December 1, 2025 - Comments Off on اگر وہ ایسی ویڈیوز نہ بناتی تو ایسے جنونی لوگ اس تک پہنچ نہ پاتے
اگر وہ ایسی ویڈیوز نہ بناتی تو ایسے جنونی لوگ اس تک پہنچ نہ پاتے
" اگر مقتولہ کے والدین اپنی بیٹی کو اتنی آزادی نہ دیتے تو یہ واقعہ رونما نہ ہوتا، شریعت کے مطابق اپنے ہی گھر میں سکونت پذیر ہوتی تو اس کو کسی بھی نامحرم کی نظر نہ لگتی۔ اسلام میں جو محرم اور نامحرم کے درمیان پردے کا تصور ہے وہ عورت کے تحفظ اور عزت کے لیے ہے اور جب عورت ان دونوں سے آزاد ہوگئی تو اس کی زندگی اور عزت دونوں غیر محفوظ ہوگئی۔ مرنے والی ہزاروں مردوں سے باتیں کرکے تسکین حاصل کرلیتی تھی اگر وہ ایسی ویڈیوز نہ بناتی تو ایسے جنونی لوگ اس تک پہنچ نہ پاتے" یہ اور اس جیسے کئی جملے تب سوشل میڈیا کی زینت بنے جب معروف ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو اسلام آباد میں صرف اس لیے قتل کیا گیا کہ اس نے مارنے والے سے ملنے سے انکار کیا۔ پولیس کے مطابق ثنا یوسف کو رواں برس دو جون کو اسلام آباد کے سیکٹر جی 13 میں قتل کر دیا گیا تھا۔
اگرچہ ملزم نے اعتراف بھی کرلیا ہے کہ اس نے ملنے سے انکار کی وجہ سے ثنا یوسف کو قتل کیا لیکن سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس قتل کو جرم کی بجائے خواتین کی آزادی، مذہب اور سوشل میڈیا سے جوڑ دیا کہ اگر ثنا یوسف ویڈیوز اپلوڈ نہ کرتی تو ملزم اس کو نہ دیکھتا، اسکی طرف نہ بڑھتا اور اس کو قتل نہ کرتا۔
یہ قصہ صرف ثنا یوسف تک محدود نہیں ہے ہمارے معاشرے میں جب بھی کسی عورت کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے، اس کو مار دیا جاتا ہے یا اس کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو بعد میں قصور وار بھی اسی کو ٹھہرایا جاتا ہے کہ اس کی غلطی تھی اگر وہ ایسا نہ کرتی تو اس کے ساتھ ایسا نہ ہوتا، آزادی نے اس کا دماغ بگاڑ دیا تھا، وہ کیوں سوشل میڈیا پر آتی تھی؟ اس نے انکار کیوں کیا؟ اس نے آواز کیوں بلند کی؟ بے شرم بے حیا وغیرہ وغیرہ۔
ثنا یوسف کے بعد جب سامعہ حجاب کی ہراسگی کا کیس سامنے آیا تو بھی اس کوہی قصور وار ٹھہرایا گیا کہ اس کو مہنگا فون لے کردیا ہے، اس کے خرچے اٹھاتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ بلوچستان میں جب ایک خاتون کو سرعام گولی مار کر غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تو بھی اس کو قصور وار ٹھہرایا گیا کہ اس نے غلط کام کیا تھا جو اس کو موت کی جانب لے گیا۔
رات کو گھر سے باہر کیوں نکلی
اس معاشرے میں روزانہ کی بنیاد پر خواتین کو تشدد کانشانہ بنایا جاتا ہے، غیرت کے نام پر انکو قتل کردیا جاتا ہے، آن لائن ان کو ہراساں کیا جاتا ہے، گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن ملزمان کو سزا دینے کی بجائے ان خواتین کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ انہوں نے روایات کی پاسداری نہیں کی، رات کو گھر سے باہر کیوں نکلی، ویڈیوز کیوں اپلوڈ کی۔
خواتین کے خلاف تشدد میں اضافے کا احوال حالیہ اعدادو شمار سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ وزارت انسانی حقوق نےرواں ماہ نومبر میں قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ 2021 سے 2024 کے چار سالہ عرصے کے دوران ملک بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے 173,367 خطرناک کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ ہوشربا اعداد و شمار وزارت کی جانب سے سوال و جواب کے سیشن کے دوران پیش کیے گئے جس میں قتل، گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل، جنسی تشدد، ہراسانی اور اغوا کے واقعات کی تفصیلی جھلک پیش کی گئی۔
نیشنل پولیس بیورو کے زیر انتظام رجسٹرڈ کیسز کے اعداد و شمار کے مطابق چار سال کی اس مدت میں 5,948 قتل، 8,799 مار پیٹ اور 2,304 گھریلو تشدد کی دیگر اقسام کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ غیرت کے نام پر قتل کے زمرے میں 1,553 خواتین کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا، جبکہ اسی دوران 127 تیزاب پھینکنے (ایسڈ اٹیک) اور 300 چولہا جلانے کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔ سب سے زیادہ تشویشناک اعداد و شمار اغوا اور آپریشن کے زمرے سے سامنے آئے جہاں 89,599 کیسز رجسٹرڈ کیے گئے جبکہ 44,057 واقعات کو "تشدد کی دیگر اقسام” میں شامل کیا گیا۔
خواتین کی غلطی بھی گناہ سمجھی جاتی ہے
خیبرپختونخوا میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم نوشین فاطمہ کا کہنا ہے کہ اس معاشرے میں طاقت کا راج چلتا ہے، جو جنس جتنا طاقتور ہوتا ہے اتنا ہی اس کی بات مانی جاتی ہے۔ " نہ صرف آن لائن بلکہ عام زندگی میں بھی چاہے غلطی مرد کی ہو قصور وار عورت کو ہی ٹہھرایا جاتا ہے اسکی کو برا کہا جاتا ہے کیونکہ اس معاشرے میں مرد طاقتور اور خاتون کمزور ہیں، مرد کا گناہ بھی غلطی نہیں ہوتی، یہاں خواتین اور خواجہ سرا مرجنلائزڈ ہیں اس لیے انکی غلطی بھی گناہ سمجھی جاتی ہے"
نوشین فاطمہ بتاتی ہیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مردوں کی اجاہ داری ہے ایسے میں کیسے ہم کہہ سکتے ہیں سوشل میڈیا پر خواتین محفوظ ہیں۔ وہ بتاتی ہیں اس ملک میں پہلے سے خواتین مسائل میں گھری ہوئی ہیں لیکن سوشل میڈیا کے آنے سے انکی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، سوشل میڈیا پر خواتین کو طرح طرح سے ٹرول کیا جاتا ہے، ظلم اور زیادتی بھی انکے ساتھ ہوتی ہے اور قصور وار بھی انکو کہا جاتا ہے، دوسری طرف یہاں قانون کی بالادستی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں اگر کسی خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ بے راہ روی کا شکار تھی۔
خواتین دوسروں کی توجہ کے لیے سوشل میڈیا پر آتی ہیں
جب ایک خاتون خودمختار ہوتی ہیں یا معاشرے کے جو قاعدے ہیں حیا کے ان پر کوئی عورت پورا نہ اترتی ہو تو اس کو اگر کوئی مار بھی دے تو وہ جرم نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ مارنے والے نے اس عورت کو مزید بے حیائی سے بچالیا۔ نوشین فاطمہ کے مطابق آجکل زیادہ تر واقعات سوشل میڈیا پر وائرل ہوجاتے ہیں جس میں اسی خاتون کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے جس کے ساتھ ناانصافی ہوچکی ہوتی ہے، انہوں نے کہا لوگوں کی جو سوچ ہے اس سے انکو نہیں لگتا کہ ایسے واقعات میں کمی آسکتی ہے۔ " جو خواتین سوشل میڈیا پر آتی ہیں، پھر اگر وہ اپنی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کرتی ہو تو لوگ اس کو گناہ گار سمجھتے ہیں، ایسی خواتین کو بے حیا بولا جاتا ہے، عام لوگ یہی خیال کرتے ہیں کہ ایسی خواتین دوسروں کی توجہ کے لیے سوشل میڈیا پر آتی ہیں، یہی سب کچھ مرد بھی کرتے ہیں لیکن انکو برا نہیں سمجھا جاتا، میں کہتی ہوں اگر ایک کام غلط ہے تو پھر وہ سب کے لیے غلط ہے نہ کے کسی ایک جنس کے لیے، وہی بات آجاتی ہے کہ مرد طاقتور ہیں اور عورت کمزور ہیں" نوشین فاطمہ نے بتایا۔
نوشین فاطمہ بتاتی ہیں سماجی روئیوں کے ساتھ یہاں قوانین پر صحیح عمل درآمد نہ ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، باہر ممالک میں سوشل میڈیا پر خواتین کی ٹرولنگ کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا لیکن یہاں سائبر کرائم میں اگر کوئی خاتون اپنا مسئلہ لے کر چلی بھی جاتی ہے تو بھی مختلف حیلوں بہانوں سے اس کو ٹرخا دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر خواتین آن لائن ہراسمنٹ پر خاموشی اختیار کرلیتی ہیں یا سوشل میڈیا سے دور ہوجاتی ہیں۔
نوشین فاطمہ کے مطابق المیہ یہ ہے کہ جب کوئی خاتون دوسری خواتین کے لیے یا فرسودہ روایات جیسے سورہ وغیرہ کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں تو اس کو بھی آن لائن ٹرول کیا جاتا ہے۔ " میں جب سورہ اور باقی فرسودہ روایات پر بات کرتی ہوں تو نیچے کمنٹس نہیں پڑھتی کیونکہ وہاں میرے خلاف ایک محاذ کھڑا ہوجاتا ہے"
عورت اگر پڑھیں گی تو یہ اس کی سوچ میں خرابی لائیں گی
سابق بیورو کریٹ اور پالیسی ایکسپرٹ فوزیہ یزدانی نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صنفی برابری کا نہ ہونا صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ البتہ پاکستان میں صنفی برابری کے حوالے سے صورتحال باقی ممالک کی نسبت زیادہ ابتر ہے۔ پاکستان میں معاشرتی اقدار، مذہب کے نام پر، خاندانی روایات کے نام پر کہا جاتا ہے کہ عورت یہ کام نہیں کرسکتی، پھر عورت کے سر پر حیا، عزت کا تاج رکھ دیا جاتا ہے، پورے خاندان کی عزت عورت سے منسوب کردی جاتی ہے، پھر اسی عزت کے نام پر عورت کو قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے۔ " ہم نے یہاں سیٹ کردیا ہے کہ عورت ایک خاص لباس میں گھر سے نکلیں گی تو اس کا قصور ہے، عورت اس وقت پر گھر سے نکلیں گی تو اس کے ساتھ برا واقعہ پیش آئے گا، عورت اگر پڑھیں گی تو یہ اس کی سوچ میں خرابی لائیں گی، اس کی سوچ کی خرابی سے اس کے کردار میں خرابی آئیں گی اور وہ اخلاق باختہ ہوجائیں گی، پھر جو خواتین مردوں کے ساتھ ایک جگہ پر کام کرتی ہیں تو بھی اس کے کردار کو اچھالا جاتا ہے، جب ہم نے خواتین کو اتنا کمزور بنادیا ہے لوگوں کی سوچ سیٹ کردی ہے خواتین کے حوالے سے تو ظاہر سی بات ہے مورد الزام اسی کو ٹھہرایا جائے گا کیونکہ لوگوں کی ذہن سازی ہی ایسی ہوئی ہے"
وہ کیوں اس وقت سفر کررہی تھی؟
فوزیہ یزدانی نے موٹروے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا جب موٹروے پر ایک خاتون کا ریپ کیا گیا تو بھی اس کو مورد الزام ٹھہرایا گیا کہ وہ کیوں اس وقت سفر کررہی تھی، یہ اس معاشرے کی وہ سوچ ہے جس میں وہ ایک خاتون کو خودمختار نہیں دیکھ سکتی، عورتوں کے لیے اس معاشرے نے جو رولز سیٹ کیے ہیں اگر وہ اس سے باہر ہوتی ہیں اپنی مرضی کا کچھ کرتی ہیں تو بس پھر وہ قصور وار ہوجاتی ہیں۔
فوزیہ یزدانی نے کہا کہ معاشرے نے مرد اور خواتین کے لیے رولز سیٹ کیے ہیں کہ مرد باہر جاکر کمائے گا خواتین گھروں میں بیٹھ کر کھانا بنائیں گی بچے پالیں گی، مرد گھر کا کوئی بھی کام نہیں کرے گا کیونکہ وہ کماکر لاتا ہے اور خاتون کی ذمہ داری ہے وہ کہ گھر کا کام بھی کریں اور بچوں کا بھی خیال رکھیں پھر یہی سے گھریلو تشدد کا معاملہ بھی شروع ہوتا ہے، خاتون کو جب تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے کسی بات پر تو یہی کہا جاتا ہے کہ اسی نے مرد کو اس حد تک پہنچایا کہ اس نے اس پر تشدد کیا۔ اس معاشرے میں صنف کی بنیاد پر تشدد ازل سے موجود ہے جب سوشل میڈیا نے ترقی کی تو ہمارے ہاں بھی لوگوں نے سوشل میڈیا کا استعمال شروع کیا اور یوں صنفی تشدد نے ایک نیا رخ اختیار کیا کہ سوشل میڈیا پر خواتین کو ہراساں کیا جانے لگا، انکو برا بھلا کہنا شروع ہوا، اور ساتھ میں انکی کردار کشی شروع ہوئی، چاہے قصور وار مرد ہی کیوں نہ ہو۔
ڈیجیٹل وائلنس کی نا تو حکومت پرواہ کررہی ہیں اور نا ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اس جانب کوئی توجہ دے رہے ہیں، اکثر اوقات ہراسانی کے واقعات مقامی زبان میں پیش آتے ہیں تو فیس بک یا ٹوئٹر اس پر ایکشن نہیں لیتا۔ اس کے علاوہ پیکا ایکٹ کے تحت سوشل میڈیا اتھارٹی بننی تھی لیکن ابھی تک نہ بنی، اتھارٹی اگر بن جاتی تو شاید کچھ کیسز دیکھ لیتی لیکن وہ بھی نہ بن سکی، یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل وائلنس کے کسی بھی کیس میں سزا نہیں ملی کسی کو۔ جب تک سزا نہیں ملے گی تب تک ڈیجیٹل وائلنس میں کمی نہیں لائی جاسکتی، ایک اور بات جو بہت ضروری ہے کہ ڈیجیٹل وائلنس فزیکل میں تبدیل ہورہا ہے یہی ثنا یوسف کے کیس میں دیکھا گیا، اس لڑکے نے سوشل میڈیا پر اس سے رابطہ کیا، لیکن چونکہ ثنا یوسف نے انکار کیا تو اس سے برداشت نہ ہوا اور یوں ثنا یوسف قتل والا کیس سامنے آیا۔
عورت کو ہر حال میں صفائی پیش کرنی پڑتی ہے
سماجی کارکن نادیہ خان بتاتی ہیں بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جنسی ہراسگی یا تشدد کا شکار ہونے والی عورت ہی کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ ہماری خواتین روزانہ اس رویّے کا سامنا کرتی ہیں کہیں سوال اُن کے کردار پر اٹھائے جاتے ہیں، کہیں اُنہیں ہی ذمہ دار ٹھہرا کر اصل مجرم کو پس منظر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ صدیوں پرانی پدرشاہی سوچ کا نتیجہ ہے جس میں عورت کو ہر حال میں صفائی پیش کرنی پڑتی ہے، جبکہ ظلم کرنے والا بے خوف رہتا ہے۔
انہوں نے کہا وکٹم بلیمینگ نہ صرف ناانصافی کو بڑھاتی ہے بلکہ تشدد کو ایک نارمل عمل بنا دیتی ہے، جس کی وجہ سے عورتیں اپنی آواز بلند کرنے، واقعہ رپورٹ کرنے یا انصاف لینے سے ڈرنے لگتی ہیں۔ اس سے نہ صرف اصل مجرم چھپ جاتا ہے بلکہ معاشرہ مجموعی طور پر بے حس ہوجاتا ہے اور انصاف کے نظام پرعوام کا اعتماد بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔
نادیہ خان مزید بتاتی یہ مسئلہ ایک فرد تک محدود نہیں یہ وہ بوجھ ہے جو ہماری بہت سی خواتین ہر روز خاموشی سے اٹھاتی ہیں، بہت کم خواتین ایسی ہوتی ہیں جواس کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں کیونکہ انکو پتہ ہوتا ہے آواز اٹھانے سے انہیں کے کردار پرانگلی اٹھائی جائیں گی۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں جب بھی کوئی خاتون دوسری خاتون کے لیے آواز اٹھاتی ہیں تو اس کے آواز کو بھی دبانے کی کوشش کی جاتی ہیں، اس کے کردار پر بھی کیچڑاچالا جاتا ہے۔
" جب سامعہ حجاب کا کیس سامنے آیا تو ہر کوئی اس پر بات کرنے لگا، شروع میں تو لوگوں نے اس کے حق میں بات کی لیکن پھرلوگوں نے اس کے کردار پر ہی انگلی اٹھائی کہ اس کا اس لڑکے ساتھ تعلق تھا، وہ اس کو تحائف دیتا تھا وغیرہ وغیرہ، خواتین کو مورد الزام ٹھہرانا لوگوں کی عادت بن چکی ہے، لوگوں کی سوچ میں اس حوالے سے تبدیلی بہت ضروری ہے کیونکہ ظلم سہنے والی خواتین ایک تو تشدد اور زیادتی کا شکار ہوتی ہیں اوپر سے انکی کردار کشی انکی ذہنی صحت تباہ کردیتی ہے"
Published by: Digital Rights Foundation in Digital 50.50, Feminist e-magazine


Comments are closed.