June 25, 2025 - Comments Off on NAB uses AI to trace suspicious financial transactions
June 20, 2025 - Comments Off on IT Minister reaffirms government commitment to 5G rollout as mobile users cross 200m
IT Minister reaffirms government commitment to 5G rollout as mobile users cross 200m
The IT and Telecom Minister Shaza Fatima Khawaja on Thursday reaffirmed the government’s plans to launch 5G internet services in Pakistan. The plans had been in the pipeline for a while, but had run into some financial and infrastructural hurdles. Speaking at a recent ceremony commemorating a landmark 200m mobile users, including 150m broadband users and over 2m fibre-to-home subscribers, Khawaja announced that work on the 5G project was ongoing.
The event, which was organised by the Pakistan Telecommunication Authority (PTA) to mark Pakistan’s accelerating digital growth, was attended by senior members from Ufone, Jazz, Telenor, Zong, and SCO. As a celebration for this achievement, a mobile data and call minutes package offer was announced, which allows all mobile users to receive 2GB of free data and 200 on-net minutes, valid for 24 hours on Friday (June 20). Subscribers can activate the offer by dialing *2200#.
At the event, PTA officials also announced that Pakistan’s mobile internet gender gap was closing, with women now making up 38pc of mobile internet users, an increase from 25pc last year.
June 20, 2025 - Comments Off on ‘Online Hate, Violence, and Fear: The Struggle of Transgender Persons and Minorities for a Safe Life’ by Zunaira Rafi
‘Online Hate, Violence, and Fear: The Struggle of Transgender Persons and Minorities for a Safe Life’ by Zunaira Rafi
’’ ہم لوگ کسی مذہبی درسگاہ یا کسی مذہبی محفل میں بھی بیٹھ جائیں تو ہم پر ایسے فتوے لگائے جاتے ہیں۔ کہ عوام کا ایک گروہ ہمیں صرف کفن میں لپٹا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔‘‘
شہزادی رائے کراچی سے تعلق رکھنے والی خواجہ سرا ہیں۔ جنہوں نے صنفی تفریق کی وجہ سے آن لائن نفرت انگیز مواد اور مہمات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 2021 میں جب شریعت کورٹ میں ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ کو چیلنج کیا گیا، تو میں نے بطور ڈیفینڈر عدالت میں اس قانون کا دفاع کیا۔ میرا مؤقف مکمل طور پر آئینی اور قانونی بنیادوں پر مبنی تھا، لیکن اس کے ردِعمل میں سوشل میڈیا پر میرے خلاف ایک شدید اور منظم نفرت انگیز مہم کا آغاز ہوا۔
اس مہم میں مجھے محض ایک ڈیفینڈر کے طور پر نہیں بلکہ اسلام دشمن، "یہودی ایجنٹ" اور ملک مخالف عناصر کے طور پر پیش کیا گیا۔ جھوٹے اور من گھڑت الزامات لگائے گئے، میرے خاندان، ذاتی زندگی اور ماضی کو نشانہ بنایا گیا، اور میرے گھر کا پتہ تک سوشل میڈیا پر شائع کر دیا گیا۔ نتیجتاً شدت پسند افراد نے میرے گھر آ کر احتجاج کیا، دروازے پر ہنگامہ کیا، اور بار بار مجھے اور میرے اہلِ خانہ کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی۔ اس سے نہ صرف میری بلکہ میرے اہل خانہ کی بھی ذہنی حالت شدید متاثر ہوئی۔
میں نے متعدد بار پولیس میں شکایات درج کروائیں، ایف آئی آرز کٹوائیں، لیکن عملی تحفظ یا مکمل قانونی کارروائی نہ ہونے کے باعث یہ مہم رُکنے کی بجائے مزید بڑھتی گئی۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کچھ مشہور شخصیات نے بھی اس مہم میں حصہ لیا۔ اس کی وجہ سے یہ نفرت اب تک جاری ہے اور میری زندگی کے ہر پہلو پر سایہ فگن ہو چکی ہے۔ میری ذاتی معلومات، تصاویر، اور نجی لمحات کو بار بار سیاق و سباق سے ہٹا کر وائرل کیا جاتا ہے، اور انہیں جھوٹے بیانیے کے ساتھ پھیلایا جاتا ہے۔
میرے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ وہ تھا۔ جب ایک موقع پر میں "آج ٹی وی" کی رمضان ٹرانسمیشن میں بطور مہمان شریک ہوئی۔ اس کے بعد "ایکس" (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک منفی ٹرینڈ شروع ہوا جس میں کہا گیا کہ "شہزادی کو بلانا اسلام کی توہین ہے"۔ اتنا دباؤ ڈالا گیا کہ چینل نے نہ صرف میرے ساتھ معذرت کی، بلکہ میری تمام ویڈیوز سوشل میڈیا سے ہٹا دیں، اور یہاں تک کہ مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے بھی متعلقہ تصاویر اور مواد ڈیلیٹ کر دوں۔
یہ سب کچھ صرف ایک مرتبہ نہیں ہوا۔ ہر چند ہفتوں بعد میری کسی تصویر یا ویڈیو کو سیاق و سباق سے ہٹا کر ایک نئی نفرت انگیز مہم شروع کر دی جاتی ہے۔ منظم گروہ اور سوشل میڈیا "ٹیمز" جان بوجھ کر ان پوسٹس کو وائرل کرتے ہیں، اور جھوٹ اس شدت سے دہرایا جاتا ہے کہ وہ سچ محسوس ہونے لگتا ہے۔ ہم خواجہ سراوں کے لیے تو پہلے ہی یہ معاشرہ اتنا تنگ ہے۔ کہ شاید ہمارا سانس لینا بھی ان کے لیے توہین ثابت ہو جاتا ہے۔
مجھ پر کئیں بار جسمانی حملے ہو چکے ہیں، اور اب مجھے ہر قدم پر احتیاط برتنی پڑتی ہے۔ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے خوف کا عنصر مستقل موجود ہوتا ہے۔ ہم ایک جدید دور میں جی رہے ہیں، لیکن افسوس اس بات کا ہے۔ کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز آج تک اس قسم کی مہمات کو روکنے یا کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر نظام متعارف نہیں کر سکے۔
سوشل میڈیا کے فائدے ضرور ہیں، لیکن جب وہ نفرت، تشدد اور جھوٹ کو پھیلانے کا ذریعہ بن جائے، تو اس کے نقصانات ناقابلِ تلافی ہو جاتے ہیں۔ ایک جھوٹا ٹرینڈ کسی کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اور میری کہانی اس سچائی کی ایک زندہ مثال ہے۔
پاکستان میں خواجہ سرا (ٹرانس جینڈر) کمیونٹی کو مختلف سطحوں پر امتیازی سلوک، تشدد اور سماجی نظراندازی کا سامنا ہے۔
ہومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق، جنوری 2021 سے اگست 2023 کے درمیان تین صوبوں میں 72 تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں جنسی تشدد کے کیسز بھی شامل ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 2023 میں وفاقی شریعت کورٹ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کو اسلامی اصولوں کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔ ایمنسٹی نے اس فیصلے کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔
یہ رویہ محض صنفی شناخت تک محدود نہیں، پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو بھی اسی نوعیت کی منظم سوشل میڈیا مہمات، ساکھ کشی، اور سماجی تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ یہ نفرت نہ جانے کس کس بنیاد پر پنپتی ہے، ہمارے معاشرے میں عقیدہ، شناخت، اور پس منظر بھی وہ دیواریں بن چکے ہیں، جن کے پیچھے کئی سچ دبائے جاتے ہیں۔ ایسی بے شمار زندگیاں ہیں جو انہی دیواروں کے سائے میں جینے پر مجبور ہیں، جہاں صرف مذہب یا اقلیت ہونا ہی جرم بن جاتا ہے۔
اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی سارہ جوزف (فرضی نام) بھی کچھ ایسے ہی حالات سے دوچار ہیں۔ سارہ جوزف ایک آرٹسٹ ہیں۔ اور کبھی ایک سکول میں بطور آرٹ ٹیچر کام کرتی تھیں۔کہتی ہیں۔ کہ میرا تعلق اس شہر سے تھا۔ جہاں لوگ بظاہر تو روشن خیال ہیں، مگر دلوں میں اندھیرے چھپائے پھرتے ہیں۔ بچپن سے یہی سیکھا تھا کہ اپنا کام کرو، نظریں جھکا کر چلو، اور اپنے عقیدے کو کبھی زبان پر نہ لاؤ۔ مگر میں شاید اتنی سمجھدار نہیں تھیی۔ یا شاید دل کی آواز زیادہ زور سے سنائی دیتی تھی۔
وہ دن میری زندگی کا نقطۂ آغاز بھی تھا اور اختتام بھی، جب میں نے ایک آرٹ ورک سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ جس میں ایک چھوٹے سے بچے کا جنازہ تھا، مسلمان تھا وہ، مگر میرے لیے صرف ایک بچہ تھا۔ معصوم، بے قصور، بے آواز۔ میں نے اس کے چہرے پر روشنی بنائی، سفید چادر میں لپیٹا، اور نیچے لکھا تھا کہ "دکھ صرف انسانیت کا ہونا چاہیے، مذہب کا نہیں‘‘ اس کے ساتھ میں نے کیپشن میں اقلیتوں کے ہونے والے مظالم کا بھی زکر کیا تھا۔ ‘‘ میں نے سوچا تھا شاید یہ جملہ کسی کے دل کو چھو لے گا، اور وہ کیپشن کے جملے شاید میری اس مثبت پوسٹ کے ساتھ دوسروں کو ہمارا دکھ سمجھنے میں مدد دیں گے۔ لیکن میرے وہ جملے دل چھونے سے پہلے لوگوں کے دماغ کے اس حصے کو چھو گئے، جہاں صرف غصہ اور اقلیت کے لیے نفرت بھری پڑی تھی۔ جسے صرف ایک موقع چاہیے تھا۔ مجھے "کافر"، "غدار"، "مغرب زدہ"، "مسیحی فتنہ" کہا گیا۔ صرف الفاظ نہیں، میری زندگی کو نوچ لینے والے خنجر تھے۔
پہلے سوشل میڈیا پر غلیظ کمنٹس آئے، پھر میسجز میں دھمکیاں۔ اور جس اسکول میں آرٹ سیکھاتی تھی۔ وہاں کی کچھ سہیلیوں نے بھی مجھ سے منہ موڑ لیا۔ اور بجائے مجھے سمجھنے کے وہ چند لڑکیاں بھی میرے خلاف ہو گئی تھیں۔ کسی نے میرا پتہ لیک کر دیا، اسکول کا نام کسی نے کامنٹس میں لکھ دیا، میری ماں کی تصویریں، اور یہاں تک کے میرا نمبر بھی۔ آج تک اس اکاونٹ کا پتہ تو نہیں چلا سکی۔ ،گر اتنا یقین ہوگیا ہے۔ کہ اتنی معلومات فراہم کرنے والا وہ اکاونٹ کوئی اور نہیں کوئی بہت قریبی جاننے والا ہی ہے۔ سوشل میڈیا تک تو چیزیں برداشت کیں۔ اور سم بھی توڑ کر پھینک دی۔ بلاک کروا دی۔ مگر اس سارے ہنگامے کے دورام ایک دن کسی نے دروازے کے نیچے ایک رقعہ پھینکا، جس میں لکھا تھا کہ "اگر جینا ہے تو چپ رہ، ورنہ کفن تیار رکھ۔" میری ماں، جو پہلے ہی زندگی کی تلخیوں سے ٹوٹی ہوئی تھیں، بس خاموش ہو کر مجھے دیکھتی رہیں۔ میں نے آنکھوں میں ان کا وہی خوف دیکھا جو برسوں پہلے پاپا کے جنازے پر تھا۔ بے آواز، مگر چیختا ہوا خوف۔
میں نے اسکول جانا چھوڑ دیا۔ پرنسپل نے خود فون کیا اور نرمی سے کہا، "کچھ دن آرام کرو، سارہ، تمہاری حفاظت ہماری ذمے داری سے باہر ہے۔" میری حفاظت، مجھے لگا جیسے میں کوئی جرم ہوں جسے چھپانا پڑے۔ ان کا آرام کرنے کا مطلب یہ تھا کہ میں سکول چھوڑ دوں۔ میں نے ملک چھوڑنے کا سوچا۔ دبئی، سری لنکا، کہیں بھی، جہاں میری شناخت میرے گلے کا پھندا نہ بنے۔ لیکن پیسے نہیں تھے، ویزا نہیں ملا، اور سب سے بڑھ کر، میں ماں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی تھی۔
اس لیے میں نے اپنا شہر چھوڑ کر کسی او شہر میں پناہ لینے کا سوچا۔ ایک پرانے جاننے والے کی مدد سے ایک تنگ سا فلیٹ مل گیا۔ میں نے موبائل بند کر دیا، سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ کر دیے۔ میں نے خود کو دنیا سے کاٹ لیا۔ کیونکہ جب میں نے پاکستانی اقلیتوں کے ساتھ کسی بھی بات پر ہونے والے سلوک کے بارے میں سوچا تو میں واقعی خوف زدہ ہو گئی تھی۔ مجھے کمرے کی کھڑکیوں سے بھی خوف آنے لگا تھا۔ جس پر کئیں مہینوں تک پردے گرے رہتے تھے۔ اپنا شہر چھوڑ چکی تھی۔ وہ محلہ چھوڑ دیا تھا۔ جہاں جوانی گزاری تھی۔ خود کو سمجھاتی تھی کہ یہ دنیا میرے لیے شاید نہیں بنی۔ گھر میں قید ہو گئی تھی۔ جیسے کوئی اپنے زخم پر ملہم لگانے کے بجائے خود کو دفن کر دے۔ جب شہر چھوڑا، کئیں دنوں تک کسی سے بات نہیں کی، کھانا نہیں کھایا، سوئی نہیں۔ خود سے سوال کرتی رہتی تھی "کیا میں نے واقعی کچھ غلط کیا؟ کیا سچ کہنا جرم ہے؟ یا صرف میرا ہونا ہی کافی ہے مجرم ٹھہرنے کے لیے؟‘‘
برسوں گزر جانے کے بعد ایک دن پھر سے وہی تکلیف بہت شدت سے محسوس ہوئی۔ جب جڑانوالہ واقع کے بارے میں سنا۔ اس دن خود سے سوال کیا کہ "کیا میں واقعی ہار گئی ہوں؟" میں نے کینوس نکالا۔ ہاتھ کانپ رہے تھے، دل دھڑک رہا تھا جیسے میں کسی جرم کا ارادہ کر رہی ہوں۔ میں نے صرف ایک لفظ لکھا: "زندہ۔" اور پھر نیچے، "میں اب بھی زندہ ہوں۔" وہ پہلا لمحہ تھا جب میں نے سوچا کہ زندہ رہنا ضروری ہے۔ اپنے اور اپنوں کے لیے، اور یہی میری سب سے بڑی فتح ہے۔
سارہ کہتی ہیں کہ آج وہ کسی بڑے پلیٹ فارم پر نہیں ہیں۔ نہ ہی کوئی تقریر کرتی کرتی ہیں، اور نہ ہی کوئی انقلاب لانا چاہتی ہیں۔ کیونکہ یہ معاشرہ انقلابیوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ’’میں صرف کچھ بچوں کو آرٹ سکھاتی ہوں، رنگوں سے بات کرنا سکھاتی ہوں، کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ الفاظ اکثر ہار جاتے ہیں، مگر رنگ کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ میں نے سیکھا ہے کہ خاموشی صرف بچاؤ نہیں ہوتی، اکثر وہ سب سے خطرناک ہتھیار بن جاتی ہے۔ اگر میری آواز تمہیں ڈراتی ہے، تو شاید تمہارا یقین اتنا کمزور ہے کہ سچ برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘
واضح رہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی پامالی ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر بین الاقوامی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ اگرچہ حکومت نے بعض اقدامات کیے ہیں، لیکن عملی طور پر اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں ریاستی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔
ہیومن رائٹس واچ کی 2024 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان مذہب کی بے حرمتی کے قانون کی دفعات میں ترمیم یا انہیں منسوخ کرنے میں ناکام رہی ہے، جو مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے ساتھ ساتھ من مانی گرفتاریوں اور مقدمہ سازی کا بہانہ فراہم کرتی ہیں۔
خواجہ سراوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عائشہ مغل نے ڈی آر ایف سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، تو میں، مہرب، اور شہزادی، ہم تینوں نے اس قانون کا آئینی اور قانونی بنیادوں پر دفاع کیا۔ مگر بدلے میں ہمیں سوشل میڈیا پر بدترین حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
عائشہ کے مطابق، معروف شخصیات جیسے اوریا مقبول جان، ماریا بی، اور یوتھ کلب جیسے گروپس نے نہ صرف ان تینوں کو نشانہ بنایا بلکہ ان کے نام، تصاویر اور شناخت کو استعمال کر کے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے ویوز اور فالوورز حاصل کیے۔
عائشہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیں اس لیے چُنا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہم معاشرے میں کمزور ہیں، اور آسان ہدف ہیں۔ انہوں نے ہماری ذاتی معلومات پبلک کیں، جھوٹ اور مس انفارمیشن پھیلائی، اور ہمیں جان بوجھ کر خطرے میں ڈالا۔ یہ صرف نفرت کا معاملہ نہیں تھا۔ یہ مفاد کا کھیل تھا۔ عائشہ مزید بتاتی ہیں کہ انہیں آن لائن ٹرولنگ اور ذہنی دباؤ کی شدت کی وجہ سے ملک سے باہر جانا پڑا تاکہ وہ کچھ ذہنی سکون حاصل کر سکیں۔
’’بدقسمتی سے پاکستان میں خواجہ سرا افراد کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر ڈیجیٹل قوانین موجود نہیں۔ اور جو قوانین یا ادارے موجود بھی ہیں، وہ جب خواجہ سرا کی بات آتی ہے تو تقریباً مفلوج ہو جاتے ہیں۔‘‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخواہ میں 2015 سے 2023 کے درمیان 267 تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے صرف ایک کیس میں سزا ہوئی۔
یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے 2021 میں حکومت کو 2018 ٹرانس جینڈر پرسنز (تحفظ حقوق) ایکٹ کے مکمل نفاذ کی ہدایت کی تھی، لیکن عملی طور پر اس پر عمل درآمد میں کمی ہے۔
عائشہ کہتی ہیں کہ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے پاس سوموٹو لینے کا اختیار ہے۔ مگر جب ہم پر بدترین ٹرولنگ ہر رہی تھی۔ سوموٹو نہیں لیا گیا۔ اور ابھی بھی انہوں نے خواجہ سرا کمیونٹی کے خلاف جاری منظم نفرت انگیز مہمات پر کوئی مؤثر ایکشن نہیں لیا۔
عائشہ کا کہنا ہے کہ ہمیں صرف قانونی تحفظ نہیں، بلکہ سماجی شعور میں تبدیلی کی بھی اشد ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آگاہی پروگرامز اور ٹریننگز کا دائرہ وسیع کرے، تاکہ ہمیں بھی ایک مکمل انسان تسلیم کیا جائے۔ صنفی تفریق ختم کرنا صرف قانون کا کام نہیں۔ یہ معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے اسلام آباد میں حال ہی میں قتل ہونے والی ثنا یوسف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا آئی جی کی جانب سے اس واقعے پر ایک اہم بات کی کہ ہمارے معاشرے کو اپنی بیٹیوں، بہنوں، اور خواتین انفلوئینسرز کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ یہ جو ہر بات پر 'بے حیائی' کا لیبل لگا دیا جاتا ہے، یہی وہ سوچ ہے جو انسانیت کے قتل کی بنیاد بن رہی ہے۔ ہر فرد نے بے حیائی کی اپنی تعریف بنا رکھی ہے، اور جب تک ہم یہ سوچ نہیں بدلیں گے، تب تک تبدیلی ممکن نہیں۔
اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے صوفی چوہان کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے لیے پاکستان میں آن لائن موجودگی کسی آزادی سے زیادہ ایک خوف کا نام بن چکی ہے۔ جیسے ہی کوئی اقلیتی فرد سوشل میڈیا پر اپنی رائے دیتا ہے، اس پر کفر، غداری یا گستاخی کے الزامات لگا دیے جاتے ہیں۔ مذہبی شناخت کو نشانہ بنا کر ان کی ذاتی معلومات لیک کرنا، کردار کشی کرنا، اور ہراسانی کی مہمات چلانا معمول بنتا جا رہا ہے۔ نتیجتاً، بہت سے لوگ خاموشی یا خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
حقوقِ انسانی کے کارکنان کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین اقلیتوں کو سائبر حملوں سے بچانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ سائبر کرائم سے متعلق اداروں کی جانب سے کارروائی سست یا غیر مؤثر ہوتی ہے، خاص طور پر جب متاثرہ فرد اقلیتی برادری سے ہو۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اقلیتوں کے لیے ڈیجیٹل تحفظ کو ایک سنجیدہ مسئلہ سمجھے، مؤثر قانون سازی کرے، اور نفرت انگیزی پھیلانے والوں کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی کو یقینی بنائے۔
ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن کی سائبر ہراسمنٹ ہیلپ لائن کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق خواجہ سرا کمیونٹی کے خلاف منظم آن لائن نفرت انگیز مہمات دیکھی گئیں۔ تقریباً 1% شکایات خواجہ سراؤں کی طرف سے تھیں، جو شناخت پر مبنی حملوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ حملے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر منظم تھے، لیکن پلیٹ فارمز کی طرف سے ردعمل کی کمی یا ناکافی پالیسیز کے باعث مسائل کو حل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ مگر ہیلپ لائن کی جانب سے سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ رابطہ کر کے پاکستان کے تناظر اور اس سے ہونے والے نقصانات کی وضحات کی کوشش کی گئی۔
ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن نے اقلیتی برادریوں کے خلاف آن لائن نفرت انگیز تقریر اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خلاف بھی ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔ اس نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے ساتھ مل کر آن لائن غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات بھی تجویز کیے ہیں۔
پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن جیسے کئیں ادارے اقلیتوں، خواتین اور خواجہ سراوں کے تحفظ اور حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں۔ لیکن جب تک حکومت ان کو مکمل تحفظ نہیں فراہم کر سکے گی۔ قوانین کو لاگو نہیں کروا سکے گی۔ اس وقت تک اس طرح کے واقعات کو روکنا مشکل ہی نہیں۔ بلکہ ناممکن ہے۔ کیونکہ مزید قانونی اور سماجی اقدامات کی ضرورت ہے۔
June 20, 2025 - Comments Off on AI, Platform Profiteering Through Hate, and the Feminist Reckoning Pakistan Urgently Needs by Hija Kamran
AI, Platform Profiteering Through Hate, and the Feminist Reckoning Pakistan Urgently Needs by Hija Kamran
In early 2024, a viral video of senior PTI politician Muhammad Basharat Raja, seemingly announcing a boycott of the Pakistani general elections, made the rounds online. The video was AI-generated, crafted to mimic his voice and facial expressions. It was published in the heat of a volatile electoral cycle, already marked by digital repression, mass censorship and political manipulation. Similarly, in December 2023, a 4-minute AI-generated audio clip of PTI chairman and former Prime Minister Imran Khan, was shared and circulated widely by his party while he’s in prison, to communicate with the supporters during a “virtual rally” in the run-up to the elections. In another recent, more worrying instance, an AI-generated video of Chief Minister of Punjab Maryam Nawaz went viral, where she can be seen hugging UAE's Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan.
AI has actively been integrated in Pakistan’s political spaces – in attempts to spread disinformation against opponents or to communicate with party workers. This integration signals a new and dangerous terrain where artificial intelligence is not only reshaping public discourse, but actively contributing to political instability and hate in countries like Pakistan, where instability is all that’s been known.
Globally, AI systems are being deployed without safeguards, scrutiny, or consent, all under the false narrative of neutrality, that somehow a program trained on biased data will not be biased. The integration of AI bots into major tech and social platforms like Google, Meta, Twitter, TikTok, and Snapchat, is already facilitating a fresh wave of disinformation, hate speech, and harm. These harms are not incidental, but instead are deeply embedded in the design and incentives of these systems, which rely on algorithmic amplification, surveillance, and data extraction to keep users engaged and angry.
In Pakistan, the consequences are already visible. The deployment of AI-generated content is not simply a technological novelty; it is a political weapon. In a country with a documented history of disinformation being used to target dissidents, religious minorities, feminists, and gender diverse communities, AI further lowers the threshold for creating convincing fake content. Worse still, there is no effective regulatory framework to respond to these risks. The Prevention of Electronic Crimes Act (PECA), or the cybercrime law, was never designed to protect vulnerable groups. Instead, it has been weaponised to silence women’s rights activists, journalists and political opponents, leaving victims of online violence with little recourse. The law itself predates the widespread commercialisation of AI tools that can now generate realistic images and videos from a single photograph, leaving significant gaps in protection. The proposed National AI Policy acknowledges the growing commercial presence of AI tools but falls short of introducing any serious mechanisms to address the harms they are already enabling. While it is true that AI is developing faster than most regulators can respond, the real issue lies in the policy’s orientation. Rather than centring the rights, safety, and autonomy of users, it reflects a familiar pattern – governance shaped by corporate interest and state control, not by accountability or care. DRF, in its review of the draft policy, recommends, “An emphasis on non-discrimination through transparency, accountability, the ability to “opt-out” of AI-based decision making and grievance redressal mechanisms available to the public for the harmful, negligent or inappropriate use of AI,” which is paramount to any AI-focused policy to be successfully implemented.
Platforms continue to enable and benefit from these harms and gaps. Meta, for instance, has allowed coordinated disinformation campaigns to flourish, often failing to act on content that fuels religious hatred or incites violence. Earlier this year, Meta revised its hateful conduct policy to allow certain forms of gendered hate speech when framed as political or religious opinion. For example, it is now permitted on Meta platforms to use dehumanising pronouns like “it” for transgender people, or calling gender diverse people as mentally ill or abnormal. In addition, using insulting or exclusionary speech against people as long as it is being done in a political or religious context is also allowed. In a country like Pakistan, where religious bigotry and sectarianism already dominate political narratives, this move has disturbing implications.
Twitter, under Elon Musk, has seen a dramatic surge in hate speech. In the months after his takeover, the platform saw a 50% increase in hate speech. Accounts previously banned for harassment or incitement have been reinstated. Reporting mechanisms have been weakened, and policies appear to change at the whim of the owner. YouTube continues to host a wide range of violent, misogynistic, and conspiratorial content, much of which is available in Urdu and reaches large audiences with little moderation. The platform has faced almost no consequences, even as it profits from ad revenue on videos promoting gender-based violence, religious extremism, and political divide.
AI technologies, when embedded within these platforms, do not act independently of context. They are trained on the existing digital landscape, which is already saturated with colonial hierarchies, racial and gendered bias, and corporate surveillance. As Abeba Birhane, an Ethiopian cognitive scientist working at the intersection of complex adaptive systems, machine learning, algorithmic bias, and critical race studies, argues, AI systems are not simply biased due to bad data. They are reflective of social ecosystems that prioritise control, efficiency, and profit over justice, care, and equity. They do not operate in a vacuum. They reproduce and amplify the same structural inequalities that feminist movements have long fought to dismantle. She writes, “Unjust and harmful outcomes, as a result, are treated as side effects that can be treated with technical solutions such as “debiasing” datasets rather than problems that have deep roots in the mathematization of ambiguous and contingent issues, historical inequalities, and asymmetrical power hierarchies or unexamined problematic assumptions that infiltrate data practices.”
Nowhere is this more visible than in the rapid rise of non-consensual intimate imagery (NCII), particularly of women and gender minorities, produced using generative AI tools like Mr. Deepfake – an AI porn site that was recently taken down after a public investigation, explicitly publishing sexualised images of anyone, using stolen or publicly available photos. The platform hosted millions of such images, including those of minors, celebrities and regular people without their knowledge. Similar tools continue to exist across Telegram, Reddit, and now even in more closed networks. With the commercialisation of Generative AI tools with advanced technology to create hyper-realistic images and videos of anyone without the need of multiple images of their face, the physical, mental, and social consequences for victims are often devastating, especially in Pakistan, where family honour precedes lives.
The Digital Rights Foundation’s Cyber Harassment Helpline has documented an increase in such cases. Victims report being blackmailed with non-consensual intimate images, threats to safety, and persistent harassment. In Pakistan’s deeply patriarchal and religiously charged environment, the impact of such technologies cannot be overstated. These tools are not neutral, and are being weaponised in ways that deepen existing oppression.
Despite this, AI continues to be sold as a tool of convenience – it helps students write essays, plan dinners, and generate resumes. But these conveniences are not free. Every AI response costs energy and water. It is estimated that a 100-word ChatGPT-4 response consumes over 500 ml of water. Multiply that by millions of users and their hundreds of queries per day, and the environmental cost becomes staggering. The Global South will bear the brunt of this, as climate impacts intensify, despite contributing least to the crisis.
AI systems also depend on exploitative labour, much of it hidden. Large language models, or LLMs, are trained using data that includes the unpaid, uncredited work of writers, artists, activists, and researchers, most of whom never gave consent. To make it worse, many of the human workers who help clean up AI outputs, like removing violent content, flagging hate speech, and moderating abusive data, are outsourced in Kenya, the Philippines, and other parts of the Global South, where they are underpaid and traumatised with no recourse. This is not progress. This is extraction.
The irony is that these extractive systems are often justified using the language of progress and modernity. But whose progress is being advanced? And at what cost? In Pakistan, there is no public conversation about how AI should be governed. The state has shown more interest in banning platforms than in regulating them. PECA, the only existing legal framework to regulate online spaces, is largely punitive, and despite being only 9 years old, is already outdated thanks to fast-paced tech advancements in the past decade. It does not offer protection to those facing AI-enabled harm, rather protects perpetrators in many instances with provisions that criminalise disinformation that is often used against victims of gender based violence. It does not even recognise the concept of algorithmic bias, nor does it provide any tools to hold platforms accountable.
The result is a vacuum of responsibility, lack of transparency, no accountability, and a consistently growing number of cases of violence with no end in sight. When hate speech spreads or deepfakes go viral, victims have nowhere to turn. Platforms deny liability, and benefit from the high engagement this hateful content generates, which in turn brings more profit – reason why platforms like Facebook were found to be involved in inciting severe violence, including genocides, across the world, as they failed to control the dissemination of hateful content. Whereas, governments suppress speech instead of protecting it, as they continue to treat their own citizens as criminals who’d use civil liberties enshrined in the constitution and international human rights framework as their weapons. As a result, civil society and activists are left to pick up the pieces as they are targeted with baseless accusations, lack of funding, and intense scrutiny. In the meantime, the harms deepen, mutate, and multiply while victims and survivors continue to suffer the consequences of systemic failure.
The current trajectory that AI is being developed on is not unchangeable. It is shaped by choices made by companies, developers, regulators, and societies. But any reimagining of AI must begin with a confrontation of its harms, and must be done from an intersectional feminist lens that acknowledges the degrees and layers of societal marginalisation, its historic context and the future dilemmas. And we cannot build feminist technologies without dismantling the infrastructures that allow violence, hate, and exploitation to thrive. This requires recognising that AI, as it exists today, is not just a technical system based on some mathematics, coding and randomised data; rather, it is a political and economic project that serves the interests of a few, while exposing the many to risk.
In Pakistan, where the margins are already stretched thin, the stakes could not be higher. The gendered violence, digital repression, economic instability, growing political polarisation, and climate crisis, all converge to make AI a uniquely dangerous force. Its potential to amplify harm is unmatched, and its ability to do so quietly, invisibly, and at scale, makes it all the more insidious.
This is not a call for better AI, but a call to interrogate its foundations, to ask who benefits and who pays the price. To see AI not as a neutral advancement, but as part of a broader machinery of extraction, violence, control, and colonisation. As feminist and digital and human rights advocates, it is imperative for us to ask these questions, and to sustain that momentum that pushes for deeper structural change.
June 19, 2025 - Comments Off on ‘Digital Hate, Real Harm: The On-the-Ground Impact of Online Hate Against Afghan Refugees in Pakistan’ by Asma Kundi
‘Digital Hate, Real Harm: The On-the-Ground Impact of Online Hate Against Afghan Refugees in Pakistan’ by Asma Kundi
میری چھوٹی بہن صرف بارہ سال کی ہے۔ ہم نے کبھی سوچا نہ تھا کہ افغانستان چھوڑ کر پاکستان آنے کے بعد بھی زندگی مشکل ہی رہے گی، مگر یہاں آ کر اُسے احساس ہوا کہ صرف سرحد پار کرنے سے حالات نہیں بدلتے۔ ہم سات افراد ایک چھوٹے سے کمرے میں رہ رہے ہیں، جہاں کرایہ 2000 روپے فی رات ہے۔ کیا یہی وہ امید تھی جس کے ساتھ ہم اپنا ملک چھوڑ کر آئے تھے؟ صرف مالی مسائل نہیں ہیں آئے روز پولیس کی بدتمیزیاں اور عام لوگوں کی تمسخر اڑاتی نظریں ہمارا پیچھا کرتیں ہیں، یہ کہنا تھا بی بی مسکا، کا جو ایک افغان طالبہ ہے اور راولپنڈی میں پناہ گزین ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کچھ لوگ ہمیں پسند نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ ہم یہاں سے واپس چلے جائیں۔ مگر وہ نہیں جانتے کہ افغانستان میں ہم پر زندگی اور بھی تنگ ہو جائے گی۔
زکیہ، ایک افغان سوشل ایکٹیوسٹ جو اسلام آباد میں مقیم ہیں، بتاتی ہیں کہ انھوں نے سوچا تھا کہ پاکستان میں وہ لوگ محفوظ ہوں گے، لیکن سوشل میڈیا پر ہمیں مسلسل نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ نفرت آن لائن سے نکل کر ہمارے گھروں تک پہنچتی ہے۔ جب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مہاجرین کے بارے میں سخت پالیسیاں اپنائی ہیں ، پاکستان نے بھی اپنے روپئے سخت کر لئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب بھی دروازہ بجتا ہے ایک خوف کی لہر پورے وجود میں دوڑ جاتی ہے۔ کیونکہ آنے والا کوئی پولیس والا ہوتا ہے جو گھر کی چاردیواری کی حرمت نہیں جانتا۔ ملک بدر ہونے کا خوف اور ان پولیس والوں کی گندی نظریں اور چبھتے جملے ہماری بے بسی کے احساس میں اضافہ کردیتے ہیں۔
بی بی مسکا اور زکیہ کی طرح اور بہت سی افغان خواتین ہیں جو افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد پاکستان ہجرت کر کے اس امید پے آئیں کہ امریکہ، یورپ یا کسی اور ملک جا کر اپنی زندگی کی نئی شروعات کریں گی مگر دنیا نے ان سے نطریں پھیر لیں، امریکہ کی پالیسی میں تبدیلی کے بعد باقی یورپی ممالک نے بھی مائگریشن کا عمل بہت سست کر دیا۔ اب یہ افغانی باشندے پاکستان کے رحم و کرم پر چھوڑ دئیے گئے۔ مگر پاکستان نے ہمدردی دیکھانے کے بجائے دہائیوں سے یہاں مقیم لوگ جن کے پاس افغان کارڈز بھی تھے ان کو بھی اپنے ملک واپس بھیجنے کا حکم سنا دیا۔
اس حکم کے بعد بہت سی افغان خواتین جن میں سروری بھی ایسی ہی ایک افغان خاتون ہے جس نے اپنی زندگی میں طالبان کی سختیوں کا سامنا کیا، اب پاکستان میں بھی پرسکون زندگی گزارنے سے قاصر ہیں۔
ڈی آر ایف سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ، ’پولیس دو بار ہمارے گھر آ چکی ہے، صرف اس لیے کہ ہمارا ویزا ختم ہو چکا ہے۔ میں خوف میں جیتی ہوں، نہ گھر سے نکل سکتی ہوں، نہ کسی سے رابطہ کر سکتی ہوں۔‘
’میرے شوہر مجھ پر واپس افغانستان جانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، لیکن میں جانتی ہوں کہ وہاں میرا انجام کیا ہو گا۔جب پوچھا کہ شوہر کے دباؤ ڈالنے کی وجہ کیا ہے؟ کیا وہ پاکستان میں خوش نہیں تو ان کا کہنا کچھ یوں تھا، ’میرے شوہر کہتے ہیں کہ تم تو گھر میں ہوتی ہو میں باہر جاتا ہوں جہاں ہر وقت پولیس سے چھپتا ہوں اور چوروں کی طرح خود کو محسوس کرتا ہوں۔ سبزی کی دوکان پر بھی جاؤں تو لوگ پوچھتے ہیں کہ ابھی تک آپ لوگوں کو اپنے ملک واپس نہیں بھیجا، کچھ ہمدردی میں اور کچھ طنزیہ طور پر۔‘ وہ کہتے ہیں کہ اس زلت کی زندگی سے تو بہتر ہے کہ اپنے ملک میں ہم عزت سے مر جائیں، مگر اب بس واپس چلتے ہیں۔
سروری کا شوہر بھی ان لاکھوں افغانوں میں شامل ہے کہ بے عزتی اور نفرت کے خوف سے خود ملک چھوڑ جانا چاہتے ہیں۔
کئی افغان خواتین پاکستان میں نہ صرف مہاجر ہونے کے باعث بلکہ صنفی امتیاز کی وجہ سے بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ نرگس، جو افغانستان میں خواتین کے حقوق کی علمبردار تھیں، اب اسلام آباد میں اکیلی اور بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں چھاتی کے کینسر کی مریضہ ہوں۔پیسے نہ ہونے کی وجہ سے دوا نہیں ملتی۔ بیماری کی وجہ سے میرا شوہر مجھے چھوڑ چکا ہے۔ جن لوگوں پر میں بھروسہ کر کے پاکستان آئی تھی وہ لوگ ایک ایک کر کے میرا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور خاص طور پر عورت کی جان کی اگر وہ افغانی بھی ہو تو۔ میں خود کو ایک کھائی کے کنارے پر محسوس کرتی ہوں، نہ پیچھے جا سکتی ہوں، نہ آگے۔
یہ کہانیاں چیخ چیخ کے بتا رہی ہیں کہ کیسے انسانی ہمدردی کی مستحق خواتین مسلسل نفرت اور تعصب کا سامنا کر رہی ہیں۔ تحقیقات کے مطابق مسلسل نفرت اور تعصب کا سامنا انسان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ خاص طور پر مہاجرین، جو پہلے ہی جنگ، نقصان، اور ہجرت کے صدمے سے دوچار ہوتے ہیں، مزید نفسیاتی دباؤ میں چلے جاتے ہیں، جیسا کہ ہم نے ایک دو واقعات دیکھے جہاں افغان نوجوانوں نے زہنی دباؤ میں آکر اپنی جان بھی لے لی۔
افغان پناہ گزینوں کے خلاف پاکستان میں تعصب اور نفرت کی تاریخ پرانی ہے، اور اس کی جڑیں ہمارے دماغوں میں حکومت کر چکی ہیں اور کئ اداروں کی مدد سے گزشتہ کئی سالوں سے آہستہ آہستہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے زریعے جڑیں مظبوط بوئی ہیں۔ کہیں دہشت گرد حملہ ہو جائے تو زمہ داری سرحد پار سے آنے والے انتہا پسندوں پر لگا دی جاتی ہے، اسی طرح اگر شہر میں جرائم کا اضافہ ہو جائے تو الزام افغان شہریوں پر عائد کر دیا جاتا ہے اور حتی کہ ان کے آئی 9 سیکٹر میں واقع آبادیاں آپریشن کر کے گرا دی جاتیں ہیں۔
افغانستان میں دہائیوں سے جاری تنازعات کے نتیجے میں لاکھوں افغان شہری دنیا بھر میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں ، جن میں سے اکثریت اب بھی پاکستان میں مقیم ہیں۔ تاہم پاکستان کی حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی ’کریک ڈاؤن‘ پالیسی نے افغان مہاجرین کو ایک نئی انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔
صرف تین ماہ میں لاکھوں افغان مہاجرین کو زبردستی واپس طالبان کے زیرِ تسلط افغانستان بھیجا گیا — یہ ملک بدری کی تاریخ کا سب سے بڑا مرحلہ تھا۔اس مرحلے میں دیکھا گیا ہے کہ پاکستانی میڈیا میں افغان مہاجرین کی تصویرکشی ایک ’بحران‘ کے طور پر کی جاتی رہی۔ ایک ایسا ہنگامی اور ناقابلِ برداشت بوجھ جو ’ہم‘ پر پڑ رہا ہے۔ اس تصور کے تحت افغان مہاجرین کو ایک اور خطرہ دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو نہ صرف ریاست بلکہ عوام کے لیے بھی ناقابل قبول ہیں۔
چناچہ حکومتی اداروں کا آلہ کار بنا ہوا پاکستانی مرکزی میڈیا اس انسانی المیے پر تقریباً خاموش تماشائی بنا رہا اور صرف نمبر سناتا رہا کہ کتنے نکل گئے اور کتنے ابھی باقی ہیں۔
سوشل میڈیا پربھی افغان مہاجرین کو "دہشت گرد"، "غدار"، یا "معاشی بوجھ" قرار دیا جاتا رہا۔ اسی بیانیے کا اثر تھا جس نے زمین پر مہاجرین کے خلاف پالیسی فیصلوں کو جواز بھی فراہم کیا۔ پولیس کی جانب سے مہاجرین کو گرفتار کرنا، ان کے رجسٹریشن کارڈ پھاڑ دینا، اور حتیٰ کہ رشوت لے کر انھیں نکالنا یہ سب کچھ اس بیانیے کے زیر اثر انجام پا رہا ہے۔
یوکرین کی جنگ کے دوران مغربی میڈیا نے وہاں کے پناہ گزینوں کو ’مہذب‘، ’سفید فام‘ اور ’یورپی‘ کہہ کر ممتاز کیا، جبکہ مشرق وسطیٰ یا افغانستان سے آئے مہاجرین کو مشکوک، کم اہم یا غیر ضروری سمجھا گیا۔ یہی طبقاتی اور نسلی امتیاز پاکستانی میڈیا میں افغان مہاجرین کے حوالے سے بھی نظر آتا ہے۔
اس امر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز بیانیے صرف ڈیجیٹل دنیا تک ہی محدود نہیں رہتے۔ یہ نفرت انگیز بیانیے زمین پر افغان مہاجرین کی زندگیاں نگل رہے ہیں، انھیں بے گھر کر رہےہیں، ان کی شناخت چھین رہے ہیں، اور ان کے بنیادی انسانی حقوق پامال کر رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں یہ نفرت آن لائن دنیا سے نکل کر سڑکوں، گلیوں اور بازاروں تک جا پہنچی ہے۔اور اب جب افغان باشندوں کو ان کے ملک بھیجنے کا حکومتی فیصلہ ہوا تو لوگوں نے نہ صرف آن لائن پلیٹ فارمز پر بلکے زمینی سطح پر بھی اپنی سالوں پرانی نفرت کا برملا اظہار کیا۔اب یہ نفرت صرف الفاظ یا پوسٹس تک محدود نہیں، بلکہ عملی اقدامات میں بھی نظر آنے لگی ہے—پولیس چھاپے، جبری گرفتاری، بدزبانی، بے دخلی کی دھمکیاں، اور روزمرہ کی زندگی میں توہین آمیز سلوک۔
اس نفرت کی جھلک ہم نے یوں بھی دیکھی کہ جب وزارت داخلہ میں ان افغان پناہ گزینوں کی باعزت واپسی کو یقینی بنانے کے لئے ایک ہیلپ لائن قائم کی گئی تاکہ وہاں لوگ کال کر کہ اپنی شکایات درج کرا سکیں اور مدد کی درخواست کر سکیں۔ مگر جب اس ہیلپ لائن کا ریکارڈ معلوم کیا گیا تو پتہ یہ چلا کہ ٹوٹل 1200 کالز موصول ہوئیں اور ان میں سے 600 سے زائد پاکستانی شہریوں کی جانب سے کی گئی تھی کہ ہمارے آس پڑوس میں بھی افغانی روپوش ہیں آکر ان کو گرفتار کر کے اپنے ملک واپس بھیجا جائے۔
ہیلپ لائن آفیسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستانی شہری خود شکایات کر رہے ہیں ان افغانیوں کو نکالوں ہمارے ملک سے۔ جو ہیلپ لائن ان شہریوں کی مدد کے لئے بنائی گئی تھی الٹا ان ہی کے خلاف استعمال ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ حیران کن تھا کہ لوگوں کی بڑی تعداد ہمدردی کے بجائے غصے اور نفرت کا اظہار کر رہی تھی۔ کچھ کالرز افغانوں کو ’دہشت گرد‘ کہہ کر ان کے محلوں کی نشاندہی کر رہے تھے تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
یہ رجحان اس بات کا غماز ہے کہ آن لائن بیانیہ کس طرح زمینی حقائق پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ نفرت انگیز تبصرے، ویڈیوز، اور پوسٹس صرف آن لائن ردِ عمل نہیں رہیں بلکہ وہ عام شہریوں کے رویوں اور ریاستی پالیسیوں کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔
عمر اعجاز گیلانی، جو ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ہیں اور افغان پناہ گزینوں کے حقوق پر گزشتہ چند سالوں سے کام کر رہے ہیں، نے ڈی آر ایف سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان نے یہ جو افغانوں کے ساتھ کیا ہے اس کا بیانیہ بہت سالوں سے بنایا ہوا تھا۔ ’جب چوری یا اسمگللنگ کی بات ہو تو افغانوں پر الزام ڈال دیا جاتا ہے اور کاروائی کے دوران پوچھو تو کوئی ثبوت نہیں ہوتا پولیس کے پاس، بس ایک جواب ہوتا ہے کہ، ’آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ یہ لوگ یہ کام کرتے ہیں۔‘انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستانی میڈیا میں ان لوگوں کے لئے کوئی طاقتور آواز باقی نہیں رہی۔
اسی طرح ایک برطانوی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ پاکستان میں افغان خواتین کے خلاف آن لائن ہراسانی کے واقعات میں 217 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ ہراسانی صرف سوشل میڈیا پر نہیں، بلکہ ان کے گھروں، اسکولوں اور کام کی جگہوں پر بھی جاری ہے۔
کیا یہ صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا مسئلہ ہے؟ یا ریاستی اداروں کی خاموشی بھی اس بیانیے کو ہوا دے رہی ہے؟ کیا روایتی میڈیا، جو اکثر افغانوں کو ’بوجھ‘ یا ’سکیورٹی رسک‘ کے طور پر پیش کرتا ہے، عوامی رائے کو تعصب کی طرف دھکیل رہا ہے؟
جب حکومت خود ’غیر قانونی مہاجرین ‘ یا دہشت گرد جیسے الفاظ استعمال کرتی ہے، تو عوام بھی ان سے ہمدردی نہیں بلکہ نفرت کا اظہار کرتی ہے۔ سوشل میڈیا صرف اس بیانیے کا عکس ہے جو ریاست خود فراہم کرتی ہے۔
مسئلے کا حل صرف سوشل میڈیا پر مواد کی نگرانی سے نہیں نکلے گا۔ اس کے لیے ریاستی سطح پر سنجیدہ مکالمے، میڈیا کی تربیت، پولیس اور عدالتی نظام میں اصلاحات، اور سب سے بڑھ کر—انسانی ہمدردی کی بحالی ضروری ہے۔
افغان پناہ گزینوں کے خلاف نفرت کا یہ بیانیہ ہمیں نہ صرف ایک انسانی بحران کی طرف دھکیل رہا ہے بلکہ ہماری اپنی اخلاقی بنیادوں کو بھی چیلنج کر رہا ہے۔ ایک قوم کے طور پر ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم نفرت کی زبان بولنے والوں کی بھیڑ میں شامل ہوں گے یا اس زنجیر کو توڑنے کی پہلی کڑی بنیں گے۔
June 19, 2025 - Comments Off on ‘Don’t Take It as a Joke—Online Hate can Manifest in Real Life too’ by Naheed Jahangir
‘Don’t Take It as a Joke—Online Hate can Manifest in Real Life too’ by Naheed Jahangir
سلیبرٹی خواتین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر غیرمتناسب طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے جس میں خواتین کے خلاف نازیبا الفاظ سمیت نسل پرستی کی آمیزش بھی شامل ہوتی ہیں۔ مینا شمس
خیبر پختونخوا کی مقبول ڈرامہ اداکارہ اور پروگرام کمپئر مینا شمس مزید بتاتی ہیں کہ آن لائن نفرت کسی بھی وقت حقیقی شکل میں سامنے آسکتا ہے اس کو مذاق نا سمجھا جائے ماضی میں بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جوآن لائن دھمکی کے بعد جان کی بازی ہار چکی ہیں ۔
یاد رہے کہ حالیہ سینٹر فار کاونٹرنگ ڈیجیٹل ہیٹ کے تحقیق کے مطابق ٹویٹر اور انسٹاگرام اکاونٹس جس پر خواتین کے خلاف نفرت انگیز پیغامات تھے خواتین کی جانب سے کی گئ شکایت کے باوجود موجود ہے۔
کشیدگی کے دوران پاک بھارت کی جانب سے مختلف میمز، نفرت انگیز کمنٹس
محلے کی لڑائیوں میں مرد خواتین کو گالی دے کر مردانگی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں لیکن حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھی یہ روایت برقرار رہی۔ دونوں ممالک کی جانب سے مختلف میمز کے زریعے سرحد کے دونوں پار سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز یوٹیوب ،ایکس،انسٹا گرام، ٹک ٹاک پرنفرت انگیز کیمنٹس کے زریعے ایک دوسرے اور خاص کر خواتین فنکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
بھارت کی جانب سے یوٹیوب پر ایک ویڈیو میں ایک لڑکا کہتا ہے کہ ہانیہ عامر کو چھوڑ کر باقی پاکستانیوں کی بینڈ بجا دیں گے۔
دوسرا بھارتی کہتا ہے کہ مائرہ خان جنگ جیتنے کے بعد میری ہوگی۔
اسی طرح پاکستانی بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے یوٹیوب پر ایک لڑکے نے کہا کہ جنگ کے بعد پرینکا چوپڑا میری ہوگی پہلے
سے بتا رہا ہوں میں، بعد میں کوئی رولا نہ ڈالے۔
پاکستانی ایک صارف کہتے ہیں کہ کیا جنگ میں کترینہ کیف بھی آئے گی؟
بعض نے تو گائے کے ساتھ ویڈیو بنائی اور ساتھ میں کہا کہ آپکی ماں میرے پاس ہے یا میرے قبضے میں ہے اور کسی نے تو چومی بھی لی۔
انڈین پائلٹ شیوانی سنگھ جس کے حوالے سے پاکستان کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ہوئی ہیں ایک پوسٹ میں ہے کہ
جبکہ دوسرا صارف نے کچھ یو کمنٹ کیا کہ
سنا ہے دودھ اپنا لے کر آئی ہے۔
خواتین کو مرد کی نسبت زیادہ آن لائن غنڈہ گردی کا سامنا
خیبر پختونخوا کی مقبول ڈرامہ اداکارہ اور پروگرام کمپئر مینا شمس نے سوشل میڈیا کو آن لائن غںڈہ گردی کہا ہے کہ ان کی اہمیت اپنی جگہ پر لیکن خواتین کو مرد کی نسبت کافی مسائل کا سامنا ہے مرد نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں کافی ترقی کی ہے لیکن یہ ٹرولنگ، ہراسمنٹ، نفرت انگیز اور تعصبانہ رویوں کی وجہ سے خواتین ٹیکنالوجی میں کافی پیچھے ہیں۔
مینا شمس کے مطابق اس سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں تعصبانہ رویوں سے آن لائن غنڈہ گردی نے جنم لیا ہے اور جہاں تک پاک بھارت کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر خواتین اور خاص کر فلمی ڈرامہ فنکاروں کے حوالے سے جو نفرت اور اخلاقیات سے گرا ہوا رویہ رکھا گیا وہ اب معمول بن چکا ہے۔ ریپ اور جنسی عوامل کی طرف اشارے یا کوڈ ورڈ میں بے ہودہ مذاق کیا گیا جو بہت ہی افسوس کی بات ہے۔
مینا شمس نے کہا کہ فنکارامن کے سفیر ہوتے ہیں۔ خواتین چاہے جس ملک، قوم، رنگ و نسل سے ہوں قابل احترام ہوتی ہیں لیکن موجودہ دورمیں آن لائن غنڈہ گردی کا راج ہے خواتین کے جسمانی خدوخال، یہاں تک کہ رنگ پرستی اور ہوموفوبیا تک بات پہنچ گئ ہے۔
ہر مذہب اور قوم میں خواتین قابل احترام ہوتی ہیں
خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی اردو اور پشتو ڈرامہ آرٹسٹ شازمہ حلیم جنہوں نے مختلف پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان، خیبر ٹی وی کے ڈراموں میں بطور اداکارہ کام کیا ہے بتاتی ہیں کہ پاکستان اور بھارت کشیدگی کے دوران، تین دنوں میں ہونے والی جنگ کے دوران اور جنگ کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم جس میں فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک پرمختلف قسم کے کمنٹ دیکھنے کو ملے جس سے شاید سرحدوں پر کم اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پرجنگ کے تاثرات اور نفرت انگیز باتیں زیادہ دکھائی دی۔ اور پھران سب میں خواتین کو زیادہ ٘مذاق کا نشانہ بنایا گیا خاص کر کے فلمی ڈرامہ اداکاراوں کو زیادہ نفرت انگیز الفاظ سے یاد کیا گیا جس کی وہ مذمت کرتی ہیں جنگ میں ویسے بھی انسانیت کی ہار ہوتی ہے جن ممالکوں کے درمیان بھی جنگ لڑی جاتی ہے دونوں طرف انسانیت کا خون ہوتا ہے لیکن ان لڑائیوں میں ماں بہن کو غلط القابات اورالفاظ سے پکارناغلط ہے۔ کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایکٹریسز کو بہت زیادہ منفی انداز سے ہائی لائٹ کیا گیا۔
شازمہ نے کہا کہ جنگ چاہے جس کے بھی درمیان ہو قبیلوں کے درمیان ہوعلاقائی سطح پہ ہو یا کسی دوسرے ممالک کے ساتھ ہو لیکن خواتین کو ہرمذہب اورخاص کراسلام میں اعلی مقام حاصل ہے اور اس کوعزت دی گئی ہے۔
گلوکارہ یا پھر گھریلو خاتون ہے ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں عورت کو عزت دی جاتی ہے تو اداکارہ یا گلوکارہ بھی خاتون ہی ہے چاہے وہ سرحد کے اس پار ہو یا اس پار قابل احترام ہے۔
پاکستان کے لوگوں نے سرحد اس پارپر جبکہ ہندوستان کے لوگوں نے سرحد اس پار اداکاراوں جیسے ماہرہ خان، ہانیہ عامر، کترینا وغیرہ کو مال غنیمت یا جنگ میں آئے گی یا نہیں آئے گی جیسے الفاظ استعمال کیے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ہندوستانیوں کے حوالے سے تو کچھ نہیں کہنا چاہتی لیکن پاکستانیوں سے یہ توقع نہیں رکھتی عورت قابل احترام ہوتی ہے چاہے وہ پاکستان کی ہو ہندوستان کی ہو یا پھر امریکہ کی ہو۔ شازمہ حلیم
پاکستان بھارت کشیدگی میں آن لائن میڈیا اداروں اور صحافیوں کا منفی کردار کیوں رہا
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی بشریٰ اقبال حسین جو جرنلزم ٹرینر ہے بتاتی ہیں کہ میڈیا اداروں اور ایک صحافی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ جب وہ رپورٹ بنا رہا ہوتا ہے یا کوئی خبر دے رہا ہوتا ہے تو اس کو تعصبانہ رویہ اور نفرت سےدور رکھیں۔ لوگوں کو حقائق سے آگاہ رکھیں۔
بشریٰ اقبال نے کہا کہ بدقسمتی سے انڈیا اور پاکستان میں جب بھی کبھی تناؤ کی کیفیت آتی ہے تو ہندوستان جو کہ ایک بڑا ملک ہے ان کے پاس پاکستان کی نسبت میڈیا ہاؤسز بھی زیادہ ہیں وہ چاہے اخبارات کی صورت میں ہو ٹیلی ویژن کی صورت میں ہو یا سوشل میڈیا کی صورت میں ہو۔ تو ہمیشہ سے انہوں نے جنگی تناؤ، جنگی جنون کی بات کی اور بغیرحقائق کے بیان کیے کچھ توڑ مروڑ کر کہانیاں پیش کی وہ خود جنگ کے لیے اکسا رہے ہوتے ہیں اپنے ہی لوگوں، عوام، حکومت اور اپنی افواج کوکہ وہ جنگ چھیڑ دیں۔
بشریٰ اقبال کے مطابق انڈین میڈیا جنگ، نفرت کی سنسنی باتیں بہت لاؤڈ ہو کر کرتے ہیں اور یہ بھی ایک پروپیگنڈا ٹول کا حصہ ہے کہ آپ لاؤڈ ہو کر اتنا زیادہ جھوٹ بولیں۔ بار بار بولیں کہ آپ کے فالورز جھوٹ کو حقیقت اور سچ سمجھنے لگ جائیں۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ جنگ جیسی صورت حال میں دوایٹمی ممالک کی میڈیا اداروں پربہت بڑی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ حقائق پر مبنی رپورٹ دیں ۔ اس روایتی جنگ میں دونوں طرف انسانی جانیں جاتی ہیں تو اس کے اندر بہت بڑی ذمہ داری میڈیا پلیٹ فارمز کی ہوگی لیکن بعض لوگوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو نفرت انگیز سپیچ کے لیے استعمال کیا، سچائی اور حقائق پر مبنی بات نہیں کی اور انہوں نے جنگی جنون کو ہوا دی۔
پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کی نسبت انڈین میڈیا نے بہت زیادہ غیرذمہ دارانہ رویہ رکھا ایکسٹریم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت فیک نیوزدی جو کسی بھی ملک اور خود میڈیا ادارے کے لیے مذاق اور نقصان کا باعث بنتا ہے۔
بشریٰ اقبال کہتی ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کشیدگی کے دوران دونوں طرف سے جس طرح اس جنگ اور خاص کر میڈیا وار میں خواتین کو لے کر ٹرولنگ اور منفی رویہ رکھا گیا قابل مذمت ہے۔ ہندوستان کی فلم انڈسٹری دنیا کی بہت بڑی فلم انڈسٹری ہے بالی وڈ فلم سٹار نا صرف انڈیا میں بلکہ پاکستان میں بھی کافی مقبول ہے اور ان کے فین موجود ہیں ان کی عزت کرتے ہیں اسی طرح پاکستانی ڈرامہ آرٹسٹ ہندوستان میں کافی مقبول ہیں وہاں ان کوعزت دی جاتی ہے لیکن دونوں ممالک میں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جن کے اندر کی نفرت میمز وار میں نظر آئی بلکہ وہ ان سیلبرٹی کو اپنی ذاتی پراپرٹی دیکھ رہے تھے کہ خدانخواستہ حالات مزید خراب ہوکر لمبی جنگ چھڑجائے اور وہ خواتین پر قبضہ کر لیں۔
بھارت کی نسبت پاکستانی میڈیا غیرجانبدار رہا
پشاور یونیورسٹی شعبہ صحافت کے پروفیسر اور میڈیا اکیڈیمک ریسرچر ڈاکٹر بخت زمان انڈین میڈیا کی غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ اور معلومات کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت فلم انڈسٹری پوری دنیا پر راج کر رہی ہیں ان کی فلمیں اور کردار پوری دنیا میں شہرت رکھتے ہیں لیکن نیوز میڈیا بھی ان کی انٹرٹیمنٹ میڈیا کے زیراثر ہے۔ انڈین نیوز روم بھی اپنے ٹاک شوز، خبروں، تجزیوں میں بھی لوگوں کو انٹرٹین کرنا کا زیادہ خیال رکھتے ہیں بنسبت معلومات دینے کے۔
اگر بھارتی میڈیا کا موازنہ پاکستان سے کیا جائے تو پاکستان ایک سنجیدہ ملک ہے تو ہمارا میڈیا بھی سنجیدہ ہے۔
دوسری اہم وجہ بخت زمان یہ بتاتے ہیں کہ کسی بھی سماجی اور سیاسی حالات کا عوامی اثر اپنے لوگوں کے مزاج پر پڑتا ہے۔ ان میں میڈیا سے منسلک لوگ بھی شامل ہیں۔ انڈین میڈیا اداروں کی سوچ بھی انتہا پسندانہ اور انٹرٹیمنٹ اپروچ رکھنے والا ہے۔ تاکہ دنیا بھر کے لوگ ان کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ اس لیے حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں بھی انڈین میڈیا حقائق کی جگہ فیک، اور غیرزمہ دارانہ معلومات دیتا رہا۔ جبکہ پاکستان کی میڈیا اداروں نے حقائق پر مبنی معلومات فراہم کی۔
ارشد یوسفزئی جو 16 سالوں سے پاک افغان اور پیس پروسس پر کام کرتے ہیں انہوں نے مختلف قومی اور بین الااقوامی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ کام کیا جس میں انگلستان اور جرمنی سمیت انڈیا ٹوڈے اور انڈیا ٹائم بھی شامل ہیں۔ بھارتی میڈیا کی من گھڑت خبروں کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ
پا کستان اور بھارت کے درمیان اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں جس کا الزام فورا ہندوستان پاکستان پر لگا دیتا ہے۔
ارشد کے مطابق ہمیشہ سے انڈین میڈیا ریٹنگ کے لیے فیک نیوز کا سہارا لیتا ہے اس کی سب سے اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اس خطے میں سب لوگ جنگ کی نیوز پسند کرتے ہیں دیکھی جاتی ہے سنی جاتی ہے اپنی فوج کی بہادری کے قصے پسند کرتے ہیں جبکہ اپنے حریف کے خلاف کمزوری کی نیوز پسند کرتے ہیں۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی میڈیا پر حکومت اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے کافی دباؤ ہے ۔
بی جے پی کی حکومت جب سے ہندوستان میں آئی ہے پورا میڈیا کمزور پڑ گیا ہے حالانکہ ہندوستانی میڈیا اور ان کے صحافیوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ بہت آزاد دانہ بات کرتے ہیں، اب بھی چند ایسے صحافی ہیں جو بغیر کسی خوف کے حق کی بات کرتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر صحافی حکومت کے دباؤ میں ہے اور وہ اسی دباؤ کے تحت جھوٹی خبریں، تعصبانہ رویہ، نفرت انگیز تحریر یا فیک نیوز کا سہارا لیتے ہیں۔
ارشد یوسفزئی نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے تمام غلط اور غیر قانونی فیصلوں کو الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا اور فیس بک نے، پردہ ڈالنے کے لیے سپورٹ بھی کیا، اورغلط انداز میں غلط نیوز کو پیش کیا جاتا رہا۔ میڈیا صحافت کو صحیح انداز میں پیش کرنے کی بجائے میڈیا جنگ شروع کی جوجنگ کو بڑھاوا دے رہا تھا۔ اپنی میڈیا ٹاک میں پاکستان سے کسی کو بھی بات کرنے کا نا ہی موقع دیا جاتا تھا نہ ہی ان کی جانب سے حقائق اور دلائل پیش کیے جاتے تھےجو کہ صحافت کے لیے کافی نقصان دہ ہیں بلکہ اپ لوگ یوں کہہ سکتے ہیں کہ صحافت کا جنازہ نکال رہے ہیں جو بالکل غیر قانونی اورغیر صحافتی انداز ہیں۔ اس لیے بھارتی میڈیا کو مزید اپنا امیج خراب نہیں کرنا چاہے حقائق پر مبنی صحافت کریں۔
دوسری جانب بشریٰ اقبال نے بھی کہا کہ پاکستان میں میڈیا نے بہت بہتر کام کیا سوشل میڈیا نے بھی انڈیا کی نسبت کافی زمہ دارانہ کام کیا لیکن اسکے باوجود ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی تھی جو ایسے مردوں پر مشتمل تھی جنہوں نے خواتین کے لیے غیر مہذب بات کی۔ خواتین کے رنگ پر کمنٹ پاس کیے ان کی جسم کے حوالے سے بات ہوئی ان کی خدوخال پر کمنٹس میں کھلم کھلا اظہار کیا گیا تو یہ ایک الارمنگ سچویشن ہے کیونکہ اگر آپ خواتین چاہے دشمن کی ہو یا اپنے ہی ملک کی ہو، عزت کرنی چاہے۔
ایک انڈین فوجی افسر فضائیہ کے حوالے سے جس طرح سے سائبر ہراسمنٹ ٹرولنگ ہوئی جو کہ بہت بری بات ہے کچھ لوگوں نے اپنی تربیت کا اظہار کیا اور انہوں نے خواتین پر نفرت انگیز اور طنزیہ کمنٹ پاس کیے اور میمز بنائی۔ ایک عورت ایک ماں، ایک بہن، بیٹی کے طور پر وہ بہت ہی لمحہ فکریہ تھا۔
آن لائن نفرت انگیز پیغامات کو کیسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے
اس حوالے سے انڈیویجول لینڈ کے خصو سیف اللہ فیکٹ چیکر اینڈ لٹریسی ایڈوکیٹ نے کہا کہ حکومت اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو چاہے کہ وہ میڈیا کنزیومرز اور پروڈیوسرز کو زمہ دار بنائے اس سلسلے میں کافی کوشش کی گئ لیکن ابھی تک ان کو کنوینس نہیں کیا گیا۔ جوکہ ایک آئیڈل مکینزم ہے جو ہوتا نہیں ہے۔
باہر کی دنیا میں یہ ہے کہ کہ سیلف ریگولیٹیکنزم ہوتا ہے کہ جنرلسٹ کو اتنا ٹرین کیا جاتا ہے کہ وہ خود غلط خبر کی تشریح نہیں کرتے ہیں اپنی خبر میں الفاظ کا استعمال صحیح کرتے ہیں۔ نفرت انگیز مواد نشر نہیں کرتےلیکن ہمارے ہاں سیلف میکنزم کہیں پہ کامیاب ہوتا نظر بھی نہیں آرہا اوریہاں کوشش بھی نہیں کی جاتی۔ جب سوشل پلیٹ فارمز کو کنٹرول کرنے کا اختیاراداروں کے پاس آ جاتا ہے پھر وہ اپنے حساب سے کنٹرول کرتے ہیں وہ بھی ایک بہتر حل نہیں ہے۔
جہاں تک جنگی حالات میں بھی لوگ چونکہ جذباتی ہیں وہ کسی بھی خبر کو بغیر کسی تصدیق کے شئیر یا پھیلاتے ہیں۔ ان حالات میں ایک صحافی کی تربیت بہت ضروری ہوجاتی ہے۔ سوشل میڈیا آڈیز پر نظر رکھا جائے کہ وہ فیک تو نہیں ہے۔ جتنا کنزیومر ذمہ دار ہوگا اتنا ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی کارکردگی بہتر ہوگی۔
آن لائن ہیٹ سپیچ کو کنزیومرز اور سوشل میڈیا کو رسپانسبل کرنے سے کنٹرول ہوسکتا ہے جو کہ بہت ہی مشکل ہے۔
خواتین کے خلاف آن لائن نفرت کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، سوشل میڈیا کا دعویٰ
سوشل میڈیا کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ خواتین کے خلاف آن لائن نفرت کو سنجیدگی سے لیتی ہیں اور صارفین کے لیے قوانین ہیں جس میں نفرت پیغامات اور گالم گلوچ والے اکاونٹس کو معطل کرنا یا بند کرنا شامل ہیں۔
لیکن وہ اکثر ایسا نہیں کرتے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کسی کو اب تک موصول ہونے والے کچھ بدترین پیغامات کی اطلاع دینے کے باوجود بھی موجود ہوتی ہیں جن میں گھر آ کر ریپ کرنے اور خوفناک جنسی فعل کی دھمکیاں وغیرہ شامل ہیں۔
June 19, 2025 - Comments Off on ‘Due to Online Hate Speech, Women’s Participation in Khyber Pakhtunkhwa Politics Remains Extremely Low’ by Amina Salarzai
‘Due to Online Hate Speech, Women’s Participation in Khyber Pakhtunkhwa Politics Remains Extremely Low’ by Amina Salarzai
خیبرپختونخوا کی خواتین سیاسی رہنماؤں کو آن لاین ہیٹ سپیچ سے بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے توہین آمیز زبان کا استعمال اور بدسلوکی جیسے مسائل میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ خیبر پختونخوا کی خواتین روایتی رکاوٹوں کے باعث بمشکل ہی سیاسی میدان میں قدم رکھتی ہیں ایسے میں بہت سی شدید آن لائن بدسلوکی کا شکار رہیں۔ اب ٹیکنالوجی کا دور ہے سوشل میڈیا کا استعمال بڑھ چکا ہے، آئین کے مطابق اپنی رائے کا اظہار کرنا اور تنقید کرنا ہر ایک کا حق ہے لیکن اس کی کچھ حدود ہیں جو بہت سے ان سے تجاوز کر کے دوسروں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
نفرت انگیز ، دھمکی آمیز اور غیر اخلاقی بیانات سے خواتین سیاستدانوں کی سیاسی اور ذاتی زندگی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ ہیٹ سپیچ کا مقصد انہیں مجبور کرنا بلیک میل کرنا اور ان کی سیاسی اور ذاتی زندگی کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ اے ائی کے زریعے جعلی ویڈیوز اور آڈیوز وائرل کر کے انکے خلاف غلط معلومات پھیلایا جاتا ہے، جس پر بہت سے لوگ یقین بھی کرلیتے ہیں۔
خیبر پختونخوا سابق ایم پی اے بسیرت خان شینواری کا کہنا ہیں کہ اب ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت (اے ائی) کا دور ہے۔ اگر حقیقت دیکھ لیں تو ہماری خواتین کی سیاست میں نمائندگی بہت کم ہے اور جو تھوڑی بہت ہے تو ان کو آن لائن بدسلوکی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایک طرف ٹیکنالوجی ہمیں اتنا فائدہ دے رہی ہے تو دوسری طرف اس کے منفی اثرات بھی بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے بتایا پورے پاکستان بلخصوص خیبر پختونخوا کی خواتین اگر سیاست میں آتی ہے تو وہ سیاسی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنی خاندان کو بھی دیکھ رہی ہوتی ہے اور خدانخواستہ اگر ائے ائی کے ذریعے ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنتی ہے یا ان کے الفاظ کا نامناسب استعمال کیا جاتا ہے تو یہ ان کے پورے کیریئر کو تباہ کر لیتا ہے۔ ان کا کہنا ہیں کہ ہیٹ سپچ زیادہ ہورہا ہے اور سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ چلتا ہے جس کا ہم سب نے سامنا کیا ہے، بعض دفعہ اپنے حلقے کے لوگ ایسا کرتے ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ لوگ سوشل میڈیا پہ بیٹھ کے تو ایک کمنٹ پاس کر لیتے ہے لیکن ان کو یہ سمجھ نہیں پڑتی کہ یہ کمنٹ اگے کتنے لوگ پڑھ رہیں ہیں۔ بغیر تحقیق اور جانچ پڑتال کے کچھ بھی کسی کے کردار کے ساتھ منسوب کردیتے ہے تو یہ ہی ہیٹ سپیچ ہے اس کو جتنا اگنور کرے تو بہتر ہے۔
ارٹیفیشل انٹیلیجنس کے حوالے سابق ایم پی اے بسیرت شینواری کا کہنا ہیں کہ حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہیۓ، مانا کہ ڈیجیٹل دور ہے ہر کسی کو آزادی اظہار راۓ کا حق حاصل ہے لیکن کچھ حدود بھی ہونی چاہیے۔ خدانخواستہ کسی کے اوپر بات کرنا یا کسی کی ویڈیوز بنانا تو ایک لمہے کا کام ہوتا ہے لیکن اگلے بندے کا پورا کیریئر اس سے تباہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا پتہ نہیں ہمارے لوگوں میں شعور کب آئی گی، ملک کی بڑی بڑی خواتین سیاسی رہنماؤں کو برے القابات کہنا اور ویڈیوز بنانا میری سمجھ سے باہر ہے۔ اگر کسی کی سیاسی کام کے حوالے اس میں میں بہتری لانے کیلۓ تنقید کی جاۓ یہ تو قابل قبول ہے کیونکہ تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے۔ سابق ایم پی اے کا کہنا ہیں کہ ہمارا معاشرہ اخلاقیات کے دائرے سے روز بروز گررہا ہے کیا سیاست صرف اختلافات کی حد تک رہ گئ؟ ہم نہیں سوچتے کہ بحیثیت مسلمان اور پاکستانی شہری کیا یہ چیزیں ہمیں زیب دیتی ہے کہ ہم خواتین کی اس طرح تذلیل کریں۔ وہ بتاتی ہیں میں نے خود آن لائن ہیٹ سپیچ کا سامنا کیا ہے، ان چیزوں کی روک تھام ہونی چاہیے بلکہ اس پہ سزائے ہونی چاہیے تاکہ لوگ اس چیز سے کسی حد تک مثبت پہلو کی طرف آئے۔
خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ سینیر کارکن (پرائیویسی کی خاطر اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر) بتاتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز زبان کے استعمال نے خاص طور پر سیاسی خواتین کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں خواتین پہلے ہی پدرانہ نظام کا شکار ہیں، اور ایسے میں آن لائن نفرت انگیز گفتگو نے سیاست میں ان کی جگہ مزید کم کر دی ہے۔ آنلائن سپیسز میں انہیں اپنی پرائیویسی اور تحفظ کی خاطر دوسرے نام سے آئی ڈیز بنانی پڑتی ہے لیکن پھر بھی دھمکیوں، بدسلوکی اور نفرت انگیز تقریروں سے ان کی عزت نفس اور ذہنی سکون عام اور مخصوص اصطلاحات میں ٹوٹ جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہیں کہ میں سیاسی سرگرمیوں میں بہت پُرجوش تھی، لیکن سیاست میں حصہ لینے پر مجھے نفرت انگیز زبان کا نشانہ بنایا گیا۔ کچھ آن لائن نفرت انگیز زبان کی وجہ سے، میرے خاندان نے مجھ پر پیچھے ہٹنے کے لیے دباؤ ڈالا، اگر میں اکیلی ہوتی تو اس کا سامنا کرتی لیکن اپنی والدہ کے ذہنی سکون اور صحت کو بچانے کے لیے مجھے سوشل میڈیا پر ائسولیشن موڈ کا طریقہ اختیار کرنا پڑا۔
پی پی پی کارکن کا مزید کہنا ہیں کہ میں نے زیادہ تر ایکٹیوزم پلیٹ فارمز سے اپنا دفاع کرنے کی درخواست کی لیکن وہ میرے اور ساتھی خواتین کارکنان کی مدد کرنے میں بے ناکام رہیں، جس کی وجہ میں بہت مایوس ہوئی۔ سیاسی خواتین کارکنوں کے لیے ایک مضبوط معاون طریقہ کار ہونا چاہیے جبکہ بروقت کاروائی نہ کرنے پر وہ روز بروز خاموش ہوتی جائیں گی۔ ہمارے ملک میں آنلائن تحفظ کے حوالے سے صرف نگہت داد صاحبہ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے زریعے ایک بڑے پیمانے پر کام کررہی ہے، باقی پلیٹ فارمز یا تو غیر فعال یا بے بس ہے۔ نگہت داد صاحبہ سے میری درخواست ہے کہ اس مشن کو پورے پاکستان میں صوبائی اور ضلعی سطح تک پھیلایاجاۓ کیونکہ نہ صرف سیاسی خواتین بلکہ کاروباری اور گھریلو خواتین بھی ڈیجیٹل دنیا میں خریداری، بینکنگ، بکنگ اور روزمرہ زندگی کی مختلف پہلوؤں کے حوالے سے آنلائن سپیسز سے منسلک ہیں، انہیں آنلائن پرائیویسی اور حفاظتی اصولوں کا علم ہونا چاہیے۔
ثانیہ جاوید خیبرپختونخوا یوتھ اسمبلی کی نائب صدر ہے (پہلے یوتھ ڈپٹی اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہے)۔ اس وقت ثانیہ جاوید سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ ثانیہ جاوید کا کہنا ہیں
میرا مقصد اپنی کمیونٹی پر مثبت اثر ڈالنا اور سماجی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ لیکن میں ہر وقت آنلائن ہیٹ سپیچ کے حوالے سے پریشان رہتی ہوں۔ میں سوشل میڈیا پر پیکچرز اور کام کے حوالے سے پوسٹ کرنے سے خوف محسوس کرتی ہوں کہ کہیں کوئی اس کا غلط استعمال نہ کریں کیونکہ میرے ساتھ ماضی میں کئی دفعہ ایسا ہوا ہے جس سے مجھے ہیٹ سپیچ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
حافظہ زمر ملک پشاور میں بطور کلینیکل سائیکالوجسٹ اور سی بی ٹی تھراپسٹ کام کرتی ہے وہ بتاتی ہیں
کہ خواتین سیاسی رہنماؤں کے خلاف عوام اور مخالف پارٹی سپورٹرز جو ہیٹ سپیچ کرتی ہے اس کا ان پر اور ان کے خاندان پر بہت بڑا منفی اثر پڑتا ہے۔ ہیٹ سپیچ نہ صرف سیاستدانوں بلکہ ایک عام انسان کے لیے بھی بہت بڑی بات ہوتی ہیں۔ اگر ایک سیاسی کارکن کی نیت صاف ہو اگر وہ دل سے ایک تقریر کریں اور مخالف پارٹی اس کے الفاظ کو ردوبدل کریں تو اس کی وجہ سے ایک منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔ یہ انسان کو ذہنی طور پر بھی بہت ڈسٹرب کرتا ہے اور احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتا ہے، پھر اگر نارمل دنوں میں کوئی بات کرتا ہے تو سوچتا ہے کہ میں نے صحیح کہا یا نہیں اس کو بہت ڈر ہوتا ہے کہ کوئی مجھے ریکارڈ کر رہا ہے یا میرے بارے میں غلط لکھ رہا ہے۔ نفسیاتی اثرات کی وجہ انسان سے ہر ایک بات پر صفائی دینا شروع کردیتا ہے، اور ہر وقت لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ڈاکٹر زمر ملک کا کہنا ہیں کہ سیاسی خواتین کو اپنی ذہنی صحت کی خاطر ہیٹ سپیچ کو اگنور کرنا بہت ضروری ہے انہیں یہ ماننا ہوگا کہ میں چاہے کچھ بھی کرلوں مخالفین نے پھر بھی میرے خلاف بولنا ہے، تو ایسا کرنے سے جہاں ایک انسان 100 فیصد متاثر ہو رہا ہے وہاں یہ تاثر 50 فیصد تک کم ہوجائیگا بعض اوقات 30 سے 20 فیصد کی طرف بھی آجاتا ہے۔ کوشش کریں اپنے آپ کو روزانہ مفید سرگرمیوں میں مصروف رکھیں تاکہ اپنی مصروفیت کی وجہ سے ہیٹ سپیچ کا زیادہ اثر آپ کے اوپر نہ ائے۔
ڈاکٹر زمر ملک اے آئی کے زریعے جعلی مواد کے حوالے سے بتاتی ہیں کہ ہمارا پورا معاشرہ موبائل فون استعمال کرنے کا عادی ہوچکا ہے ہماری ہر ایک چیز سوشل میڈیا پر موجود ہوتی ہے چاہے وہ سنیپ چیٹ، فیس بک، یا انسٹاگرام ہو ہم کہیں پہ بھی جاتے ہیں ہر ایک حرکت کو پوسٹ کر رہے ہوتے ہیں میں نے یہ کیا میں نے یہ کھایا میں اس کے ساتھ بیٹھا ہوں۔مصنوعی ذہانت (اے ائی) کے ذریعے بہت سے خواتین ڈپریشن کا شکار ہوجاتی ہیں کیونکہ ان کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل کی جاتی ہے ان کی تقاریر کو ردوبدل کیا جاتا ہے۔ اوہ بتاتی ہیں کہ گر یہ خواتین ڈیٹا دینا ہی چھوڑ دیں تو اس میں کمی ہوسکتی ہے۔ سیاست پہلے بھی لوگوں نے کی ہے ان کی سوشل میڈیا پر اس طرح چیزیں نہیں آتی تھی، اس وقت بے شک سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا- لیکن اپنی حفاظت خود بھی کی جاسکتی ہے اگر ایک محدود سطح پر چیزیں پوسٹ کریں تو پھر اگے مسئلہ نہیں بنے گا۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ پہلے سے احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ اگے سے سامنا ہی نہ کرنا پڑے۔ کوشش کریں ان سب چیزوں سے بچنے کیلۓ زیادہ نزدیک سے لی گئی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ نہ کریں کیونکہ ان میں چہرہ واضح پہچان لیا جاتا ہےاس طریقے سے پھر اگے چیزیں بے جاء استعمال ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی ڈپریشن کا شکار ہے تو وہ ایک ایسے سہولت کار(سائیکایٹرسٹ) کے پاس جائے جو ان کے رہنمائی کرسکیں۔
ایڈووکیٹ پشاور ہائی کورٹ لائبہ گل شیر کا کہنا ہیں کہ خواتین سیاسی رہنماؤں کے خلاف آن لائن نفرت انگیز تبصرے یا پیغامات سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ پر پھیلائے جاتے ہیں۔ یہ تقاریر اکثر صنفی امتیاز، کردار کشی، دھمکیوں اور بدزبانی پر مشتمل ہوتی ہیں۔
انہوں نے خواتین سیاسی رہنماؤں کے خلاف ہیث سپیچ کے چند وجوہات بتائیں۔
وجوہات:
"صنفی امتیاز :خواتین کی قیادت کو قبول نہ کرنا۔
سیاسی دشمنی: سیاسی مخالفین کی کردار کشی کرنا۔
سوشل میڈیا کی آزادی: شناخت چھپنے کی وجہ سے نفرت پھیلانا آسان ہوجاتا ہے۔
عدم برداشت: خواتین کی رائے یا قیادت سے عدم برداشت۔
جھوٹی معلومات: افواہوں اور غلط خبروں کی بنیاد پر حملے"۔
ایڈووکیٹ لائبہ گل شیر اس حوالے سے قانونی کارروائی کے متعلق بتاتی ہیں۔
متعلقہ قوانین پاکستان
پاکستان پینل کوڈ PPC قانون کے تحت:
دفعہ A-153 کے مطابق گروہوں میں نفرت پھیلانے والے کو 5 سال تک قید کی سزا دی جاتی ہے۔
دفعہ 505(2) کے مطابق نفرت انگیز بیانات پر7 سال تک قید کی سزا دی جاتی ہے۔
الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون کے تحت
: کے تحت (PECA 2016)
سیکشن 11 کے مطابق آن لائن نفرت انگیز تقریر پر 7
سال تک قید کی سزا دی جاتی ہے۔
سیکشن 20 کے مطابق آن لائن کردار کشی کرنے پر 3 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا دی جاتی ہے۔
سیکشن 37 کے مطابق نازیبا یا نقصان دہ مواد کو بلاک کے زریعے بلاک کیا جاسکتا ہے۔ PTA
سوشل ایکٹوسٹ شاد بیگم سیاسی خواتین کے خلاف آن
لائن ہیٹ سپیچ کے حوالے سے بتاتی ہیں کہ ہمارا ایک ادارہ وومن پولیٹیکل ایکٹوسٹ اور لیڈرز کے سا
ساتھ ریگولر کام کرتا ہے ۔حالیہ وقتوں میں ہم نے خواتین کونسلرز کو اپنا سیاسی کیمپین چلانے اور کیریئر بنانے کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال اور اس کی افادیت کے بارے میں ٹریننگ دی، اس دوران بہت سی خواتین سوشل میڈیا استعمال نہیں کرنا چاہتی تھی۔ جن خواتین کا پہلے سے کریئر بنا ہوتا ہے ان کے لیے پھر بھی تھوڑی بہت آسانی ہوتی ہے لیکن جو خواتین سیاسی میدان میں نئی ہوتی ہے جن میں زیادہ تر سیاسی ایکٹیوسٹ شامل ہے ان کا پروفائل اتنا مظبوط نہیں ہوتا وہ ایم این اے یا ایم پی اے نہیں ہوتی اسلۓ ان کیلۓ یہ اتنا آسان نہیں ہوتا۔
وہ مزید بتاتی ہیں کہ ہم نے سوات اور ملکنڈ کے علاقے میں وی سی(وولج کونسلر) اور ینگ پولٹیکل ورکرز کو ٹریننگ دی تو کچھ لیڈرشپ کورسز میں ہمیں پھر وہی مشکلات پیش آۓ، ہم نے ان خواتین کو اپنا فیس بک پیج، یوٹیوب اور انسٹاگرام اکاؤنٹ بنانے کیلئے رضامند کرنے کی کوشش کی کہ سوشل میڈیا سیاسی کیریئر بنانے، اپنے حلقے کے لوگوں سے کنیکٹ ہونے، ووٹ بینک بنانے اور کام کے حوالے سے موبلائزیشن کرنے میں آپ کی مدد کرسکتا ہے۔ ٹریننگ کے دوران زیادہ تر لڑکیوں نے کہا سوشل میڈیا کے استعمال پر ہم پر گھر سے پابندی ہے حالانکہ یہ وہ بچیاں تھی جو ریگولر ایک پارٹی میں کوارڈینیٹرز، مختلف عہدوں اور اختیارات پر فائز ہے اور اس پر وہ کام بھی کر رہی ہیں لیکن اس کے باوجود سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کر سکتی۔
سوشل ایکٹوسٹ شاد بیگم کا کہنا ہیں کہ ایکٹوسٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں خواتین کو سوشل میڈیا استعمال کرنے میں بہت مشکلات ہیں، ہمارے ہاں اکثر خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا سے لے کے ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے اور کیا گیا ہے جس سے ان کے لیے کافی مسئلے بنے اور پھر اگر سائبر کرائم میں ایف ائی اے میں رپورٹ کیا بھی ہے تو وہاں سے اس طرح ردعمل نہیں ملا ہے اس کیلۓ لمبا عرصہ تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بہت ساری لڑکیاں چاہے وہ کسی بھی سیکٹر میں ہو سیاسی ہو یا معاشرتی سوشل میڈیا سے دور رہنے کو ترجیح دیتی ہے، یا اپنا اکاونٹ کسی غیر نام اور تصویر سے استعمال کرتی ہے- انہوں نےبتایا ہیٹ سپیچ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے سوشل میڈیا ایک مثبت چیز بھی ہے جس سے ہماری خواتین سیاسی کیریئر بڑا اچھے سے بناسکتی ہے لیکن ان وجوہات کی بنا پر زیادہ تر اس سے فائدہ حاصل نہیں کر سکتی۔
June 19, 2025 - Comments Off on Women morning show hosts from Khyber Pakhtunkhwa face online hate speech on a daily basis by Nazia Salarzai
Women morning show hosts from Khyber Pakhtunkhwa face online hate speech on a daily basis by Nazia Salarzai
خیبر پختونخوا کی خواتین مارننگ شوز ہوسٹس کے بارے میں آنلائن ہیٹ سپیچ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے کیونکہ کسی بھی پختون معاشرے میں ایک خاتون کا سوشل میڈیا پر آنا اور پھر میزبانی کرنا انتہائی برا اور پختون روایات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ اور اس کی وجہ سے ان کو ہیٹ سپیچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے ان کی ذہنی صحت اور کیریئر متاثر ہوسکتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں اکثر ان کو ډمہ کہا جاتا ہے، ډمہ پشتو کا لفظ ہے جو اکثر پختون لوگ ایک اداکارہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جب بھی مارننگ شو ہوسٹس کوئی اچھا کام کرتی ہے تو لوگوں کا یہ نظریہ ہوتا ہے کہ یہ اچھائی صرف اور صرف ریٹنگ کے لیے کر رہی ہے حالانکہ ضروری نہیں کہ وہ ریٹنگ کے لیے یہ سب کر رہی ہو۔
مارننگ شوز پورا ہفتہ جاری رہتے ہیں جو اکثر لائیو دکھائے جاتے ہیں اوران ہوسٹس کے بارے میں باڈی شیمنگ، صنف، کردار اور خواتین کو گمراہ کرنے کے حوالے سے ہیٹ سپیچ لائیو ہی کی جاتی ہے. سب سے زیادہ ان کو بالوں کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے ان کو کہا جاتا ہے کہ ”ارے او گنجی آپ کے تو بال ہے ہی نہیں ہر وقت وگ لگائی رہتی ہو۔
ارے آپ کتنی باتونی ہو۔
ارے یہ سب تو ریٹنگ کے لیے ہو رہا ہے۔
ارے آپ تو طلاق یافتہ ہو اپنا تو گھر سنبھال نہیں سکتی ہماری خواتین کو کیوں گمراہ کر رہی ہو؟
اپنی شکل تو دیکھو ذرا اس میں تو بالکل بھی نور نہیں ہے۔ آپ تو بلکل دلہن لگ رہی ہو اتنا زیادہ میک اپ اور ہیوی ڈریس پہنا ہے۔
آپ تو اکیلے رہتی ہو آپ کا تو کردار ٹھیک نہیں ہے“
روزانہ کی بنیاد پر ہراساں ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی پرائیویسی لیک کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ عوام ان کو پبلک پراپرٹی سمجھتے ہیں کیونکہ اکثر عوام کے مطابق اگر ایک خاتون میڈیا پرآتی ہے تو اس کا نہ تو کردار ہے اور نہ ہی کوئی پرسنل لائف۔
صوابی سے تعلق رکھنے والی شازمہ حلیم جو 36 سال سے میڈیا اور انٹرٹینمنٹ کے شعبے سے وابستہ ہے۔ 1986 میں انہوں نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سینٹر سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ جیو اور اے ار وائی میں بطور اداکارہ ڈراموں میں بھی کام کیا ہے۔ انہوں نے خیبر ٹی وی میں تیرہ سال بطور مارننگ شو ہوسٹ کام کیا ہے۔ حالیہ وقت میں شازمہ پی ٹی وی سینٹر کے ساتھ لائیو شو ہوسٹ کرتی ہے۔
انہوں نے اپنے چھتیس سالہ تجربے کی بنیاد پر خواتین مارننگ شوز ہوسٹس کے بارے میں ہیٹ سپیچ کا موازنہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ "آج سے بیس یا پچیس سال پہلے مارننگ شوز ہوسٹ کرنے یا لائیو پروگرام کے بارے میں آج کی طرح ہیٹ سپیچ اتنی زیادہ نہیں کی جاتی تھی کیونکہ اس وقت انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا اتنا عام نہیں تھا، اور نہ ہی اتنی زیادہ خواتین مارننگ شوز ہوسٹ کرتی تھی۔ اس وقت فنکار اور ہوسٹس کی قدر کی جاتی تھی۔ اس وقت لائیو پروگرام ہو یا مارننگ شو لوگ اپنے خط کے زریعے یا پی ٹی سی ایل کال کے زریعے اپنے پیار اور راۓ کا اظہار کرتے تھے۔ اس دوران اگر کسی ہوسٹ کے منہ سے کوئی غلط بات نکل جاتی تھی تو ہر کوئی آسانی سے ریکارڈ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ نہ تو ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل ہوتا تھا اور نہ ہی اس کو وائرل کرنے کا اتنا طریقہ کار تھا۔ مگر آج کے دور میں سوشل میڈیا کے ترقی کے ساتھ ساتھ آنلائن ہیٹ سپیچ نے بھی خوب ترقی کی ہے جو ہم ہوسٹس کے ساتھ ساتھ کسی کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہے“
سوشل میڈیا کے اس جدید دور میں جہاں آنلائن ہیٹ سپیچ ذیادہ ہے، اس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ”آج کے دور میں جب میں ہوسٹنگ کرتی ہوں تو مجھے خوف رہتا ہے کہ آیا میرا دوپٹہ صحیح ہے یا نہیں، میرے منہ سے کوئی ایسی بات نکل نہ جائے کیونکہ آج کے دور میں لوگ ویڈیوز میں سے چھوٹے چھوٹے کلپس نکال کر وائرل کر دیتے ہیں جو ہمارے خلاف غلط طریقے سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ مجھے بھی آنلائن ہیٹ سپیچ کا سامنا ہوا ہے جس نے مجھے ذہنی طور پر کافی پریشان کیا تھا جیسا کہ لائیو پروگرامز میں اکثر لوگ ملنے، کال پر باتیں کرنے اور یا کھانا کھانے کے لیے مدعو کرتے تھے۔ بلکہ مجھے تو اکثر لوگوں کی یہ دھمکی بھی ملتی تھی کہ آپ ہم سے ملے اگر آپ ہم سے نہیں ملتی تو ہم آپ کو اغوا کر لیں گے، آپ کو نقصان پہنچائیں گے، آپ کی گاڑی کو بم سے اڑا دینگے، آپ کے گھر کا ایڈریس ہم معلوم کر لیں گے وغیرہ وغیرہ۔ مگر میں اس معاملے میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کیونکہ میرے گھر والے مجھ پر اعتماد کرتے ہیں۔ لیکن میرا دل تب دکھتا ہے کہ اس فیلڈ میں آنے والی کم عمر لڑکیوں کو کتنی مشکلات ہونگی کیونکہ آج کے دور میں جب ایک خاتون میڈیا پر آتی ہے تو لوگ اس کو پبلک پراپرٹی سمجھتے ہیں ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ان کی تو نہ کوئی پرائیویسی ہے اور نہ ہی کوئی پرسنل لائف۔
آنلائن ہیٹ سپیچ کو ختم کرنا تو بہت مشکل کام ہے کیونکہ آپ کس کس کے منہ کو بند کریں گے مگر کسی نہ کسی حد تک ہم اس پر قابو پا سکتے ہیں۔ اپنی محنت جاری رکھیں اور لوگوں کی باتوں پر توجہ نہ دیں کیونکہ اگر ہم اچھا کام کریں گے تب بھی یہ لوگ ہیٹ سپیچ کریں گے اور اگر برا کریں گے تو پھر تو کریں گے ہی کریں گے“
خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی زکیہ خان نو سال سے مىڈیا کے شعبے سے وابسطہ ہے۔ انہوں نے پانچ سال مشرق ٹی وی میں کام کیا، مشرق ٹی وی پاکستان کا پہلا پشتو نیوز چینل تھا جو پشتو کی خبریں نشر کیا کرتا تھا اور اب بھی کر رہا ہے۔ حالیہ وقتوں میں وہ پاکستان ٹیلی ویژن سینٹر کے ساتھ انفوٹینمنٹ کے نام سے ایک پروگرام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ سنو پروگرام 89.4 آ ئی ایس پی آر ریڈیو کے ساتھ چھ سال سے بطور ریڈیو براڈ کاسٹر کام کر رہی ہے۔ شازیہ دو مارننگ شوز کر رہی ہیں ایک کا نام ہے پختنونخوا ٹائم اور دوسرے کا نام ہے دہ کور خائیست جس کا مطلب ہے گھر کی خوبصورتی۔ مارننگ شوز ہوسٹنگ کی وجہ سے انہوں نے علاقائی زبان میں آنلائن ہیٹ سپیچ کے کچھ جملوں کے بارے میں بتایا کہ ”تا خو د زنانہ نوم وشرمولو“ یعنی آپ نے خواتین کا نام بدنام کیا ہے۔ "زړه مې غواړى چه ده ويختو نه دې ونيسم“ دل کرتا ہے کہ آپ کو بالوں سے پکڑ لوں۔ ”لوپټه دى په سر نشته ټول ويخته دى ښکاري“ آپ کے سر پر دوپٹہ نہیں ہے اور آپ کے سارے بال نظر آرہے ہیں۔
”ته خو خلق ګنهنګارى“ آپ تو لوگوں کو گنہنگار کر رہی ہو۔ ”اول خپل ځان ټهيک که بيا خبري کوه“ پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کرو پھر باتیں کرو وغیرہ وغیرہ۔
آنلائن ہیٹ سپیچ کی وجہ سے ڈپریشن میں جانے کے حوالے سے زکیہ نے بتایا کہ ”آنلائن ہیٹ سپیچ کی وجہ سے میں تین ہفتے تک ڈپریشن میں چلی گئی تھی کیونکہ میں نے کچھ ایسے الفاظ سنے تھے جس کی وجہ سے میں انتہائی دلبرداشتہ ہو گئی تھی اور مزید کام کرنے کو دل نہیں کر رہا تھا۔ مگر پھر میں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ہونے والے آنلائن ہیٹ سپیچ کو دیکھنا ہی چھوڑ دیا جس کی وجہ سے میں نے کسی حد تک اپنی ڈپریشن پر قابو پا لیا۔ کیونکہ ہمیں اپنی ہمت نہیں ہارنی چاہیے بلکہ مزید کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہماری پختون خواتین بہت ہی کم میڈیا پر آتی ہے“
خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے تعلق رکھنے والی پریشے خان ہم پشتو ون سے "پخیر پختونخوا“ کے نام سے ایک مارننگ شو ہوسٹ کرتی ہے جس کا مطلب ہے خوش آمدید پختونخوا۔ آنلائن ہیٹ سپیچ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ”مجھے عوام کی طرف سے اتنا زیادہ ہیٹ سپیچ نہیں ملی مگر رشتہ داروں کی طرف سے مجھے انتہائی ہیٹ سپیچ کا سامنا ہوا ہے کیونکہ وہ میرے گھر والوں خاص کر بھائیوں کو بتاتے تھے کہ پریشے نے تو ہمارا نام بدنام کر دیا، یہ کیسی پختون ہے جو میڈیا پر آتی ہے، یہ تو نقاب کیۓ بغیر سکرین پر نظر آتی ہے، ہمیں لوگ ووٹ کیسے دیں گے وغیرہ وغیرہ“
انہوں نے بتایا کہ اٹھ سال تک میں ہیٹ سپیچ برداشت کرتی رہی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی محنت جاری رکھی اور ہیٹ سپیچ کو اپنے اوپر حاوی ہونے نہیں دیا کیونکہ ان کے گھر والوں کی سپورٹ انھیں حاصل تھی۔
قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والی ناہید جہانگیر جو 2006 سے میڈیا کے شعبے سے وابستہ ہے اور پشاور کے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ میں اسسٹنٹ میڈیا مینیجر کے عہدے پر فائز ہے۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی ویژن سینٹر، ٹرائبل نیوز نیٹ ورک سمیت مختلف میڈیا کے اداروں کے لیے کام کیا ہے۔ ناہید خیبر پختونخوا کی پہلی فیس بک لائیو نیوز اینکر ہے جنہوں نے مقامی زبان میں لائیو پروگرام کیا ہے۔ اپنے لائیو پروگرام کے مختلف آنلائن ہیٹ سپیچ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ”اللہ آپ کے شوہر کو تباہ کرے کہ آپ کو پیسوں کے لیے میڈیا پر آنے کی اجازت دیتا ہے حالانکہ میں شادی شدہ نہیں ہوں۔ کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟ آپ کتنی خوبصورت ہو میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کتنی گوری ہو، آپ کو میک اپ کی کیا ضرورت ہے جیسے الفاظ روز سننے کو ملتے تھے جس سے میں کافی دلبرداشتہ ہو جاتی تھی مگر میں اس کو اگنور کرتی تھی کیونکہ یا تو میں اپنا کام جاری رکھتی اور یا اسی آنلائن ہیٹ سپیچ کو لے کر گھر بیٹھ جاتی۔ مگر گلہ مجھے اپنے ہی فیلڈ کہ کچھ دوستوں سے ہیں کیونکہ وہ اسی آنلائن ہیٹ سپیچ سے سکرین شاٹس لے کر مجھے انباکس کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ دیکھو آج پھر آپ کو آنلائن ہیٹ سپیچ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پھر میں نے سوچا کہ جب ہم سکرین پرآتے ہیں تو ہم پبلک فگرز بن جاتے ہیں اور پبلک فگرز کے بارے میں اچھی باتیں بھی بولی جاتی ہے اور بری بھی اور اس بات نے مجھے مزید کام کرنے کے لیے حوصلہ دیا“
پشاور سے تعلق رکھنے والی کلینیکل سائیکالوجسٹ حافظہ زمر ملک نے آنلائن ہیٹ سپیچ کے بارے میں بتایا کہ یہ آج کل ایک خطرناک حد تک ہر خاص و عام کو متاثر کرتا ہے، اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہیٹ سپیچ کسی کے بارے میں ہو اور یہ اس کے ذہن پر منفی اثر نہ چھوڑیں۔ آنلائن ہیٹ سپچ کے ذہن پرمنفی اثرات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ”جب بھی کسی بندے کے بارے میں آنلائن ہیٹ سپیچ کی جاتی ہے بالخصوص خواتین مارننگ شوز ہوسٹس کے بارے میں تو وہ پیپل پلیزر یعنی لوگوں کو خوش کرنے والے بن جاتے ہیں کیونکہ ان کے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال رہتا ہے کہ آیا کیا ہم کچھ غلط کر رہے ہیں کہ یہ عوام ہمارے بارے میں اتنے غلط کمنٹس پاس کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں پھر ایک ہوسٹ کو ہمیشہ یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں میں اکیلی نہ رہ جاؤں، کہیں مجھے ان غلط کمنٹس کی وجہ سے اپنی نوکری سے نکال نہ دیا جائے۔ اور ان سب کی وجہ سے ان کی خود اعتمادی کم ہو جاتی ہے۔ اور آہستہ آہستہ وہ ڈپریشن میں چلی جاتی ہے اور کھبی پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس ہوسٹ میں پرسنالٹی ایشوز بننا شروع ہو جاتے ہیں کہ آخر کیوں میرے ساتھ ایسا ہو رہا ہے۔
ایڈوکیٹ پشاور ہائی کورٹ لائبہ گل شیر نے خواتین مارننگ شوز ہوسٹس کے بارے میں آنلائن ہیٹ سپیچ کے حوالے سے بتایا کہ " ان ہوسٹس کے بارے میں ایسے الفاظ، تبصرے یا پیغامات بیان ہوتے ہیں جو ان کی عزت، کردار یا مقام کو بدنام کرنے کے لیے سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ پر پھیلائے جاتے ہیں جو صنفی امتیاز، کردار کشی، دھمکیوں اور بدزبانی پر مشتمل ہوتی ہے۔ اکثر لوگ اپنی شناخت چھپا کر آسانی سے ہیٹ سپیچ کرتے ہیں۔
قانون میں کچھ سیکشنز اور سزائیں ہیں جیسا کہ
پاکستان پینل کوڈ (PPC) کے تحت دفعہ 153-A: گروہوں میں نفرت پھیلانا جس کی سزا5 سال تک قید ہے۔
دفعہ 505(2): نفرت انگیز بیان دینا: اس کی سزا 7 سال تک قید ہے۔
الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون (PECA 2016) کے کچھ سیکشنز ہیں:
سیکشن 11: آنلائن ہیٹ سپیچ: جس کی سزا 7 سال تک قید ہے۔
سیکشن 20: آنلائن کردار کشی: جس کی سزا 3 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ ہے۔
سیکشن 37: نازیبا یا نقصان دہ مواد کو بلاک کرنا (PTA کے ذریعے)۔ خواتین کو ان سب کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے کہ اگران کے ساتھ ایسا کچھ ہوتا ہے تو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے لیے آسانی پیدا کر سکتے ہیں“
مینیجرعورت فاؤنڈیشن صائمہ منیر نے آنلائن ہیٹ سپیچ کے بارے میں بتایا کہ ”جتنا زیادہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا استعمال ہوتا جا رہا ہے اتنی ہی آنلائن ہیٹ سپیچ بھی زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ اور بالخصوص خواتین کے بارے میں تو پختون معاشرے میں آنلائن ہیٹ سپیچ خطرناک حد تک زیادہ ہوتی ہے کیونکہ پختون معاشرے میں اگرایک خاتون میڈیا پر آتی ہے تو وہ پختون روایات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ والدین کو بچوں کو ہاتھ میں موبائل دیتے وقت یہ سمجھانا چاہیے کہ اس کا اچھے طریقے سے استعمال کیسے کرنا ہے کیونکہ جب یہی بچے بڑے ہوتے ہیں تو یہ پھر بڑی آسانی سے آنلائن ہیٹ سپیچ کرتے ہیں۔ تمام خواتین کو معلوم ہونا چاہیے کہ آنلائن ہراسمنٹ اور آنلائن ہیٹ سپیچ کے حوالے سے ایف آئی اے میں کس طرح اپنی رپورٹ یا شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ پیکا ایکٹ میں بھی اس کی سخت سزائیں موجود ہے۔ میڈیا پر آنے اور ایک پروگرام کو ہوسٹ کرنے پر خواتین کا بھی اتنا حق ہے جتنا مردوں کا ہے کیونکہ یہ معاشرہ صرف مردوں کا نہیں بلکہ خواتین بھی اس کا حصہ ہے۔ کوئی بھی معاشرہ تب ترقی کر سکتا ہے جب اس میں انکلیوسیوٹی ہو، خواتین کی عزت ہو اور ان کو برابری حاصل ہو۔ آئیں مل کر اس معاشرے کو ہیٹ سپیچ سے پاک کر کے ہر کسی کو سکون سے جینے دیں۔
June 19, 2025 - Comments Off on ‘The Intersection of Populism, Racism, and Misogyny’ by Zainab Dar
‘The Intersection of Populism, Racism, and Misogyny’ by Zainab Dar
In recent years, populist politics have increased in tandem with hate speech, especially on social media platforms. The fusion of hate speech and populism has made digital media platforms a volatile space where hate speech thrives unchecked. Across national contexts, populist leaders and their online supporters have weaponized online spaces to normalize misogyny, racism, and religious bigotry. From dog-whistle politics to outright slurs, gendered and communal hate is amplified in algorithmic echo chambers that reward outrage and division.
This dangerous convergence became starkly visible in the aftermath of the Pahalgam attack in May 2025, when India blamed Pakistan for the violence without credible evidence. What followed was not just a military standoff, but a digital war marked by an explosion of online hate. Indian social media platforms were flooded with anti-Pakistan slurs, Islamophobic hashtags, and gendered abuse by right-wing influencers, political accounts, and even mainstream media figures. This article explores the patterns of hate speech in South Asia as well as around the world, where populist leaders have increasingly relied on inflammatory rhetoric during elections to mobilize support and delegitimize opponents.
During the recent India-Pakistan standoff, Indians and Pakistanis clashed on social media. While militaries exchanged missiles and cross-fires across the border, citizens of India and Pakistan attacked each other using pejorative and discriminatory language, with most such attacks being rooted in misogyny and racism. Hence, social media descended into hate speech and Online Gender-Based Violence. According to Foundation the London Story’s Escalate report, "the conflict's intensity was exacerbated by the rapid dissemination of hate speech and war frenzy on social media, where nationalistic fervour and inflammatory rhetoric spread unchecked." A study by the Digital Rights Foundation further revealed that out of the 295 posts analyzed regarding the conflict, 25% were found to spread gendered disinformation, technology-facilitated gender-based violence (TFGBV), and gendered hate speech.
After the Pahalgam attack and during Operation Sindhoor, the Hindutva trolls attacked both Pakistani and Indian Muslims using racist and sexist slurs. Some accounts called for the financial boycott of Muslims with the hashtag BoycottMuslims while others started glorifying the character of Brigadier Pratap Singh from the movie Shaurya; the said character displaying no remorse in killing Muslims. An X (formerly Twitter) account user shared the character's photo with a caption that implied Muslims in both Pakistan and India are state enemies. The X post below shows how users spread communal hatred by alleging that Muslims spit in the food they give to Hindus. Pakistanis’ mocked Hindus by saying that they drink cow piss. One person shared a person holding a cow urine cola to humiliate Hindus.
Someone who holds misogynistic views considers it an insult to call a man a woman. One X user shared a feminized picture of Pakistan's Army Chief with Sindhoor to show contempt for both the army chief and women.
Following Turkey's support of Pakistan during the conflict, a boycott campaign against Turkey ensued, driven by social media outrage. Multiple people called for a trade and travel boycott of the country, while another user made sexually explicit comments about Turkish women, which left people aghast.
It wasn't only Muslims who faced the fury of ideologically driven hatred. For merely leading the press briefings of Operation Sindoor, India's Foreign Minister Vikram Misri was trolled, and his daughter became a victim of hate speech, doxxing, and received threats of sexual violence. An X account disclosed the details of Misri's daughter and highlighted the fact that she is a contributor to The Wire, a progressive news website from India, which is critical of the Modi regime. The surge of hateful comments resulted in the foreign minister making his account on X private. One user even went as far as to call for the termination of Vikram Misri because of his daughter's support for Rohingya Muslims.
Equally alarming is when a survivor of the Pahalgam attack, Himanshi Narwal, was harshly trolled on social media when she called for peace and non-violence against Kashmiris and Muslims. Some people questioned if she had links with terrorists, and one user implied that she orchestrated her husband's death by planning to go to Kashmir.
While online gendered hate speech and racism continued in tandem with gendered disinformation by state-backed media and BJP politicians, creating a religious divide, feminism was weaponized to get the approval of the masses. The Indian government militarized the vermilion powder that married Hindu women apply as a ritual in the name of avenging the grief of widows who lost their husbands in the Pahalgam attack. One widely shared picture on social media showed a woman's sindhoor turning into a missile.
More often than not, online hate speech translated into hate crimes against Muslims: 64 in-person hate speech incidents occurred in the two weeks after the Pahalgam attack. While having a Muslim woman and army officer, Colonel Sofiya Qureshi, as part of the Operation Sindhoor press briefings ostensibly signaled India as an inclusive state, the symbolism took a serious hit when a BJP minister called Colonel Sofiya Qureshi, the "sister of terrorists".
To understand the prevalence of sexism and misogyny on Indian social media, one has to consider the fact that Modi's populist repertoire is built on the supremacist Hindutva ideology. Under his leadership, the BJP's Hindutva asserts masculinity and demonizes religious minorities. BJP also often invokes masculine ideas and valorizes a Hindutva male ideal in social media campaigns. Various examples such as, a viral video on Indian social media sowed suspicion of both Muslims and women by portraying how men use burqas for criminal activities, a company's ad intended for cultivating religious harmony engendered online backlash and #BoycottTanishq trending only because it showed a Hindu daughter-in-law with a Muslim mother-in-law, all show how religion is weaponized under the Hindutva ideology. According to Rishiraj Sen and Shweta Jha, the Hindutva movement's "insistence on the hypermasculine performance of politics through violent rhetoric, anti-minority hate speech, and eviction from space through brutality is consistent with the other far-right populist nationalisms." Hence, women have faced consistent threats of doxxing, deepfake pornification, and digital rape threats under the Modi regime.
Sexism and misogyny-driven humor and memes were propagated by Pakistanis on social media as well. As soon as the name of Operation Sindhoor was revealed, Pakistanis made sexist jokes around consummating the marriage and/or making these wives widows. When fake news about the capture of a female Indian pilot spread on social media, sexist jokes were made about the appearance of the pilot and stereotypical gender roles. A social media post said that after capturing a male pilot who was served tea, Pakistan has now captured a pilot who will make the tea.
Along with the Indian female pilot, Indian journalist Barkha Dutt was also trolled for her appearance after her participation in a talk show with a Pakistani journalist and former foreign minister.
Another meme depicted Indian male pilots wearing bangles to mock societal gender norms.
In Pakistan, various politicians and religious groups also propagate misogynistic and sexist views with impunity while getting away with it, of the country’s internalized misogyny and gender stereotypes. Pakistan is a long way from achieving gender equality, ranking last on the World Economic Forum's gender parity report for 2024. 28% of women in Pakistan face physical violence. Pakistan's current defense minister, Khawaja Asif, called female politicians from the opposition party “trash and leftovers”. He had also fat-shamed a female politician by calling her a tractor trolley. Former Prime Minister Imran Khan had pinned the blame for sexual assaults on women and suggested they cover up. Former Minister for Information and Broadcasting Fawad Chaudhry had also made sexist remarks about politician Hina Rabbani Khar by calling her a low-IQ woman. Thus, sexist and gendered hate speech gains traction on social media as well because of entrenched misogyny and sexist political rhetoric.
Social media, instead of being used to call for peace, has become a vehicle for amplifying hate, particularly targeting women, and religious minorities. According to Dr. Maria Malik, assistant professor in the Politics department at Quaid-e-Azam University, "the events that unfolded as a result of a 4-day standoff between India and Pakistan in the first half of May 2025 seemed like we still have a lot to learn about pluralism, co-existence, and tolerance. Social media platforms were filled with tweets, posts, and memes, which seemed to have forgotten that both countries are home to religious minorities - Muslims being the biggest religious minority in India and Hindus the largest religious minority group in Pakistan."
Misogyny and sexism were also expressed aplenty during the 2024 US presidential elections, in which the populist candidate Donald Trump won his second term. Among other insensitive and offensive things, President Donald Trump tends to pass remarks on women's appearance in his speeches. During the 2024 elections, he commented on Kamala Harris' appearance by saying that he is better looking than her. In one interview, Trump accused Kamala Harris of lying about her race by saying that she "turned black" someday. Trump’s followers take cues from his tweets to attack anyone whom he criticizes in his tweets, hence making Kamala Harris a target of sexist hate speech, too.
President Trump’s comments on women aren’t stylistic but deeply rooted in his political ideology. Masculinity and misogyny are the two features of President Trump’s “hegemonic populism”. Women's interests and well-being, such as their reproductive rights and health, are put at risk by the policies and beliefs of President Trump and his Make America Great Again (MAGA) movement supporters. Trump's vice presidential candidate, JD Vance, also expressed misogynistic views by describing the leading Democratic party women as a bunch of childless cat ladies who are miserable at their lives and want to make others' lives miserable too.
A similar trend of the rise of populism, misogyny, and online gender-based violence is observed in European countries as well. A study of the 2024 European elections revealed that women politicians faced 80% more hateful comments on TikTok than their male counterparts. These hateful comments included objectification based on age and gender, and some even resorted to name-calling. A study of Spain's Conservative Vox party revealed that people who have sexist beliefs also tend to have populist beliefs, and this connection could make parties that oppose gender equality use populist ideas as well. This also shows that populists capitalize on people’s sexist views to appease their voters.
The above discussion shows that name-calling, fat-shaming, gendered hate speech, and toxic masculinity are perpetrated by both populist leaders and social media users. The convergence of digital technology, ideological extremism, and populist politics presents an urgent challenge that transcends borders. This is even more harmful, considering that echo-chambers on social media reinforces already existing biases against gender and religious minorities.
Dangerous rhetoric of political leaders and disinformation of media outlets can culminate in real-world violence and long-term social fragmentation. Social media platforms, which have enabled previously marginalized voices to speak up, have also become battlegrounds where disinformation and hate speech go unchecked. Without concrete steps to hold digital actors and politicians accountable and counter the culture of impunity, hate speech, and gender-based violence will remain entrenched features of both online discourse and political mobilization. Regulatory bodies and civil society must work to demand stronger and transparent content moderation policies and support mechanisms for targets of online abuse. Social media companies should assess the impact of hate speech by political and religious leaders and bring content moderation policies in line with international human rights best practices and norms. The content that incites violence should be banned outright and alternative information to the fake news should be provided to the users.
June 19, 2025 - Comments Off on From Censorship to Cyberhate: The Digital Siege on Balochistan By Asma Tariq
From Censorship to Cyberhate: The Digital Siege on Balochistan By Asma Tariq
Balochistan, Pakistan’s largest yet most marginalized province, endures not only physical repression but also systematic digital silencing. According to the Pakistan Commission of Inquiry on Enforced Disappearances (COIED), over 10,000 enforced disappearances have been recorded across Pakistan since 2011, with at least 2,752 in Balochistan alone, and activists estimate the real figure may be closer to 7,000 missing individuals. In 2023 alone, the activist group Paank documented 576 disappearance cases, escalating to 619 in 2024, alongside rising extrajudicial killings and torture. Today, social media platforms have emerged as the new frontlines, where Baloch activists, especially women, face hate, disinformation, and censorship, just as sharply as they do offline.
While these issues have existed for decades, a new form of suppression has emerged in the digital world. Social media, once seen as a space for truth-telling and resistance, has now become another battlefield. Baloch activists, especially women, are not only silenced by the state but are also facing hate campaigns, disinformation, and content takedowns on platforms that claim to protect free speech.
Media Censorship and State Surveillance:
Being a journalist in Balochistan is one of the most dangerous jobs in Pakistan. Many journalists have faced threats, violence, and even forced disappearances, especially in high-conflict areas. Despite the risks, there is little to no protection for media workers or activists on the ground.
According to Amnesty International and other human rights groups, the situation for journalists in Balochistan has worsened over the years. Most attacks go unpunished, and those responsible are rarely held accountable. This failure by successive governments and the weak legal system has created a culture of impunity, where journalists live in fear but receive no justice.
One recent example is the killing of journalist Abdul Latif Baloch. On May 24, he was shot and killed inside his home by a state-backed militia in Balochistan. The International Federation of Journalists (IFJ) and the Pakistan Federal Union of Journalists (PFUJ) condemned his murder and called on the government to investigate the case. They demanded that authorities protect journalists and ensure they can work freely without fear of threats, violence, or harassment.
Sadly, cases like Abdul Latif’s are rarely covered by mainstream media due to state pressure and censorship. As a result, Baloch voices are often silenced and ignored on national platforms, leaving their stories untold and their struggles hidden from the rest of the country.
The Digital Escape: From Protest to Platform
As traditional media continues to ignore or suppress the voices of Balochistan, activists and the families of the disappeared have turned to social media to document their experiences and demand justice. Platforms like Twitter (now X), Facebook, and Instagram have become essential tools for raising awareness, organizing protests, and sharing stories that would otherwise go unheard. However, this digital shift has not offered the safety or visibility many hoped for. Instead, it has introduced new layers of censorship, surveillance, and algorithmic erasure.
The Double Standard of Social Media Platforms:
Baloch activists regularly use hashtags like #SaveBalochStudents, #BalochLivesMatter, and #StopEnforcedDisappearances to draw attention to ongoing human rights violations. These digital campaigns often emerge from grassroots movements led by students, families of missing persons, and rights defenders. Despite their peaceful nature, many of these posts are taken down, flagged, or shadowbanned without any clear explanation. Many Baloch activists have faced content takedowns, account suspensions, and shadowbanning, particularly when highlighting enforced disappearances, military operations, or student-led demonstrations. I’ve experienced this firsthand: my own account has been marked as ‘non-recommendable,’ significantly limiting visibility and engagement. This kind of digital silencing not only affects our reach, it erodes the very possibility of public accountability.
Many suspect that social media posts and livestreams by Baloch students protesting racial profiling and disappearances are reportedly taken down or hidden by algorithms, especially on Facebook and TikTok. Activist Sammi Deen Baloch has spoken out about being digitally silenced.
In stark contrast, posts promoting hate speech, racial slurs, or disinformation about Baloch people are rarely moderated. Many remain live for days or even weeks, gathering support and spreading harmful stereotypes. This creates a dangerous imbalance, where victims of violence and oppression are silenced while their attackers are given digital space to thrive.
It has been observed that there has also been a surge in numerous videos accusing Baloch human rights activists of being “foreign agents,” “terrorists,” or “anti-state elements,” often using derogatory slurs such as “raw agents,” “traitors,” or “miscreants”. Despite being widely reported, many of these posts remained active. During protests in Islamabad (2021–2024), hashtags like #BalochDrama and #FakeAbductions trended, mocking enforced disappearances. Activists reported these, but X/Twitter did not take action in most cases.
Prominent Baloch female activists like Sammi Deen Baloch and Mahrang Baloch were targeted with gendered slurs and character assassination posts, many of which went unchecked to date. Several nationalist pages (still active as of 2023) regularly post manipulated images or conspiracy theories portraying Baloch protests as "foreign-funded chaos" or “extremist movements”. Posts written in local languages like Urdu or Balochi containing hateful speech are less likely to be moderated due to linguistic gaps in automated moderation systems.
Moreover, there appears to be a troubling regional disparity in how Baloch-related content is surfaced online. Activists have observed that when they log into X/Twitter from within Balochistan, their community’s hashtags trend locally, creating a sense of solidarity. But when the same accounts are viewed from cities of Punjab, Sindh, those posts are either invisible or deeply buried. This form of digital fragmentation not only weakens nationwide support but also allows state-sponsored disinformation to fill the void.
While no comprehensive data or comparative analysis currently exists to measure this algorithmic gap, several activists have shared consistent observations. For instance, two Baloch activists, Kinza and Awais, noted that when logging into X from Balochistan, community hashtags like #BalochMissingPersons trend locally, creating a visible sense of solidarity. However, the same hashtags often remain invisible or far less prominent when accessed from cities like Lahore or Karachi. While anecdotal, these repeated patterns point to a potential and alleged case of digital fragmentation, where regional visibility is restricted, unintentionally or otherwise, limiting national awareness and leaving room for competing narratives or disinformation to thrive.
Digital Disappearance of Truth and Surveillance:
Awais, a young activist from the Hazara community in Quetta, shared a heartbreaking experience that reflects this growing digital repression. One of his close friends, a young woman, was very vocal on social media platforms about the political climate in Balochistan. He added that, “She would post about disappearances and injustice, and we’d always tell her to be careful”. Awais recalled, “We begged her to stop posting. But she didn’t want to stay silent. She believed someone had to speak up.”
“One day, she just disappeared. We still don’t know where she is,” Awais said quietly. Her disappearance is part of a growing pattern where digital activism leads to real-world danger.
Awais also spoke about how hard it is to even see content about Balochistan online. “When I open social media, I see posts about Gaza and global issues. But Balochistan? Almost nothing. It’s like the algorithm hides it from people outside the region,” he said. “Even politically active people don’t know what’s going on because the posts don’t reach them.”
For Awais and others like him, the emotional toll is high. “We’re always paying the price for something we didn’t do,” he said. According to Awais, “People in Balochistan are tired. Young people just want to leave the country now. They don’t want to live in fear anymore, always worried that they or their friends might disappear just for telling the truth.”
Coordinated Hate Campaigns and Digital Censorship Against Baloch Activists:
Romasa Jami, a social activist and human rights advocate, says the crisis in Balochistan is not just ignored, it is intentionally erased from public discourse.
“There’s a conscious silence,” she explains. “Many people in Pakistan remain unaware, or choose to stay unaware of the serious issues in Balochistan. Most don’t even try to learn what’s happening.”
Romasa notes that Baloch activists, students, and human rights defenders are frequently bombarded with hateful and abusive messages online, simply for speaking out.
“They’re wrongly labelled as ‘anti-state,’ ‘foreign agents,’ or even ‘terrorists,’ just for demanding basic human rights. These labels are part of a systematic campaign to silence and discredit them.”
One of the more insidious tactics, according to her, is the weaponization of misinformation to create fear and suspicion.
“Some Indian media outlets push the false narrative that all Baloch people support India. This is then used within Pakistan to justify the state’s mistreatment of Baloch voices. It becomes a dangerous justification: if you talk about justice in Balochistan, you must be working for a foreign enemy,” said Romasa.
This disinformation, she adds, doesn’t just affect people who are misinformed; it also shapes perceptions, even among politically active citizens.
“People in urban areas, even those with higher education, reinforce these negative stereotypes. They don’t question them. It becomes nearly impossible for Baloch voices to be heard with fairness or empathy,” she added.
Romasa also shares her personal experience with digital censorship when she tried to speak out during the arrest of Dr. Mahrang Baloch, “I posted stories using hashtags like #FreeMahrangBaloch, but they were removed. My posts were shadowbanned. I didn’t even realize they were being hidden until someone pointed it out.”
In an effort to avoid further suppression, she had to reword her posts. She added, “I rewrote my captions using more careful, ‘acceptable’ political language, just to avoid triggering the algorithm. I still don’t fully understand how it works, but I know it’s real. And I know it’s working against us.”
Even with these precautions, she still faced backlash, “I received hateful messages. People attacked my character just for standing in solidarity with the Baloch community.”
Romasa emphasizes that this kind of harassment isn’t just emotionally draining, but actively discourages women from speaking up. “It creates fear. It forces many women to either stay silent or censor themselves. And that’s exactly what these campaigns are designed to do.”
Silencing of Baloch Women:
One young woman activist, who is particularly vocal on social media platforms, shared how her struggle for education isn’t just hindered by geography or poverty, but by a generational war against silencing. The disappearance of her brother and the constant fear of state backlash have shaped every part of her life and every Baloch woman's too.
"It’s not safe to speak with my real name," she said. "Our identities can kill us."
Like many others, she uses altered names or remains anonymous online, aware that any visibility could put her or her family in danger. To be known is to be vulnerable. Even a single tweet, a photo at a protest, or a shared memory of a missing loved one can bring threats, harassment, or even state retaliation.
In Balochistan, women have become powerful voices in the fight against enforced disappearances and state violence. Many of them do not come from political backgrounds; they are mothers, sisters, wives, and daughters, but they still step forward to protest and demand justice. They take part in sit-ins, marches, and speak out online, even though doing so puts them at great risk.
Despite their immense courage, Baloch women are systematically ignored, not only by the state and mainstream media but also by Pakistan’s urban feminist spaces. Their daily protests against enforced disappearances, repression, and injustice are rarely covered on national news channels. Within popular feminist movements, their voices are often silenced, dismissed, or misunderstood.
“There’s a clear disconnect between urban feminists and grassroots Baloch women,” says Kinza Fatima, a Women, Gender, and Sexuality Studies graduate from the University of Cincinnati and a native of Balochistan. “Urban feminists often view them as passive victims or 'drama queens' instead of recognizing their strength, leadership, and resistance.”
In spaces that should offer solidarity, Baloch women are routinely labelled as "agents," "petty," "immoral". While urban feminists champion women's rights in theory, many fail to stand with Baloch, Pashtun, and rural women from Sindh in practice. There is a lingering savior complex, where women from conflict regions are seen not as political actors, but as helpless figures in need of rescuing.
Kinza added, “Baloch women are often seen as the most suppressed, but they are, in fact, the most progressive. They are resisting militarism, patriarchy, and media silence, all at once. In a country that demands obedience from its women, Baloch women’s very existence as dissenters is revolutionary."
Kinza Fatima further highlighted how, despite facing online censorship and threats, Baloch youth, and especially women, continue to find powerful and creative ways to resist. They use tools like poetry, digital art, anonymous storytelling, and symbolic imagery to raise awareness about the issues their communities face.
Because direct political statements are often flagged or removed by social media platforms, many Baloch creators choose to use symbols. For example, a picture of an empty chair, shoes, or a fading shadow might be used to represent a missing person. These quiet but powerful messages carry deep meaning, especially for families affected by enforced disappearances.
These artistic and symbolic expressions are mostly shared on platforms like Instagram, X, and Facebook. Some of the accounts posting this content have built large followings. They serve as digital community spaces where people can express their grief, share hope, and connect with others globally.
But this resistance is constantly under threat. Some of these accounts are mass-reported and taken down. Even when users try to appeal, most of the time their accounts are not restored. Years of emotional stories, digital artworks, and educational content disappear instantly, silencing not just the content creators but the voices of an entire community trying to be heard.
Before major Baloch gatherings or protests, we often face deliberate internet blackouts and telecom disruptions,” Kinza explains. “These aren’t just technical issues. They are intentional strategies to block coverage, disconnect us from the world, and prevent national and international solidarity. It’s a form of digital isolation that silences resistance before it even begins.”
This pattern of erasure makes it harder for Baloch youth to continue their advocacy and build solidarity with the outside world. Yet despite these barriers, they keep creating, keep telling their stories, refusing to be silenced.
The Problem with Social Media Moderation:
One of the biggest problems with social media platforms is the lack of understanding of the local political context. Posts that peacefully demand justice are wrongly removed, while hateful or violent content is allowed to stay up.
Most moderation is outsourced to other countries, where moderators may not know the actual issue or may have their own personal or political biases. This results in unfair treatment of Baloch activists, especially women, who are already vulnerable. When social media platforms fail to protect human rights defenders, it makes it easier for disinformation to spread and harder for justice movements to grow.
There is an urgent need for these companies to create localized, transparent moderation standards. Activists should not be penalized for reporting human rights abuses, while trolls who spread hatred and disinformation remain protected.
Tech companies must also publicly disclose when content is removed due to state requests, and they must offer better appeal systems to those affected.
Choosing the Right Side of History:
The struggle in Balochistan is not new, but social media has finally allowed parts of the truth to surface. Now, that truth is being pushed back again, this time not just by governments, but by algorithms and trolls.
Yet, people are beginning to listen. More users are becoming aware of the patterns of repression. Artistic content, digital campaigns, and personal stories continue to break through the barriers.
As Kinza says, “You don’t have to do something big: just choose to stand on the right side of history. Refuse to share false narratives. Refuse to ignore suffering.”
Baloch people are not asking for pity. They are asking to be seen, heard, and treated with dignity — both offline and online.

























