May 14, 2026 - Comments Off on کیا ہیش ٹیگ ڈیجیٹل فیمنزم کا مستقبل بدل سکتا ہے؟
کیا ہیش ٹیگ ڈیجیٹل فیمنزم کا مستقبل بدل سکتا ہے؟
ڈیجیٹل دور نے خواتین کو معاشرے میں درپیش رکاوٹ، مسائل کے حل میں آسانی پیدا کر دی ہے روایتی میڈیا پرجہاں خواتین کو نظر انداز کیا جاتا تھا وہاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے کمزور خواتین کی آواز کو دنیا کے بڑے بڑے قانون ساز اداروں اور ایوانوں تک پہنچایا جس پر بحث و مباحثے شروع ہوئے انصاف ملنے لگا اور قوانین بن گئے۔ یہ کہنا ہے پشاور یونیورسٹی کی طالبہ حفصہ کا جو بی ایس کی طالبہ ہیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ عورت مارچ جو پاکستان میں 2018 سے شروع ہوا جسکا مقصد خواتین کے حقوق، صنفی برابری اور سماجی مسائل کی طرف توجہ دلانا ہے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بہت مقبول اور ایک مضبوط تحریک بن گیا ہے جس میں خواتین کی جانب سے درج کچھ نعروں نے دنیا بھر کے قانون دانوں اور انسانی حقوق پر کام کرنے والے اداروں کو سوچنے پر مجبور کیا۔
حفصہ کے مطابق ہیش ٹیگ ڈیجیٹل فیمنزم کا مستقبل بدلنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ڈیجیٹل آواز کی نئی طاقت
ڈیجیٹل دور فیمنیزم کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ڈیجیٹل دور میں ایک ہیش ٹیگ محض ایک علامت نہیں رہا بلکہ یہ ایک طاقتور آواز بن چکا ہے۔ یہ کہنا ہے اورکزئی ضلع کی نوشین فاطمہ کا جو ایک سماجی کارکن ہے اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا نے عام فرد سے لے کر خاص طور پر خواتین کو وہ پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے مسائل، تجربات اور مطالبات دنیا کے سامنے رکھ سکتی ہیں۔ یہی رجحان “ڈیجیٹل فیمنزم” کہلاتا ہے، جہاں آن لائن مہمات حقیقی دنیا میں تبدیلی کا ذریعہ بن رہی ہیں۔
وہ عورت مارچ کے حوالے سے بتاتی ہیں کہ رواں سال بھی اس نے پشاور پریس کلب کے سامنے عورت مارچ میں حصہ لیا وہ ایک فعال رکن ہے اس سال انکا جو نعرہ تھا وہ امن کے حوالے سے تھا ؛ جنگوں کی قیمت آئندہ نسلیں چکاتی ہیں،
نوشین فاطمہ سماجی کارکن بتاتی ہیں کہ پاکستان میں بھی ڈیجیٹل فیمنزم نے اپنی جگہ بنائی ہے عورت مارچ ہر سال دنیا بھر میں منایا جاتا ہے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بعد بعض ہیش ٹیگ جیسے میرا جسم میری مرضی، کھانا خود گرم کرو وغیرہ جیسے ہیش ٹیگ نے خواتین کے حقوق سے متعلق مباحثے کو مرکزی حییث دی ہر کسی نے گھریلو تشدد، کام کی جگہ پر ہراسانی اور مساوی تنخواہ جیسے موضوعات پر کھل کر بات کی۔
عورت مارچ کے حوالے سے بعض جملے جیسے میرا جسم میری مرضی یا کھانا خود گرم کرو پر بات کرتے ہوئے نوشین نے بتایا کہ کچھ حلقوں کی جانب سے کافی تنقید کے باوجود ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا ہے جس کی وجہ سے
خواتین کے حقوق پر کھلی بحث شروع ہوئی ،گھریلو تشدد، ہراسانی اور مساوی تنخواہ جیسے موضوعات مرکزی دھارے میں آئے، اور یہ ایک ہیش ٹیگ آن لائن آواز سے آف لائن آواز بن کر قانون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ لیکن لوگوں کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ اس لیے ہمت اور حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے۔
می ٹو کہاں سے شروع ہوا
2006 میں ایک امریکی سماجی کارکن نے می ٹو سوشل موومنٹ شروع کی جسکا مقصد خواتین اور خاص طور پر اپنے ملک کی سیاہ فارم کمزور طبقے کی خواتین جنسی ہراسگی کے حوالے سے اپنی کہانیاں شئیر کر سکیں ۔
یہ ایک عالمی سوشل موومنٹ ثابت ہوئی جس نے خواتین کو ہراسگی اور جنسی استحصال کے خلاف آواز اٹھانے کا ایک نیا راستہ دیا۔
ہیش ٹیگ می ٹو کب وائرل ہوا
#MeToo
2017 تک پوری دنیا میں وائرل ہوا دنیا کے بڑے بڑے اور مقبول شخصیات نے اپنے تجربات اور کہانیاں اس ہیش ٹیگ کے ساتھ شئیر کیں ۔
Harvey Weinstein sexual abuse allegations
یہ ہالی وڈ کے ایک طاقتور پروڈیوسر کے خلاف سب سے مشہور کیس تھا۔
بہت سی مشہور اداکاراؤں اورعوامی شخصیات نے اس میں آواز اٹھائی، جیسے
Angelina Jolie
Gwyneth Paltrow
Ashley Judd
Jennifer Lawrence
Uma Thurman
عالمی سطح پر ایک اندازے کے مطابق 2017 میں می ٹو ہیش ٹیگ سے تقریبا 24 گھنٹوں میں تقریبا 5 لاکھ ٹویٹس ہوئیں اور چند دنوں میں یہ تعداد کروڑوں تک پہنچ گئ۔ تقریبا 12 میلین فیس بک پوسٹس، کمنٹس اور ری ایکشنز می ٹو کے متعلق تھے۔
اور پاکستان #MeToo
بھارت سمیت پاکستان میں بھی اس ہیش ٹیگ سے بڑے نام سامنے آئے جس میں سب سے مشہور کیس ثابت ہوا وہ پاکستانی شہرت یافتہ گلوکار و اداکارعلی ظفراورمیشا شفیع ہیں۔
میشا شفیع بمقابلہ علی ظفر
پاکستان میں علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان ہتک عزت کا کیس ڈیجیٹل فیمنزم کی اہم ترین مثال ہے جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے شروع ہوا اور عدالت تک پہنچا جس سے نا صرف قانونی بلکہ سماجی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی کسی نے تنقید کیا تو کسی نے میشا شفیع کے حق میں بولا اور اپنی حیثیت کے مطابق سپورٹ کیا۔
کیس کا پس منظر
2018 میں سوشل میڈیا پر میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراسانی کا الزام لگایا اور محتسب کے پاس بھی ہراسانی کی شکایت درج کرائی۔ جس کے بعد علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا۔
اہم عدالتی فیصلے
محتسب نے کیس کو خارج کیا اور بتایا گیا کہ یہ واقعہ کام کی جگہ کے دائرے میں نہیں آتا، بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔
جبکہ 2020 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا کہ ہراسانی کا قانون صرف روایتی دفاتر تک محدود نہیں، بلکہ کام سے جڑے وسیع ماحول پر بھی لاگو ہو سکتا ہے،اس بنیاد پر کیس کو دوبارہ سننے کا راستہ کھولا گیا۔
کیس ( ہتک عزت) کی تازہ صورت حال
کئی سالوں تک کیس چلتا رہا لیکن حال ہی میں پنجاب میں لاہور کی ایک سیشن عدالت نے ہتک عزت کے مقدمے میں ڈگری جاری کرتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ گلوکار و اداکار علی ظفر کو ہرجانے کی مد میں 50 لاکھ روپے ادا کریں۔ دوسری جانب میشا شفیع کے وکیل نے سیشن کورٹ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کہا ہے۔
پاکستان میں خواتین کے تحفظ کے قوانین کا سفر
پشاور ہائی کورٹ کے سینئر وکیل طارق افغان کے مطابق پاکستان میں جب بھی کسی سماجی مسئلے پر؎عوامی سطح پر تحریک اٹھی، تو اس کے نتیجے میں قانون سازی ضرورعمل میں آئی۔ خاص طور پر خواتین کے خلاف جرائم کے حوالے سے بننے والی تحریکوں نے قانون ساز اداروں کو عملی اقدامات پر مجبور کیا۔
ورک پلیس ہراسمنٹ قانون 2010
پاکستان میں ایک اہم قانون متعارف ہوا
Protection against Harassment of Women at Workplace Act 2010
اس قانون کے تحت ہر ادارے میں انکوائری کمیٹی بنانا لازمی قرار دیا گیا۔
خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا گیا سزا میں نوکری سے برطرفی،جرمانہ شامل ہیں۔ یہ قانون صرف دفاتر تک محدود نہیں بلکہ ہر اس ماحول پر لاگو ہوتا ہے جہاں کام کیا جا رہا ہو۔
میں کیا گیا 2022 دائرہ کار میں وسعت
ایڈوکیٹ طارق افغان بتاتے ہیں کہ سال 2022 میں اس قانون میں اہم ترامیم کی گئیں، جن کے ذریعےہراسانی کی تعریف کو مزید وسیع کیا گیا آن لائن اور ڈیجیٹل ہراسمنٹ کو بھی شامل کیا گیا۔ کام کی جگہ کی تعریف کو بڑھا کر ہر پیشہ ورانہ ماحول تک پھیلا دیا گیا۔
گھریلو تشدد کے خلاف قوانین
طارق افغان نے کہا کہ پاکستان میں گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی بھی مرحلہ وار ہوئی تشدد کو جرم قرار دیا گیا
خیبر پختونخوا (2021)
Khyber Pakhtunkhwa Domestic Violence Against Women Act 2021
خواتین کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔ جسمانی، ذہنی، جذباتی اور معاشی تشدد کو جرم قرار دیا گیا۔
سائبر کرائم اور آن لائن ہراسگی کا قانون
ڈیجیٹل دور میں بڑھتے ہوئے جرائم کے پیش نظر 2016 میں ایک اہم قانون بنایا گیا
Prevention of Electronic Crimes Act 2016
یہ پاکستان کا مرکزی سائبر کرائم قانون ہے، جس کے تحت
آن لائن ہراسگی
بلیک میلنگ
ڈیٹا چوری
ہیکنگ
نفرت انگیز مواد
سب کو جرم قرار دیا گیا ہے۔
اس قانون کے تحت قید اور جرمانے دونوں سزائیں موجود ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف کارروائی ممکن ہے۔
سوشل میڈیا، خواتین کی آواز سے قانون سازی تک کا سفر
فری لانس جرنلسٹ لائبہ حسن بتاتی ہیں کہ میڈیا کا سفر وقت کے ساتھ مسلسل ارتقا پذیررہا ہے۔ ایک وقت تھا جب خبر کا بنیادی ذریعہ اخبارات تھے، پھر مین اسٹریم میڈیا یعنی ٹی وی چینلز نے اس جگہ کو سنبھالا، اوراب موجودہ دور سوشل میڈیا کا ہے۔ آج سوشل میڈیا نہ صرف معلومات کی ترسیل کا ذریعہ ہے بلکہ یہ ایک طاقتور پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں ہر فرد اپنی آواز دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا ہر آواز کے لیے پلیٹ فارم
لائبہ حسن سوشل میڈیا کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی رسائی بتاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ آج اگر کسی دور دراز گاؤں میں موجود ایک خاتون بھی اپنی بات سوشل میڈیا کے ذریعے پیش کرتی ہے تو وہ لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جس نے اظہارِ رائے کو محدود حلقوں سے نکال کر عام عوام تک پہنچا دیا ہے۔
ماضی میں خواتین کے مسائل، خاموشی کا دور
خاتون صحافی لائبہ حسن نے مزید بتایا کہ اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو خواتین کو درپیش مسائل، جیسے کہ جینڈر بیسڈ وائلنس اور گھریلو تشدد، میڈیا میں بہت کم جگہ پاتے تھے۔
اخبارات میں زیادہ تر سیاسی خبریں نمایاں ہوتی تھیں، جبکہ خواتین کے مسائل پس منظر میں چلے جاتے تھے۔ مین اسٹریم میڈیا کے آنے سے خواتین کے مسائل کو کچھ حد تک اجاگر کیا جانے لگا، تاہم یہ آواز ابھی بھی محدود تھی۔ یہ ایک ابتدائی قدم ضرور تھا، مگر مکمل نمائندگی اب بھی باقی تھی۔
جبکہ سوشل میڈیا نے اس صورتحال کو مکمل طور پر بدل دیا۔
اب خواتین، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں، اپنے مسائل، تجربات اور کہانیاں براہِ راست لوگوں تک پہنچا سکتی ہیں۔ جس کے لیے وہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم جیسے ٹویٹر، انسٹا گرام، فیس بک کا ستعمال کرتی ہیں اور مختلف ٹرینڈ میں چلنے والی ہیش ٹیگ کا استعمال کرتی ہیں جو چند لمحوں میں پوری دنیا تک پہنچ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم نہ صرف اظہار کا ذریعہ بنا بلکہ اس نے عوامی دباؤ پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
عورت مارچ ، ڈیجیٹل تحریکیں تنقید کی ضد میں
پاکستان میں 2018 سے شروع ہونے والا عورت مارچ خواتین کے حقوق کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس تحریک کو جہاں سوشل میڈیا پر بھرپور حمایت ملی، وہیں اسے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا،
نوشین فاطمہ مزید بتاتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئیں کچھ مثبت اور کچھ منفی لیکن ایک بات واضح ہے کہ عورت مارچ نے خواتین کے حقوق پر ایک قومی مکالمہ ضرور پیدا کیا۔
ہیش ٹیگ کلچر اور فوری ردعمل
ارم کمال جو ایک سرکاری ادارے میں ملازمت کرتی ہیں بتاتی ہیں کہ سوشل میڈیا جیسے فیس بک ، ٹویٹر پر ہیش ٹیگ کا رحجان نے عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا اب اگر کسی ورکنگ وومن کو ہراسانی کا سامنا ہو تو وہ اپنی آواز فوری طور پر دنیا تک پہنچا سکتی ہے، اور اس پر متعلقہ اداروں کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آتا ہے۔ ملازمت کی جگہ پر کسی بھی قسم کی ہراسانی سے نمٹنے کے لیے قانون بھی موجود ہے لیکن سوشل میڈیا کے مختلف پیلٹ فارم پر ایک ہیش ٹیگ کے ساتھ آتا ہے قانونی کاروائی میں تاخیر ہو سکتی ہے لیکن سوشل میڈیا ردعمل تیزاورمتاثرہ خواتین کے لیے کافی مثبت ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا اور خواتین کی ترقی، مواقع، چیلنجز اور آگاہی کی ضرورت
خورشید بانو جو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں اور اپنے ادارے د حوا لور ( حوا کی بیٹی ) کی بانی ہیں بتاتی ہیں کہ ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، جس نے دنیا کو ایک "گلوبل ولیج" میں تبدیل کر دیا ہے۔ خاص طور پر خواتین کے لیے یہ پلیٹ فارم نئے مواقع لے کر آیا ہے، جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکتی ہیں اور نا صرف معاشی طور پر خودمختار بن سکتی ہیں۔ بلکہ ان کی آواز قانون سازاداروں اور انسانی حقوق پر کام کرنے والے بڑے بڑے اداروں تک پہنچاتی ہیں۔
خورشید بانو، جو د حوا لور آرگنائزیشن کی سربراہ ہیں، کے مطابق سوشل میڈیا خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہیش ٹیگ، ٹویٹ یا کوئی بھی غیر انسانی حرکت کی ویڈیوسوشل میڈیا پر آنے سے ذمہ داراداروں تک بات پہنچ جاتی ہیں اور ممکنہ طور پران پرایکشن لیا جاتا ہے، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز خواتین کو اپنی شناخت بنانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
آواز تو بلند ، مگر انصاف کا نظام ابھی بھی کمزور ہے
National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA)
نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے مطابق سال 2025 میں ایک لاکھ 50 ہزار تک شکایات درج ہوئی جس میں تقریبا 26 ہزار تک کیسز پر انکوائری ہوئی، 2 ہزار کیسز درج کیے گئے کچھ زیر التوا یا پینڈنگ ہیں۔
زیادہ تر کیسزانکوائری سطح پر ختم ہوجاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شکایات میں تقریبا 58 سے 63 فیصد تک خواتین سے متعلق کیسز ہوتے ہیں یعنی اگر 1 لاکھ 40 ہزار شکایات درج کی جاتی ہیں تو اس میں سے 80 ہزار سے زائد خواتین کے متعلق ہو سکتے ہیں۔
اگر اس رپورٹ کو دیکھا جائے تو خواتین کی شرح شکایات زیادہ ہے لیکن دوران انکوائری زیادہ تر کیسز یا تو ختم کی جاتی ہیں یا پھر سالہا سال چلتے رہتے ہیں۔
Published by: Digital Rights Foundation in Digital 50.50, Feminist e-magazine


Comments are closed.