March 17, 2026 - Comments Off on پرسنل ڈیٹا کی چوری: آن لائن فراڈ کا نیا ہتھیار اور مارجنلائزڈ طبقات سب سے بڑا شکار
پرسنل ڈیٹا کی چوری: آن لائن فراڈ کا نیا ہتھیار اور مارجنلائزڈ طبقات سب سے بڑا شکار
معاشرے میں پیسوں کا فراڈ ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور میں فراڈ ہوتے رہے ہیں۔ آج کے جدید دور میں یہ فراڈ بھی جدید ٹیکنالوجی کی طرح جدید طریقوں سے ہو رہے ہیں۔ پیسوں کے لین دین میں فراڈ، بینکوں میں چوری، دکانداروں کا خریداروں سے دھوکہ یہ وارداتیں نہ ماضی میں روکی گئیں، نہ اب رک رہی ہیں اور نہ مستقبل میں روکی جائیں گی مگر اگر کچھ اختیاط کر لی جائے تو اس میں کمی ضرور ہو سکتی ہے۔آن لائن فراڈ کیا یہ صرف شور ہےیا سچ میں معاشرے کا سب سے برا کرائم بن گیا ہے۔
آن لائن فراڈ کا شور زیادہ اس لیے ہے کہ پہلے پیسوں کے فراڈ جیسے واقعات کا تناسب 40 فیصد تھا، مگر اب یہ دوگنا ہو گیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ موبائل فون اور سستا انٹرنیٹ سسٹم ہے ۔جس کی وجہ سے ہر عمر کے لوگ موبائل فون کے استعمال بے ضرر سمجھتے ہیں اور یہی بے ضری آن لائن فراڈ کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔
پاکستان میں مارجنلائزڈ طبقات میں وہ لوگ بھی شامل ہو گئے ہیں جو اپنی زندگی خطِ غربت کے نیچے گزار رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے اور مالی طور پر مستحکم ہونے کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے نہیں گھبراتے۔ پاکستان میں آن لائن لون ایپس نے اس طبقے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔جہانگیر خان کرائم رپوٹر کہتے ہیں کہ میں نے آن لائن لون اپیس پر بہت کام کیا ہے میری تحقیق کے مطابق ہوتا کچھ اس طرح ہے کہ آن لائن لون ایپس پر لوگ بہت سے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان ایپس کے ذریعے قرضہ لینے والوں کو ابتدائی طور پر صرف 10 ہزار روپے واپس کرنے ہوتے ہیں، لیکن قرضہ واپس کرنے کے بعد بھی وہ لوگوں کو بلیک میل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ دھمکی دیتے ہیں کہ اگر آپ کل تک اصل رقم واپس نہیں کرتے تو آپ کا قرضہ دگنا ہو جائے گا۔ اگر قرضہ واپس نہ کیا جائے تو وہ فوراً متاثرہ شخص کے تمام رابطہ نمبرز پر فون کالز اور میسجز شروع کر دیتے ہیں۔ یہ دباؤ اور تناؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ کئی لوگوں نے خودکشی تک کر لی ہے۔یہ آن لائن فراڈ کی وہ قسم ہے جو پس پردہ اتنی خطرناک ہے کہ انسان اپنی جان کی بازی ہار دیتا ہے۔ پاکستان میں آن لائن فراڈ کی سب سے بڑی وجہ ذاتی ڈیٹا کی چوری ہے۔ یہ چوری بڑی کمپنیوں میں کام کرنے والے ورکرز چند پیسوں میں یا تو فروخت کر دیتےہیں یا پھر وہ خود ان گروہوں کا حصہ ہوتے ہیں جو آن لائن فراڈ کے لیے سرگرم ہیں۔
پشاور کے رہائشی فواد شہزاد کہتے ہیں کہ ایک دن مجھے فون کال آئی کہ مجھے کہا کہ میں TCS کمپنی سےبات کر رہا ہوں میں نے کہا جی آگے سے جواب آیا کہ آپ کا پارسل آ گیا ہے۔ یہ آپ کو کہاں بھیجنا ہے؟میں نے کہا، میرے ایڈریس پر کر دیں۔اس نے مجھے کہا آپ کے گھر کی لوکیشن نہیں ہے اور شئیر کر دیں میں وہاں پہنچ جاتا ہوں ۔میں نے کہ
لوکیشن نہیں دے سکتا۔تو اس TCSوالے لڑکے نے کہاکوئی بات نہیں میں آپ کو واٹس ایپ پر ایک کوڈ بھیجتا ہوں۔ آپ مجھے بتا دیں تاکہ میں انٹری کر سکوں اور آپ کو آسانی سے پارسل مل جائے۔
مجھے یہ زیادہ آسان لگا میں نے بیوقوفی میں وہ کوڈ شیئر کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے میرا واٹس ایپ ہیک کر لیا اور اس بندے نے لوگوں کو میسجزکے ذریعے کسی سے 20ہزار اور کسی سے 10 ہزار مانگ لئے۔دو دن بعد جب میرے دوستوں نے فون کرکے پوچھا کہ سب خیریت ہے پیسے کیوں چاہیے تھے اتنے تو میں حیران رہ گیا۔ایف آئی اے کی مدد سے دو دن لگے مجھے وٹس ایپ ریکور کروانے میں ۔
کیا آن لائن فراڈ کرنے والے افراد ایکسپرٹ ہوتے ہیں؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب جاننے کے لئے ہر کوئی یا تو کسی آئی ٹی ایکسپرٹ سے پوچھتا ہے یا پھرکسی ویب سائٹ پر آرٹیکل کو پڑھ کر کوئی نتیجہ نکالنا کی کوشش کرتا ہے۔سائبر کرائم ایکسپرٹ کوکب زبیری کہتے ہیں کہ ’ضروری نہیں ’ہیکنگ اور آن لائن فراڈ کے لئے آئی ٹی ایکسپرٹ ہونے کی ضرورت نہیں اور اس کےلئے کسی آئی ٹی ایکسپرٹ کی معاونت بھی ضروری نہیں آن لائن فری ایسےٹولز آ گئے ہیں جن کو کسی بھی ویب سائٹ سے آسانی سے ڈاؤن کیا جا سکتا ہیں۔اس کام کے لئے بس انفارمیشن کی ضرورت ہوتی ہے باقی کام سوفٹ وئرز سے ہو جاتے ہیں‘۔
گزشتہ 10سال سے کرائم رپورٹنگ کرنے والے صحافی جہانگیر علی کہتے ہیں کہ’ آن لائن فراڈ کا ٹرینڈ پچھلے 7 سے 10 سالوں میں بہت بڑھا ہے۔ اس سے پہلے بھی فراڈ ہوتے تھے بات چیت کرکے جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکہ دیتے تھے ۔ آن لائن فراڈ میں اضافہ کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں زیادہ پیسہ کمانے کی خواہش ہے۔ جس کی وجہ سے وہ شارٹ کٹ کے ذریعے پیسہ کمانے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اور آن لائن لوگوں کو بیوقوف بنانا انہیں آسان لگتا ہے۔ضروری نہیں کہ صرف بڑے سائبر ایکسپرٹ یہ کر رہے ہوں۔ اب ان پڑھ لوگ بھی کر رہے ہیں۔ کوئی سائبر ایکسپرٹ یا کمپیوٹر والا بندہ ایک سیٹ اپ بناتا ہے اور اس میں 10-12 لوگوں کو نوکری پر رکھ لیتا ہے۔ ان کو ٹریننگ دیتا ہے کہ فون کال کرکے عام لوگوں سے کہو کہ میں فلاں کمپنی سے بول رہا ہوں۔ آپ کے پاس کوڈ آ گیا ہوگاوہ بتا دیں یا پھرآپ کا اکاؤنٹ کنفرم ہو گیا ہے کوڈ بتائیں۔اور ایک یہ پورا نیٹ ورک اس طرح چلنے لگتا ہے۔ اگر پنجاب کی بات کریں تو سائبر فشنگ میں نمبر ون پر ضلع میاں چنوں اور دوسرے نمبر پرضلع ننکانہ صاحب اور پھر جنوبی پنجاب کے شہر آتے ہیں ۔
خواتین کیوں زیادہ آن لائن فراڈ کے جھانسے میں آتی ہیں؟ اب تک کی تحقیق کیا کہتی ہے؟
خواتین ہی کیوں آسانی سے آن لائن فراڈ کا شکار ہوتیں ہیں؟ کوکب زبیری کہتے ہیں کہ یہ سوال تو بہت اچھا ہے مگر یہ بات آج سے کچھ سال قبل کہہ سکتے تھے مگر اب خواتین بھی اس معاملے میں محتاط ہوچکی ہیں۔اگر ہم یہ کہیں کہ فراڈ کرنے والا گروہ خواتین کی مصرفیت کو مد نظر رکھنے ہوئے انہیں کال کرتے ہیں تو اس میں کوئی دو رائے نہیں ہوگی۔خواتین کو ہیکرز خواتین کو کال دن کے وقت تب کرتے ہیں جو ان کا گھر میں کچن میں یا پھر گھر کے کاموں میں مصروف ہوتا ہے اور نوکری کرنے والی خواتین کی بات کریں تو وہ بھی انہیں اوقات میں آتیں ہیں کیونکہ خواتین کی نفسیات میں اپنے کام کو لے کر زیادہ سنجیدہ ہونے والے پہلو بھی آتا ہے۔مثال کے طور پر کوئی بینک والا فون کرتا ہے کہ میں بینک سے بول رہا ہوں۔ نمبر بھی بینک کا ہی لکھا ہوا آ رہا ہے۔ وہ کہتا ہےآپ مجھے اپنا مکمل نام اور پاس ورڈ دیں تاکہ میں کنفرم کر سکوں یا ہم نے آپ کو OTP بھیجا ہے آپ پھر اسے کنفرم کریں۔یہ بات اتنی قائل کرنے والی ہوتی ہے کہ وہ دوسرے کام کرتے ہوئے اس پر فوکس نہیں کر پاتی۔ تو وہ OTP دے دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا واٹس ایپ ہیک ہو جاتا ہے۔
جہانگیر خان کہتے ہیں کہ ویسے تو مالی فراڈ کا تناسب مرد و اور خواتین میں تقریباً برابر ہےلیکن چونکہ خواتین کے ساتھ ہراسمنٹ کیسز زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ تاثر بن گیا ہے کہ وہ زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے۔خواتین شاید اس لئے بھی زیادہ ٹارگٹ ہوتیں ہیں کہ وہ آن لائن شاپنگ زیادہ کرتی ہیں۔جہانگیر سوال یہ ہے کہ ڈیٹا کیسے لیک ہوتا ہے؟ کیا کمپنیوں اور آؤٹ لیٹس سے نمبر لیک ہوتے ہیں۔جہانگیر کہتے ہیں کہ ہم نے رپورٹ ہوتے دیکھا ہےکہ بعض کیسز میں کمپنی میں کام کرنے والےملازم اندر سے ہیکرز کو ڈیٹا بیچتے ہیں۔ اور اس طرح ڈیٹا لیک آؤٹ ہو کردوسری کمپنیوں/گروپس کو ڈیٹا جاتا ہے۔جہانگیر کا کہنا ہے کہ پچھلے 5 سالوں میں 1.8 ملین خواتین سائبر کرائمز کا شکار ہوئیں۔FIA کو 6لاکھ شکایا ت وصول ہوئیں جس میں سے صرف 3.5فیصد کو سزائیں ملیں۔
کیا پرسنل ڈیٹا چوری ہی آن لائن فراڈ کا سبب بنتی ہے؟
کوکب زبیری نہیں دیکھیں جیسے آپ خود سوچیں بینک والوں کے کسی بھی ٹیلی فون، کمپیوٹریا بینک والوں سے ملے بغیرآپ کے پرسنل ڈیٹیلز کس کے پاس جا سکتے ہیں؟اب جیسے میں آپ کو فون کر رہا ہوں اورمیں آپ سے پوچھا کہ یہ نمبر آپ کا ہے تو آپ کا CNIC نمبر آپ کا ہے؟ آپ کہیں گی ہاں تو اپنا نمبر تو میرے ساتھ آپ نے شئیر کر دیا۔ اور میں آپ کو اتنی قائل کرنے والی معلومات دیتا ہوں کہ آپ میری بات پر یقین کر لیتے ہیں۔تو ہم کیا کریں؟ اصولی طور پر کسی کو بھی فون کر کے OTP نہ بتائیں۔اگر کوئی آپ کے جاننے والے کی طرف سے پیسے کی درخواست بھیجے تو پہلے خود کال کر کے کنفرم کریں۔اگر کوئی بینک کہے مجھے آپ پاس ورڈ دیں تو یاد رکھیں بینک کبھی فون پر پاس ورڈ نہیں مانگتا۔بینک والے کبھی فون کر کے شناختی کارڈ نمبر نہیں مانگتے۔ اگر آپ فون کریں گے تو وہ کہیں گے آپ کا شناختی کارڈ نمبر بتائیں یاآخری نام بتائیں خود فون کر کے نہیں پوچھیں گے۔اسی لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ ایک آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ عوام کا نقصان ہو رہا ہے۔ حکومت کو نہ صرف آگاہی مہم چلانی چاہیے بلکہ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی شامل کرنا چاہیے۔جہانگیر خان کا کہنا ہے کہ ذاتی ڈیٹا کا سب سے بڑا حصہ آپ کا ٹیلی فون نمبر ہوتا ہے جو آپ بڑی آسانی سے اجنبیوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کپڑوں، جوتوں اور جیولری کے بڑے فرنچائز سٹورز سے جب آپ سامان خریدتے ہیں تو وہ آپ سے ٹیلی فون نمبر لے لیتے ہیں کہ جب بھی سیل لگے تو آپ کو میسج کے ذریعے اطلاع دے دیں۔ اس وقت آپ نام اور فون نمبر دونوں دے دیتے ہیں۔جب کسی بھی سسٹم میں آپ کا فون نمبر اور نام سیو ہو جاتا ہے تو وہاں کام کرنے والے عملے کے ہاتھ آسانی سے لگ جاتا ہے۔ آپ کا ایک ہی ذاتی ڈیٹایعنی فون نمبر جو آپ کو یاد ہوتا ہےوہ خود پبلک میں دے دیتے ہیں۔ 90 فیصد آن لائن فراڈ فون نمبرز پر کالز یا واٹس ایپ میسجز کی صورت میں آتے ہیں۔کے پی سے تعلق رکھنے والے صحافی کامران علی کا کہنا ہے کہ ہمارے کچھ دوستوں کو بھی آن لائن فراڈ کا سامنا کرنا پڑا۔ میرے دوست جنید کا فیس بک اکاؤنٹ ہیک ہو گیا۔ہمارے میوچل دوستوں میں سے ایک کو میسج چلا گیا۔ ہیکر نے جنید کے پرانے میسجز دیکھ کر سوشل انجینئرنگ کی اور ایسا لکھا جیسے جنید خود لکھ رہا ہویار جنید میں ادھر پھنس گیا ہوں۔ میرا موبائل بھی کام نہیں کر رہا۔مجھے 10 ہزار روپے ٹرانسفر کر دے۔دوست فوراً یقین کر بیٹھا اور 10 ہزار جنید نے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیے۔ جنید نے مجھے کال کر کے بتایا کہ میں نے ہمارے دوسرے میوچل دوست حکیم کو بھی اسی نمبر پر 30 ہزار بھیج دیے، لیکن اس نے شکریہ تک نہ بولا۔ میں نے سوچامصروف ہونے کی وجہ سے بھول گیا ہوگا۔پھر تیسرا دوست فون کر کے بولاجنید، تم نے مجھ سے 30 ہزار لئے ہیں ۔جنید نے چیک کیا تو فیس بک ہیک ہو چکا تھا۔ ہیکر لوگوں کو پیسے مانگنے والے میسجز بھیجے جا رہے تھے۔ کئی دوستوں سے پیسے لے لیے گئے۔ جنید نے FIA کو درخواست دی اور دو دن بعد اکاؤنٹ ریکور ہو گیا۔کامران کا کہنا ہے کہ بطور صحافی میں ایسی بہت سے رپورٹس سنتا بھی ہوں اور لوگوں کی شکایات جو ایف آئی میں ہوتی ہیں انہیں کسی نہ کسی شکل میں سوشل میڈیا پر آگاہی کے طور پر منظر عام پر بھی لاتا ہوں۔ آن لائن فراڈ کرنے والے جینڈر نہیں دیکھتے انکے ٹارگٹ ہوتے ہیں۔
چند ماہ قبل پنجاب پولیس نے ایک کیس آ ن لائن فراڈ کا کیس حل کیا اور ملزمان کو بھی پکڑاڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا اگر اس طرح کی کوئی کال آئے جس میں آپکو پوری تفصیل دی جائے کہ یہ آپ کا سامان ہے۔ اس میں سے 10 ہزار روپے پہلے JazzCash میں ٹرانسفر کر دیں تو ہم فوراً بھیج رہے ہیں تو ہرگز نہ کریں۔ ایک خاتون کے ساتھ ایسا ہوا کہ انہوں نے 10 ہزار بھیج دیے مگر اس خاتون کو پارسل وصول نہیں ہوا۔ انکے مطابق یہ بہت بڑا منظم گروپ تھا جو ایک دن میں ایک SIM سے 8-9 لوگوں کو دھوکہ دیتا اور SIMs خراب کر کے پھینک دیتا تھا۔ لاہور پولیس نے پورے گروپ کو پکڑ لیا – ان کے پاس سینکڑوں موبائل فون، لاکھوں روپے نقدی، جعلی SIM/کیش ڈیوائسز برآمد ہوئیں اور 8-10 افراد گرفتار ہوئے۔
پاکستان سائبر کرائم اعداد و شمار (2024-2026)
| سال / ادارہ | شکایات | انکوائریاں | مقدمات | گرفتاریاں | ریکوری | نوٹس |
| 2024 FIA سائبر ونگ | 73,131 | 29,105 | 1,604 | ۔ | ۔ | تمام سائبر کرائم (فراڈ سمیت) |
| 2024 بینکنگ محتسب | 27,753 نمٹائی گئیں | ۔ | ۔ | ۔ | 1.65 بلین روپے | فراڈ + اکاؤنٹ بلاک شکایات |
| 2025 NCCIA | 150,542 | 10,756 | 851 | ۔ | ۔ | قومی اسمبلی رپورٹ |
| 2025 NCCIA مالی فراڈ | 81,996 | ۔ | ۔ | 2,900+ | 461 ملین روپے | واپس کروائی گئی رقم |
| 2025 NCCIA کارروائی | ۔ | ۔ | 2,200+ | 2,900+ | 461 ملین روپے | مالی دھوکہ دہی کیسز |
| 2026 NCCIA (فروری) | 140,000 بیک لاگ | ۔ | ۔ | ۔ | ۔ | زیر التواء شکایات |
2024 FIA سائبر کرائم ونگ نے73,131 شکایات، 29,105 انکوائریاں، 1,604 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ 2024 بینکنگ محتسب نے صارفین کی27, 753 شکایات نمٹائی ، 1.65 بلین روپے کی ریلیف دی گئی رقم وصول کی گئی / محتسب کے عمل کے ذریعے ریلیف کے طور پر دی گئی ۔ان کے پورے عمل میں کل فراڈ نقصان کے ساتھ ساتھ بینک فراڈاور اکاؤنٹ بلاک ہونے کی شکایات بھی شامل تھیں۔
2025 NCCIA قومی اسمبلی کو رپورٹ کے مطابق سائبر کرائم نے کل 150,542 شکایات، 81,996 مالیاتی فراڈ کی شکایات، 10,756 پوچھ گچھ اور 851 کیسز رجسٹرڈ بیسٹ آفیشل اسپلٹ اس میں مالی فراڈ بھی شامل ہے۔2025 این سی سی آئی اے نے 2,200 مقدمات، 2,900 گرفتاریاں اور 461 ملین روپے کی ریکوری کیں۔فروری 2026 کی رپورٹنگ کے مطابق NCCIAنے 140,000 شکایات کو نمٹانے کا عندیہ دیا ہے۔
آن لائن فراڈ کا یہ جال اب پاکستان کے ہر طبقے کو گھیر رہا ہے۔جہاں 2025 میں سائبر کرائم کی شکایات 142,272 تک پہنچ گئیں اور FIA کو 722,010 سے زائد شکایات موصول ہوئیں، مگر سزاؤں کا تناسب محض 3 فیصد رہا ۔ پاکستان میں سب سے زیادہ شکار ہونے والی مارجنلائزڈکمیونٹی اور خواتین جن کی تعداد 1.8 ملین تک پہنچ چکی ہےوہ آن لائن فراڈ میں سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں ۔حکومت FIA اور پولیس کو نہ صرف سخت قوانین نافذ کرنے ہوں گے بلکہ قومی آگاہی مہم چلانی ہوگی مثال کے طور پرسکولوں،کالجز، میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پرتاکہ لوگ OTP شیئر نہ کریں، مشکوک کالز پر یقین نہ کریں اور ذاتی ڈیٹا (فون نمبر اور آئی ڈی کارڈ)کسی سے شئیر نہ کریں۔اگر ہم سب مل کر محتاط ہو جائیں تو یہ ڈیجیٹل دہشتگردی روکی جا سکتی ہے۔ ایک چھوٹی احتیاط لاکھوں روپے اور جانیں بچا سکتی ہے۔
Published by: Digital Rights Foundation in Digital 50.50, Feminist e-magazine


Comments are closed.