May 14, 2026 - Comments Off on سوشل میڈیا کا دباؤ: خیبرپختونخوا میں تعلیم اور عزت کے درمیان لڑکیوں کی جدوجہد
سوشل میڈیا کا دباؤ: خیبرپختونخوا میں تعلیم اور عزت کے درمیان لڑکیوں کی جدوجہد
خالدہ نیاز
"اس کو 30 کوڑے مارو، اس کے والدین کو سزا دو، لکڑی لے کر اس کو مارو پیٹو اور بعد میں انکو بھی سزا دو جس نے اس کو ماڈلنگ کی اجازت دی ہے، اسلامی ملک کے تعلیمی اداروں کا یہ کیا حال ہوگیا ہے، میرے خیال سے پورے خیبرپختونخوا میں یونیورسٹیز کو بند کیا جانا چاہئیے" یہ اور اس جیسے کئی کمنٹس اس وقت سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کی زینت بنے جب رواں سال جنوری میں پشاور یونیورسٹی کی ایک ویلکم پارٹی میں کچھ لڑکیوں کی ماڈلنگ کی ویڈیوز وائرل ہوگئی۔
وائرل ویڈیوز میں کچھ لڑکیاں ایک فنکشن میں واک کرتی نظر آتی ہیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر وہ ویڈیوز دھڑا دھڑ شیئر کی جاتی ہیں اور ان لڑکیوں کی کردار کشی کی جاتی ہے جنہوں نے واک کی۔ کچھ صارفین نے اس کو مذہب کا رنگ دیا تو کچھ نے لڑکیوں کو فحاشی کا مرتکب قرار دیا، کچھ نے انکو ہیرا منڈی لے جانے کا مشورہ دیا تو کچھ نے کہا انکو گھر بیٹھا لینا چاہئے کہ انہوں نے انتہائی غلط قدم اٹھا لیا ہے۔
اس واقعے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی جن کو ٹاسک دیا گیا کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے سفارشات مرتب کریں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماڈلنگ کی ویڈیوز کب کیسے وائرل ہوئی؟
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے پشاور یونیورسٹی کے ترجمان نعمان خان نے بتایا یونیورسٹی میں شروع سے ویلکم اور فیئر ویل پارٹیز ہوتی ہیں تاہم یہ جو ویڈیوز وائرل ہوئی یہ ماڈلنگ پہلے سے ویلکم پارٹی کا حصہ نہیں تھا ان دی سپاٹ سب کچھ ہوا جس کے بعد یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی، جس میں ان تمام لوگوں کو شامل کیا گیا جو اس کا حصہ تھے۔
کمیٹی نے سفارشات دی کہ اس طرح کی سرگرمیاں جب بھی ہو موبائل فون کا استعمال نہ کیا جائے اس میں، طلباء یونیفارم میں آئیں اور میوزک اور ڈانس پر پابندی ہوگی کہ آئندہ اس طرح کا واقع سامنے نہ آئے، جو فیئر ویل اور ویلکم پارٹی ہوگی اس کی کسی قسم کی ریکارڈنگ نہیں ہوگی اگر ہوگی تو وہ صرف آفیشل ہوگی، اگر کسی نے سوشل میڈیا پر وہ ریکارڈنگ شیئر کی تو انکے خلاف کارروائی ہوگی۔
نعمان خان نے بتایا اس کمیٹی کی سفارشات کے بعد یہ فائنل ہوا ہے کہ جو بھی ایونٹس ہونگے ان میں ان تمام سفارشات نافذالعمل ہونگی خاص کر ویڈیوز او تصاویر بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر مکمل پابندی ہے۔
کمیٹی کے علاوہ خیبرپختونخوا کی محکمہ اعلیٰ تعلیم نے بھی اس حوالے سے باقاعدہ ایک نوٹفیکیشن جاری کیا جس میں لڑکیوں کے کالجز میں ویلکم پارٹیز اور اس طرح کی دیگر سرگرمیوں میں موسیقی، رقص اور فیشن شوز پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسی تقریبات میں موبائل فونز کے استعمال پر پابندی عائد ہوگی۔
ایک ویڈیو، کئی سزائیں: معاشرتی رویوں پر سوالیہ نشان
پشاور یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا خیبرپختونخوا میں بہت کم لڑکیاں کالجز اور یونیورسٹیز تک پہنچ پاتی ہیں اب اگر یونیورسٹیز اور کالجز میں ایسی ویڈیوز وائرل ہونگی تو اس کا لڑکیوں کی تعلیم پر برا اثر پڑے گا۔ "یہاں پہلے ہی کچھ والدین لڑکیوں کو اعلی تعلیم دلوانے کے حق میں نہیں ہیں انکو بہانہ مل جائے گا کہ یونیورسٹیز اور کالجز میں تو ایسا ہوتا ہے ویسا ہوتا ہے لہذا لڑکیوں کو پڑھانا ہی نہیں چاہیے"
اس نے بتایا اکثر جو ویڈیوز وائرل ہوتی ہیں وہ لڑکیوں کو پتہ بھی نہیں ہوتا اور وائرل ہو جاتی ہیں، اس سے نہ صرف انکا تعلیمی کیریئر تباہ ہوجاتا ہے بلکہ انکی زندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں کیونکہ پشتون معاشرے میں اس طرح کی باتوں کو اگنور نہیں کیا جاتا ہے اور اس کو غیرت کا مسئلہ بنادیا جاتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں یہ دور جدید ٹیکنالوجی کا ہے لڑکیوں کو اس ٹیکنالوجی سے دور رکھنا بھی انکے ساتھ زیادتی ہوگی لیکن انکی اجازت کے بغیر ویڈیوز وائرل کرنا بھی انکے ساتھ زیادتی ہے لہذا اگر اس طرح کوئی کرتا ہے تو انکے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے تاکہ اگر کوئی ویوز کے چکر میں اس طرح کرنا چاہے تو سو بار سوچے کہ چند ویووز کی خاطر وہ کسی کی زندگی اور مستقبل کو داو پر لگا رہے ہیں۔
پشاور کی ایک سرکاری سکول کی استانی سلمیٰ جہانگیر بھی مانتی ہیں کہ اس طرح کی ویڈیوز لڑکیوں کے لیے تعلیم کی راہ میں حائل ہوسکتی ہیں کیونکہ پشتون معاشرے میں لوگ لڑکیوں کی عزت کو غیرت سے جوڑتے ہیں۔ اس نے بتایا یہاں مسئلہ صرف والدین کا نہیں ہوتا بلکہ والدین سے زیادہ رشتہ دار اس بات کو ایشو بنالیتے ہیں کہ فلاں لڑکی نے ہماری عزت کو داغدار کردیا ہے اس نے خاندان کی عزت کو خراب کردیا ہے اب یہ نہیں پڑھیں گی اب اس کی شادی کروادو۔
وہ بتاتی ہیں تعلیمی اداروں سے غیر نصابی سرگرمیوں کو بالکل نکالا نہیں جاسکتا کیونکہ ایک تو یہ تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں دوسری بات یہ ہے کہ اس سے پوشیدہ صلاحیتیں بھی نکل کر سامنے آتی ہیں، البتہ ایسے ایونٹس میں موبائل فونز کا استعمال ممنوع ہونا چاہئے تاکہ ویڈیوز وائرل نہ ہوں۔ تعلیمی اداروں میں طالبات کو محفوظ ماحول فراہم کیا جانا چاہیے کیونکہ اگر پشاور یونیورسٹی ماڈلنگ والی ویڈیوز کی بات کی جائے تو یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی کئی ایونٹس میں طالبات کی ویڈیوز وائرل ہوچکی ہیں جو انکی مرضی کے بغیر وائرل کی گئی۔
تعلیمی اداروں میں محفوظ ماحول اس لیے بھی ضروری ہے کہ آجکل ڈیپ فیک کا زمانہ ہے، اب اگر کوئی کسی لڑکی کی ویڈیوز بنائے انکو ایڈیٹ کریں تو اس سے انکی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
سلمیٰ نے بتایا ایک طرف حکومت سکولوں سے باہر لانے والے بچوں کو تعلیمی زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے داخلہ مہم اور باقی اقدامات کررہے ہیں تو دوسری جانب اس طرح کی وائرل ویڈیوز ان تمام کوششوں پر پانی پھیر رہی ہیں لہذا جو بھی اس میں ملوث ہو انکو سزا دینی چاہئے اور قوانین پر عمل درآمد کرنا چاہئے ساتھ میں لڑکیوں کو بھی پیکا ایکٹ اور باقی جو سائبر کرائمز قوانین ہیں ان کے حوالے سے آگاہی دینی چاہئے تاکہ زیادہ لڑکیاں اس کے بارے میں جان سکیں اور اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں۔
عزتِ نفس یا وائرل کلچر؟ طالبات کے تحفظ کی جنگ
خيبرپختونخوا میں خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے کام کرنے والی تنظیم زوفاش فاونڈیشن کی چیئرپرسن نوشین فاطمہ نے بتایا کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں یہاں خواتین کئی مسائل کا شکار ہیں اور انکو کئی خطرات لاحق ہیں جن میں وقت کے ساتھ زیادتی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ انہوں نے بتایا اس ڈیجیٹل دور میں خواتین اب فزیکل کے ساتھ آن لائن بھی محفوظ نہیں رہیں۔
نوشین فاطمہ کے مطابق یہاں پدر شاہی، روایات اور مذہب کا غلط استعمال کچھ ایسی وجوہات ہیں جن کو بنیاد بنا کر اکثر خواتین کو تشدد ذہنی، جسمانی اور معاشی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، وہ بتاتی ہیں یہ چیزیں ہمارے معاشرے میں ایسی رچ بس گئی ہے کہ اب انکا خاتمہ مشکل ہی نظر آتا ہے۔ نوشین کے مطابق قبائلی اضلاع سمیت خیبرپختونخوا میں خواتین بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں اور اب بھی کئی علاقوں میں لڑکیاں تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں" اب تو ڈیجیٹل دور ہے ہمارے زمانے میں یہ کہا جاتا تھا کہ لڑکی کو مت پڑھاو اگر کسی نے پڑھایا تو یہ لڑکوں کو خط لکھیں گی"
نوشین کے مطابق وقت کے ساتھ دنیا میں جدید ٹیکنالوجی آگئی ہے، دنیا نے باقی معاشروں نے ڈیجٹلائزیشن سے کافی فوائد حاصل کرلیے ہیں لیکن ہمارے ملک میں بہت کم لوگ اس کا مثبت استعمال جانتے ہیں۔ قبائلی اضلاع اور خیبرپختونخوا کی زیادہ تر خواتین جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ فونز سے دور ضرور ہیں لیکن اس نے انکی زندگیوں پر برے اثرات ڈالے ہیں۔ " ہم نے کئی ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں کالج اور یونیورسٹی کی جو لڑکیوں کی مرضی کے بغیر بنائی اور وائرل کی گئی، اس سے انکی زندگی پر منفی اثرات پڑتے ہیں، ایک تو ان لڑکیوں کی اپنی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں تو دوسری جانب یہ والدین پر بھی منفی اثرات ڈالتے ہیں اب تو تعلیمی اداروں میں ناچ گانے عام ہوگئے ہیں ہم کیوں پڑھائے بچیوں کو؟
نوشین فاطمہ کے مطابق اس سال انکے پاس 6 تک ایسے کیسز آئے جس میں بچیوں کی ذاتی تصاویر وائرل ہوگئی تھیں، انہوں نے جب ایف آئی اے کی سائبر کرائم سے رابطہ کیا تو وہاں سے مثبت جواب نہ ملا، کیونکہ انکے پاس سینکڑوں تک کیسز پڑے ہیں، انکے پاس وسائل کی کمی ہے جس کی بنیاد پر انکے لیے مشکل ہے کہ تمام کیسز کو ڈیل کریں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فیس بک تک انکی رسائی نہیں ہے وہ تو باہر سے چلایا جاتا ہے، باہر کے ممالک میں تو ایسا نہیں ہوتا۔ " میں متحدہ عرب امارات کی مثال دوں گی وہاں کوئی کسی کو آن لائن ہراساں نہیں کرسکتا، وہاں کوئی کسی کے خلاف بات نہیں لکھ سکتا وہ بھی یہاں کیوں ایسا نہیں ہوسکتا؟ یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ قوانین پر عمل درآمد کا نا ہونا ہے اگر قوانین پر عمل درآمد کیا جائے تو ان جرائم میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ قانون ہی کے ذریعے ہم اخلاقی پسماندگی کو ختم کرسکتے ہیں۔ سائبر کرائم تھانوں میں اضافے کے ساتھ نصاب میں بھی تبدیلی ضروری ہے جس کی بدولت نئی نسل کی تربیت بہتر طور پر کی جاسکتی ہے۔
رضامندی کے بغیر ویڈیوز بنانا، قانون کیا کہتا ہے؟
کسی بھی شخص، خصوصاً خواتین، کی ویڈیوز اُن کی واضح رضامندی کے بغیر بنانا صرف ایک اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے قانونی نظام میں ایک سنجیدہ جرم تصور کیا جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف فرد کی نجی زندگی میں مداخلت ہے بلکہ اس کی عزتِ نفس اور سماجی وقار کو بھی براہِ راست متاثر کرتا ہے۔
سب سے پہلے، آئینِ پاکستان اس معاملے میں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 14(1) کے مطابق ہر شہری، چاہے وہ عورت ہو، مرد ہو، بچہ ہو، سرکاری افسر ہو یا عام مزدور، سب کو پرائیویسی اور عزتِ نفس کا بنیادی حق حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کی ذاتی زندگی، گھر، یا وقار کو بغیر اجازت نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔ خاص طور پر خواتین کے حوالے سے “حیا/عزت) کے تحفظ کو قانون میں انتہائی اہمیت دی گئی ہے۔
جب کسی عورت کی ویڈیو خفیہ طور پر بنائی جائے اور پھر اسے سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے وائرل کر دیا جائے، تو یہ عمل محض غیر اخلاقی نہیں رہتا بلکہ ایک واضح فوجداری جرم بن جاتا ہے۔ ایسے واقعات کے نتیجے میں متاثرہ فرد کو نہ صرف ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں اس کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں اس حوالے سے کونسے قوانین موجود ہیں اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ایڈوکیٹ پشاور سیشن کورٹ عبید مومند نے بتایا متعدد قوانین سائبر کرائمز کی روک تھام اور سزا کے لیے بنائے گئے ہیں۔ پیکا ایکٹ2016 سائبر جرائم کے خلاف ایک بنیادی قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس قانون کے سیکشن 21 کے تحت جسے سائبر سٹالکنگ کہا جاتا ہے کسی شخص کی اجازت کے بغیر اس کی ویڈیو بنانا یا اسے شیئر کرنا جرم ہے، جس کی سزا تین سال تک قید اور تقریباً دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتی ہے۔ اسی طرح سیکشن 24 ایسے حالات کا احاطہ کرتا ہے جہاں ویڈیو کو ہراسانی، دھمکی یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جائے، جو بذاتِ خود ایک علیحدہ جرم ہے۔ مزید برآں، سیکشن 19 کسی بھی ایسے مواد کو جرم قرار دیتا ہے جو کسی فرد کی عزت یا وقار کو نقصان پہنچائے، اور اس کی سزا پانچ سال تک قید اور بھاری جرمانہ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، پاکستان پینل کوڈ بھی اس نوعیت کے جرائم کے لیے واضح سزائیں مقرر کرتا ہے۔ سیکشن 509 کے تحت کسی عورت کی عزت یا حیا کو مجروح کرنا قابلِ سزا جرم ہے، جس کی سزا تین سال قید اور جرمانہ ہے۔ اسی طرح سیکشن 354، جو کسی عورت کے خلاف زبردستی یا ہراسانی سے متعلق ہے، ان حالات پر بھی لاگو ہو سکتا ہے جہاں ویڈیو بنانا یا اسے ہراسانی کے لیے استعمال کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ قانونی دائرہ کار صرف فوجداری کارروائی تک محدود نہیں رہتا۔ متاثرہ شخص کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ سول عدالت سے رجوع کرے اور ہرجانے کا دعویٰ دائر کرے۔ عدالت، نقصان کی نوعیت اور شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے، مالی معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
مختصراً، بغیر اجازت ویڈیو بنانا اور اسے پھیلانا پاکستان میں ایک سنگین قانونی جرم ہے جس کے خلاف آئین، سائبر قوانین اور فوجداری قوانین سب یکساں طور پر سخت مؤقف رکھتے ہیں۔
Published by: Digital Rights Foundation in Digital 50.50, Feminist e-magazine


Comments are closed.