policymakers for perceived ‘weakness’, highlighting how toxic digital discourse can shape diplomatic outcomes. The harassment reflects a polarised digital landscape in India, where constructive engagement is often drowned out by ideological extremism amplified through social media platforms.

Misri has since made his X account private, with Indian MP John Brittas urging India’s Home Minister to investigate the cyber attacks targeting the Foreign Secretary and his family.

May 11, 2025 - Comments Off on TikToker sentenced to death in murder case

TikToker sentenced to death in murder case

A TikTok content creator has been sentenced to death by an anti-terrorism court in Faisalabad for his role in a fatal shooting incident. The case, which dates back to 2022, involved the murder of another content creator during the filming of a video. The court deemed the act premeditated and linked it to the pursuit of online fame and visibility. The sentencing has ignited debate around the regulation of content creation and the psychological and legal implications of online competition in Pakistan’s influencer economy.