December 1, 2025 - Comments Off on ڈیجیٹل میڈیا میں خواجہ سراؤں کے حقوق،مسلسل چیلنجز اور نظر اندازی

ڈیجیٹل میڈیا میں خواجہ سراؤں کے حقوق،مسلسل چیلنجز اور نظر اندازی

Mehreen Khalid 

"لوگ ہمیں صرف خواجہ سرا سمجھ کر ہر حد عبور کرنے کا حق اپنے پاس سمجھتے ہیں، حالانکہ ہم بھی اس معاشرے کے دوسرے افراد کی طرح انسان ہیں۔"

 یہ کہنا ہے

ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ خواجہ سرا نگینہ کا انہوں نے سوشل میڈیا کا استعمال اس لیے چھوڑ دیا کہ وہاں انہیں مسلسل ذہنی ہراسانی کا سامنا رہتا تھا۔ اگر سوشل میڈیا پر کوئی تصویر شئیر کرتے تو لوگ مذاق اڑاتے فحش میسجز بھیجتے، نمبر مانگتے اور مختلف طریقوں سے جنسی تعلقات کا مطالبہ کرتے تھے۔ وہ کہتی ہیں، لوگ ہمیں صرف خواجہ سرا سمجھ کر ہر حد عبور کرنے کا حق اپنے پاس سمجھتے ہیں، حالانکہ ہم بھی اس معاشرے کے دوسرے افراد کی طرح انسان ہیں۔

نگینہ کے مطابق ان کی کئی ساتھی اب صرف واٹس ایپ تک محدود ہو گئی ہیں کیونکہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خواجہ سراؤں کے لیے محفوظ نہیں رہے۔

نگینہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے تقریبات اور فنکشنز میں ڈانس کرتی ہیں، مگر اکثر افراد انہیں آرٹسٹ کے بجائے غیر اخلاقی خواہشات پوری کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

فنکشن میں انعام دینا اور صبح ہمارے ڈیرے پر آکر جنسی تعلقات کا مطالبہ کرنا ہمارے لیے معمول بن چکا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی بھی پیشہ ہمارے لیے محفوظ نہیں رہا۔

ایک سال قبل پیش آنے والے دل خراش واقعے کو یاد کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ فنکشن سے واپسی پر دس افراد نے انہیں گھیر کر موبائل چھین لیا، کپڑے پھاڑ دیے اور باری باری جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ نگینہ کہتی ہے کہ اس لمحے دل چاہتا تھا زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔

نگینہ کے مطابق عام شہریوں کے ساتھ ایسے واقعات پیش آئیں تو ان کی شکایت درج کی جاتی ہے، تاہم خواجہ سراؤں کے معاملے میں پولیس اکثر سنجیدگی دکھانے کے بجائے الٹا الزامات عائد کرتی ہے۔

"معاشرہ ہمیں ایک انسان کے طور پر تسلیم کرنے کے بجائے ہماری شناخت کو ہمارے خلاف استعمال کرتا ہے۔"

منزل فاؤنڈیشن کی سربراہ اور خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے سرگرم سماجی کارکن، آرزو خان، کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خواجہ سراؤں کے لیے انتہائی غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ آن لائن ہراسانی، نفرت انگیز کمنٹس، بلیک میلنگ اور فیک اکاؤنٹس کے ذریعے فراڈ معمول بن چکا ہے۔ کئی خواجہ سرا واٹس ایپ تک محدود ہو گئی ہیں کیونکہ فیس بک، ٹک ٹاک یا انسٹاگرام پر ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہی گینگز اور عام صارفین کی طرف سے گالی گلوچ، دھمکیاں اور جنسی مطالبات شروع ہو جاتے ہیں۔ بعض کیسز میں گن پوائنٹ پر نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میلنگ بھی کی جاتی ہے، جنہیں بعد میں وائرل کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔

حالیہ مہینوں میں متعدد معروف خواجہ سرا جیسے ڈولفن آیان، علی کوکو، ارمان، غزل اور نینا اس سے متاثر ہو چکی ہیں، جن کی نازیبا ویڈیوز لیک ہوئیں اور سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق گینگز نہ صرف آن لائن ہراسانی کرتے ہیں بلکہ مختلف افراد کو خواجہ سراؤں کے پیچھے لگا کر تشدد، جنسی زیادتی اور بلیک میلنگ میں بھی ملوث ہیں۔

آرزو خان کے مطابق اس سال خواجہ سراؤں کے 35 مختلف نوعیت کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں تقریباً 10 کیسز پولیس اور ایف آئی اے کے زیرِ کارروائی تھے۔

فیک اکاؤنٹس کا مسئلہ بھی بڑھ رہا ہے۔ کئی خواجہ سرا جیسے لائبہ نایاب، گڑیا، آذان اور یہاں تک کہ آرزو خان کے نام سے بھی جعلی اکاؤنٹس بنا کر عوام سے پیسے بٹورے گئے۔ بعض کیسز میں متاثرہ خواجہ سرا پر الٹا تشدد کیا گیا کہ تم نے ہم سے آن لائن پیسے لیے۔ کئی خواجہ سرا اس خوف سے ضلع بدر ہو چکی ہیں۔

آرزو خان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہراسانی یا بلیک میلنگ کی شکایات پر نہ پولیس ایکشن لیتی ہے، نہ ایف آئی اے مؤثر کارروائی کرتی ہے۔ این سی ایچ آر کی شکایات کے جوابات اکثر اتنی تاخیر سے آتے ہیں کہ کیس ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اداروں کی عدم سنجیدگی کی وجہ سے یہ جرائم بڑھتے جا رہے ہیں۔

آرزو خان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی ہراسانی کے خاتمے کے لیے ایف آئی اے، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں میں فوری اور مؤثر پالیسی اپنائی جائے۔ خواجہ سراؤں کو آن لائن ہراسانی سے بچاؤ کی تربیت فراہم کی جائے اور تھانوں، اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر عوامی مقامات پر آگاہی مواد آویزاں کیا جائے۔ آرزو خان کے مطابق، جب خواجہ سرا جرائم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو ان کے خلاف دھمکی آمیز ویڈیوز بنائی جاتی ہیں اور اداروں کی خاموشی مجرموں کے حوصلے مزید بڑھا دیتی ہے۔

فرزانہ ریاض، صدر ٹرانس ایکشن الائنس، نہ صرف خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی ہیں بلکہ انہیں تعلیم، ہنر اور قانونی معاونت بھی مہیا کرتی ہیں۔ ان کے مطابق پچھلے 10 سال کے دوران خیبرپختونخوا میں خواجہ سراؤں کے خلاف ریپ، بھتہ خوری، ضلع بدری اور دیگر جسمانی تشدد کے 3,000 سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

فرزانہ ریاض کے مطابق پچھلے دس سال کے دوران صوبے میں 157 خواجہ سراؤں کو قتل کیا جا چکا ہے، اور رواں سال یہ وارداتیں مزید شدت اختیار کر گئی ہیں۔

تاہم خیبر پختونخوا پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق، اس سال کے پہلے سات ماہ میں 15 خواجہ سراؤں کے قتل کے کیسز درج ہوئے ہیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

گڑیا، جو پشاور سے تعلق رکھتی ہیں، نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ان کے نام سے جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے تھے، جن کے ذریعے لوگوں سے پیسے لیے گئے اور بعد میں انہیں شدید دھمکیاں دی گئیں۔ دھمکیاں دینے والے افراد نے ان کا پیچھا کیا، لوکیشن ٹریکنگ کی، پروگرامز میں تنگ کیا اور موبائل کے ذریعے بھی دھمکیاں دی گئیں۔ حالات اتنے سنگین ہو گئے کہ یہ لوگ بالآخر گڑیا کے ڈیرے تک پہنچ گئے، جس سے نہ صرف وہ بلکہ ان کے ساتھی بھی شدید پریشان ہو گئے۔

شدید خوف اور اپنی حفاظت کے لیے گڑیا کو ضلع بدر ہونا پڑا پہلے کوئٹہ اور بعد میں مانسہرہ منتقل ہوئیں۔ گڑیا کے مطابق یہ مسئلہ نہ صرف ان کے ساتھ بلکہ دیگر خواجہ سراؤں کے ساتھ بھی عام ہے۔ جب خواجہ سرا سوشل میڈیا پر اکاؤنٹس بناتی ہیں، ان کی ذاتی معلومات کا غلط استعمال کر کے فیک اکاؤنٹس بنائے جاتے ہیں اور ان پیسوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور بعد میں پیسے بھیجنے والے لوگ ہمیں دھمکیاں اور بلیک میل کرتے ہیں۔

لیکن اب گڑیا اپنے اکاؤنٹس کے لیے منفرد کوڈ استعمال کرتی ہیں تاکہ جعلی اکاؤنٹس کی نشاندہی کی جا سکے اور ڈیجیٹل فراڈ سے محفوظ رہ سکیں۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بلو وین کے پروگرام مینجر قمرنسیم کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی موجودہ پالیسیاں بظاہر پرائیویسی اور حفاظت کا دعویٰ تو کرتی ہیں، لیکن عملی طور پر ٹرانسجنڈر افراد کے لیے کافی مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔ رپورٹنگ میکانزم اکثر سست اور غیر مؤثر ہوتا ہے، جبکہ غلط جنس کے تعین، آؤٹنگ، اور نفرت انگیز مواد کئی بار الگورتھمز کی نظر سے بچ جاتا ہے، جس کی وجہ سے ٹرانس کمیونٹی کو بروقت تحفظ نہیں مل پاتا۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پلیٹ فارمز غیر رضامندی سے شیئر ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز کے خلاف زیرو ٹولرنس پالیسی اپنائیں، آؤٹنگ کو واضح طور پر ہراسانی کے زمرے میں شامل کریں، ویڈیوز اور تصویروں کی شیئرنگ یا ڈاؤن لوڈ روکنے کے مضبوط فیچرز متعارف کروائیں اور ٹرانس کمیونٹی کی شکایات دیکھنے کے لیے مخصوص تربیت یافتہ ٹیمیں تشکیل دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، پرائیویسی اور ڈیٹا پروٹیکشن کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے صارفین کو اپنی پروفائل، فرینڈ لسٹ، تصاویر اور لوکیشن تک رسائی کے بارے میں زیادہ کنٹرول دینا چاہیے، حساس کمیونٹیز کے لیے خصوصی “سیف موڈ” جیسی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں اور اکاؤنٹ سیکیورٹی جیسے ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن کو مزید آسان اور موثر بنایا جانا چاہیے۔

قمر نسیم کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نفرت انگیزی اور ہراسانی کے خلاف اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز پر سخت اور مستقل عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔ اس میں فوری کارروائی، مسلسل نگرانی، اور بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے تعلیمی نوٹس یا وارننگ سسٹم شامل ہونا چاہیے۔ اگرچہ AI اور پلیٹ فارم الگورتھمز کچھ نفرت انگیز مواد کو پہچان لیتے ہیں، لیکن اردو، رومن اردو اور مقامی زبانوں میں ٹرانسفوبک مواد اکثر ان کی شناخت سے بچ جاتا ہے۔ اسی طرح، الگورتھمز میں موجود تعصبات بھی ٹرانس کمیونٹی کے خلاف مواد کو درست طور پر فلٹر ہونے سے روکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ AI سسٹمز کو مقامی زبانوں کے بہتر ڈیٹا، ثقافتی سمجھ اور ٹرانس کمیونٹی کی براہ راست رہنمائی کے ساتھ تربیت دی جائے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ حکومت، ایف آئی اے اور سوشل میڈیا کمپنیاں مل کر ٹرانسجنڈر افراد کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کر سکتی ہیں، جن میں ٹرانس افراد کے تحفظ کے لیے واضح قانون سازی، ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں خصوصی تربیت یافتہ اہلکار، تیز رفتار شکایتی نظام، مؤثر ڈیٹا شیئرنگ، اور آن لائن بلیک میلنگ یا ہراسانی کے خلاف فوری کارروائی شامل ہیں۔ مستقبل میں ٹرانس کمیونٹی کے لیے سوشل میڈیا کو زیادہ محفوظ اور بااختیار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں پالیسی سازی اور مشاورت میں شامل کیا جائے، پلیٹ فارمز پر اضافی سیفٹی فیچرز جیسے بلاک، سیفٹی موڈ، اور آسان ویریفیکیشن متعارف کیے جائیں، اور پاکستان میں مقامی سطح پر ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیمیں قائم کی جائیں تاکہ ٹرانس کمیونٹی کی مخصوص ضروریات کو بہتر طریقے سے سمجھا جا سکے اور بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔

Published by: Digital Rights Foundation in Digital 50.50, Feminist e-magazine

Comments are closed.