March 17, 2026 - Comments Off on واٹس ایپ کے زریعے ڈیٹا چوری پرائیویسی کیلۓ ایک سنگین مسئلہ
واٹس ایپ کے زریعے ڈیٹا چوری پرائیویسی کیلۓ ایک سنگین مسئلہ
عظمیٰ اکرام ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئٹر جس کا حالیہ دنوں میں واٹس ایپ ہیک ہوا ہے نے ڈی آر ایف سے گفتگو کرتے ہوۓ بتایا کہ ہیکر نے مجھ سے کوڈ مانگا تھا ٹی سی ایس کا حوالا دے کر کہ آپ کا پارسل ڈن کرنا ہے کوڈ سے کوڈ میچ کرکے، اور کوڈ والا میسج انگریزی میں نہیں کسی اور زبان میں تھا۔ بعد اذاں میں نے اپنا واٹس ایپ ریکور کرلیا، اور اب میں نے واٹس ایپ پر ٹو سٹیپ ویریفیکیشن آن کر رکھا ہے۔
عظمیٰ اکرام نے اپنے فیس بک پیج پر بھی لوگوں کو اس فراڈ سے آگاہ کیا۔ " کہ میرا واٹس ایپ اکاونٹ ہیک ہوگیا ہے۔ میری طرف سے اگر کسی کو پیسوں یا مدد کا میسج آیا ہو تو وہ فراڈ ہے۔ براہِ کرم کسی قسم کی رقم نہ بھیجیں۔ مسئلہ حل کیا جارہا ہے۔"عظمیٰ اکرام کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ ایک بہت ہی پریشان کن واقعہ پیش آیا جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ مجھے ایک کال آئی کہ آپکا پارسل آیا ہے بس ایک کوڈ بتادیں تاکہ ڈیلیوری ہوسکے۔ چونکہ میں پارسل منگواتی رہتی ہوں، میں نے بغیر سوچے کوڈ بتا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے میرا واٹس ایپ ہیک ہوگیا۔ ہیکر نے فوراً میرے جاننے والے لوگوں سے پیسے مانگنا شروع کردیے کسی کو کہا میں بازار میں ہوں پیسے کم پڑگۓ ہیں، کسی کو سلام دعا کرکے باتوں میں لگایا۔"
عظمیٰ اکرام نے مزید بتایا "اللہ پاک کا کروڑوں شکر ہے کہ میری عزت اور پہچان نے مجھے بچالیا لوگوں کو یقین ہی نہیں آیا کہ میں ایسے پیسے مانگ سکتی ہوں۔ میرے دوستوں نے عقلمندی دکھائی اور وائس میسج یا کال کا مطالبہ کیا جس پر ہیکر بھاگ نکلا۔ میری آپ سب سے گزارش ہے کھبی کسی نام نہاد ٹی سی ایس یا کوریئر والے کو کوئی کوڈ نہ بتائیں صرف آواز کی پہچان اور مکمل تسلی ہونے پر ہی پیسے بھیجیں، ورنہ ہر گزنہ بھیجیں۔ آج کل خاص طور پر بزنس کرنے والے لوگوں کے واٹس ایپ اسی طرح ہیک کیۓ جارہے ہیں-"
میرے واٹس ایپ لسٹ میں شامل شازیہ (فرضی نام) بتاتی ہیں کہ بیرونی ملک میں مقیم ایک رشتہ دار خاتون کے نمبر سے مجھے واٹس ایپ پر ایک پیغام موصول ہوا، جس میں لکھا تھا کہ مجھ سے غلطی سے اپنا پاسورڈ آپ کے نمبر پر سینڈ ہوا ہے براۓ مہربانی مجھے دوبارہ بھیج دے۔ شازیہ نے بتایا میں نے بنا سوچے سمجھے وہ پاسورڈ اپنی رشتہ دار کے نمبر پر سینڈ کردیا کیونکہ مجھے اس پر یقین تھا کہ یہ تو میری رشتہ دار ہے لہذا ہیکنگ وغیرہ کیسے، لیکن وہ مخصوص کوڈ سینڈ کرتے ہی میرا پورا واٹس ایپ ہیک ہوا اور اس کا پورا ڈیٹا ہیکر کے پاس چلا گیا۔ بعد میں مجھے پتا چلا کے جو رشتہ دار مجھ سے کوڈ مانگ رہی تھی دراصل اس کا نمبر ہیک ہوچکا تھا اور ہیکر کانٹیکٹس لسٹ کو مزید اسی طریقے سے ہیکنگ کا نشانہ بنا رہے تھے۔
شازیہ بتاتی ہیں کہ میں نے اپنے کانٹیکٹس کو ہیکنگ سے بچانے کیلئے اپنی کزن کے واٹس ایپ پر ایک گروپ بنایا اور انہیں بروقت خبردار کیا کہ اگر میرے نمبر سے آپ سے کوئی کوڈ یا کچھ بھی مانگے تو ہر گز سینڈ نہیں کرنا ان پیغامات کو نظرانداز کرکے کسی بھی قسم کی معلومات فراہم نہ کریں، اس طرح سے میرے کانٹیکٹس ہیکنگ سے محفوظ ہوئے۔ شازیہ کا کہنا تھا پھر بعد میں مجھے پتہ چلا کہ میرے نمبر سے واٹس ایپ لسٹ میں شامل افراد کو ہیکر کی طرف سے پیغامات موصول ہوۓ تھے۔ شازیہ کے مطابق ہیکر کا تعلق بیرونی ملک سے تھا۔ اس واقعہ نے شازیہ کو اس قدر متاثر کیا کہ اس نے اپنا نمبر ہی بند کردیا اور اس کو نئی سم سے نیا واٹس ایپ انسٹال کرنا پڑا۔ شازیہ نے مزید بتایا میں نے اپنے کانٹیکٹس لسٹ میں شامل افراد کو اپنا ہیک شدہ نمبر واٹس ایپ میں رپورٹ کرنے کو بھی کہا تاکہ ہیکر وہ نمبرمزید استعمال نہ کرسکے۔
ہیکنگ، غیر یقینی لنکس اور فائلوں کے زریعے ڈیٹا چوری ایک سنگین مسئلہ بن رہا ہے اس حوالے سے ایف آئی اے میں کام کرنے والے ایک آفیسر (سب انسپکٹر) نے ڈی آر ایف کو دی گئی انٹرویو میں بتایا کہ سال 2025 میں پاکستان میں سائبر کرائم میں کل 157,465 شکایات درج کی گئیں ان میں سے 2974 واٹس ہیکنگ اور بے جا استعمال کے معاملات کے متعلق تھے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن نے ان شکایات میں سے 1,032 کی تعداد پر باضابطہ کارروائیاں شروع کی ہے۔
یہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن کو 2025 میں سال بھر موصول ہونے والے حالیہ عوامی طور پر رپورٹ کردہ اعداد وشمار ہے۔
(این سی سی آئی ای/ ایف آئی اے رپورٹ)
سائبر کرائم کی کل شکایات: 157,465
واٹس ایپ سے متعلق شکایات:2,974
عملی کاروائی شروع: 1,032
پی ٹی اے آفیشل ویب سائٹ پر نیچے دیئے گئے لنک میں دی گئ ہدایات کے مطابق
https://www.facebook.com/share/v/14W7MVAzBE1/
ایسے پیغامات پر ہر گز یقین نہ کریں جن میں انعام اکاونٹ بند ہونے یا آپ سے ذاتی معلومات کی تصدیق (ویریفیکیشن)کا کہا جائے یاد رکھیں ، یہ فراڈ ہوسکتا ہے۔ فراڈ کے عام طریقے پی ٹی اے، بینک یا کسی سرکاری ادارے کا نمائندہ بن کر ذاتی معلومات طلب کرنا جعلی کوریئر سروسز یا حکومتی سکیموں کے نام استعمال کرکے لوگوں کو جھانسا دینا مشکوک لنکس یا کیو آر کوڈز بھیجنا۔
شکایات درج کروائیں:
complaint.pta.gov.pk
NCCIA 24/7 Helpline1799
complaint.nccia.gov.pk
اکثر بندہ اپنے کانٹیکٹس پر اعتبار کرکے سٹیٹس لسٹ
میں شامل کرلیتا ہے جو ان کے پرائیویسی کیلۓ خطرہ بن جاتا ہے۔ اس مسلئے سے پریشان ایک صارف صدف(فرضی نام) نے ڈی آر ایف سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ واٹس ایپ کے فوائد کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی ہیں میں اگر فوائد کی بات کروں تو بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنی فیملی سے دور ہیں اور یہی واٹس ایپ ہے کہ رشتوں کو قریب رکھتا ہے کال، میسجز اور ویڈیو کالز سب آسانی سے کر سکتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اور ایپس یوز نہیں کرتے یا ان کو زیادہ سمجھ نہیں آتی تو واٹس ایپ نے سب کے لیے آسانیاں پیدا کی ہے۔
صدف بتاتی ہیں "جہاں تک بات سٹیٹس پرائیویسی کی ہے تو میں یہ کہنا چاہوں گی کہ زیادہ تر کانٹیکٹس ہم نے ہائیڈ بھی کیے ہوتے ہیں سٹیٹس پر لیکن جن پر ٹرسٹ ہو وہ ہائیڈ نہیں کرتے۔" صدف نے کہا "اگر اپنی بات کروں تو میں نے سٹیٹس پر اپنے ڈگری لینے کے بیک سائیڈ تصویر اپلوڈ کی تھی اور وہی سے میری ایک فرینڈ نے سکرین شارٹ لے کے اپنی ڈی پی پر لگائی، اس طرح ایک دفعہ اپنے ہاتھ کی تصویر لگائی اور وہ بھی میں نے کسی فرینڈ کی ڈی پی پر دیکھی۔ میں حیران اس بات پر ہوئی کہ نہ اجازت مانگی اور نہ کچھ کہا اور سکرین شاٹ لے کے مزے سے اپنی ڈی پی لگالی۔ لہذا ہم سب کو بہت احتیاط کرنی چاہیے جہاں تک اس کے فائدے ہیں اسی طرح نقصانات بھی ہیں۔
واٹس ایپ سٹیٹس کئی لوگوں کیلے ایک طرح سے ڈیٹا چوری کرنے کا آسان طریقہ ہے کیونکہ واٹس ایپ صارف خود ہر کسی پر اعتبار کرنے پر ہی ڈیٹا لیک ہونے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس حوالے سے شعبہ صہافت سے تعلق رکھنے والی ناہید جہانگیر جو پچھلے 14 سال سے بطور صحافی کام کررہی ہے نے ڈی آر ایف کو بتایا: اصل میں اگر دیکھا جاۓ تو پڑھے لکھے لوگوں کے علاوہ کچھ غیر تعلیم یافتہ خواتین بھی واٹس ایپ کا استعمال کرتی ہیں اور ان کو زیادہ علم نہیں ہوتا کہ ہمیں خود کو واٹس ایپ پر کس طرح پرائیویٹ رکھنا ہے کون سی چیزیں ہمیں شیئر کرنی ہیں اور کون سی نہیں۔ اگر سٹیٹس لگانا ہو تو ایک پڑھی لکھی خاتون چیزیں سیکور کر لیتی ہیں کہ یہ تمام پبلک کو نظر آئے گا یا کچھ فرینڈز کو لیکن غیر تعلیم یافتہ خواتین پھر ان چیزوں میں فرق نہیں کرسکتی۔
جب کوئی سٹیٹس پر ویڈیو یا اپنی تصویر لگاتا ہے تو بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ان کو سیو کرتے ہیں یا سکرین شاٹ لے کے منفی طور پر دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، پھر ہوسکتا ہے کہ وہ لیک ہو اور اس بندی کے لیے مسئلہ بنے۔ ایسا بھی ہے بعض لوگوں کو سمجھ نہیں آتی اور وہ ہر ایک لنک پر کلک کرتے ہیں کیونکہ ایسی خواتین کو زیادہ علم نہیں ہوتا نہ ہی ان کو ڈیجٹل ٹریینگز دی جاتی ہے۔ ناہید جہانگیر نے کہا ہم نے بچیوں اور غیر تعلیم یافتہ خواتین کو بھی موبائل فون پکڑا دیتے ہیں اور وہ اس کا استعمال بھی کرتی ہیں، اپنی گھریلو چیزیں چاہے تصاویر، ویڈیوز یا جو بھی ہو وہ سٹیٹس پر لگا لیتی ہیں۔ ان خواتین کو لنکس کا کچھ زیادہ پتہ نہیں ہوتا کہ یہ سکیم ہے یا کچھ اور وہ اس پر کلک کردیتی ہیں جس سے ان کا ڈیٹا چوری ہو سکتا ہے۔ صحافی ناہید جہانگیر بتاتی ہیں کہ میں واٹس ایپ کے حوالے سے ہر چیز پہ کلک نہیں کرتی اور پرائیویسی بھی لگائی ہوتی ہے اورجو چیزیں ظاہر نہیں کرنا چاہتی تو وہ چیزیں میں سیکور کرلیتی ہوں۔
پرائیوئسی ہرانسان کا بنیادی قانونی حق ہے اس حوالے سے ایڈوکیٹ ہائی کورٹ پشاور عدنان صاحب جو سول اور کریمینل کیسز کیلۓ کام کررہے ہیں نے ڈی آر ایف کو بتایا : "بطور ایڈووکیٹ میرا مؤقف واٹس ایپ ہیکنگ صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ آئینی اور قانونی حقِ پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت "انسانی وقار اور گھر کی پرائیویسی" کا تحفظ بنیادی حق ہے۔ جب کسی کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہوتا ہے تو: ذاتی پیغامات لیک ہو سکتے ہیں تصاویر/ویڈیوز کا بے جا استعمال ہوسکتا ہے۔ بلیک میلنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ مالی فراڈ بھی ہوسکتا ہے یہ تمام اقدامات قابلِ سزا جرائم ہیں۔"
پاکستان میں سائبر کرائم سے متعلق بنیادی قانون ہے PECA2016
Prevention of Electronic Crimes Act 2016 (PECA)
اہم دفعات:
3 سیکشن ــــ Unauthorized Access
کسی کے ڈیٹا یا اکاؤنٹ تک غیر قانونی رسائی
سزا: 3 ماہ تک قید یا جرمانہ یا دونوں
سیکشن 4 – Unauthorized Copying/Transmission ڈیٹا چوری یا کاپی کرنا
سزا: 6 ماہ تک قید یا جرمانہ یا دونوں
سیکشن20 – Offences Against Dignity کسی کی عزت کو نقصان پہنچانا
سزا: 3 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ
سیکشن 21 – Offences Against Modesty نجی تصاویر/ویڈیوز پھیلانا (خاص طور پر خواتین کیلئے)
سزا: 5 سال تک قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ
سیکشن 24 – Cyber Stalking آن لائن ہراسانی
سزا: 3 سال تک قید اور جرمانہ
اگر معاملہ بلیک میلنگ یا فراڈ کا ہو تو تعزیراتِ پاکستان کی دفعات (پی پی سی) بھی لاگو ہو سکتی ہیں
متعلقہ ادارے سائبر سیکیورٹی آگاہی مہمات بڑھائیں
موبائل کمپنیوں کے ساتھ سیکیورٹی پروٹوکول بہتر کریں، اور Two-Factor Authentication (2FA) لازمی کرنے پر زور دیا جاۓ۔ اس کےعلاوہ فوری ریسپانس یونٹ قائم کیا جائے اور عدالتوں میں سائبر کرائم کے کیسز کی جلد سماعت کو یقینی بنایا جاۓ۔
دنیا بھر میں واٹس ایپ کی مقبولیت بہت زیادہ ہے لیکن پرائیویسی سے متعلق خدشات بھی بھڑ رہے ہے۔ اکثر لنکڈ ڈیوائسز کا بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔ متعدد صارفین کے مطابق لنکس یا فائل کھولنے سے ان کے واٹس ایپ کا پورا ڈیٹا ہیک ہوجاتا ہے۔ اب ایسے مشکوک لنکس اور فائلز سے واٹس ایپ صارفین کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
اس حوالے سے اسلام آباد کے نجی ادارے میں آرٹیفیشل اینٹیلیجنس (اے آئی) کے میدان میں کام کرنے والے آئی ٹی امور کے ماہر نے ڈی آر ایف کو بتایا واٹس بہت زیادہ سیکیور سوشل میڈیا فلیٹ فارم ہے آج تک اس کے مقابل میں کوئی اور ایپ نہیں بن سکی جس کی اتنی سیکورٹی ہو۔ آج کل کمیونکیشن کے لحاظ سے واٹس ایپ کا کمیونٹی میں بہت زیادہ اثر ہے، اب غیر ملکی کمپنیز بھی واٹس ایپ بزنس فلیٹ فارم پر کام کررہی ہیں۔ انہوں نے بتایا واٹس ایپ پرائیویسی کیلۓ بہترین آپشن ٹو سٹیپ ویریفیکیشن ہے دنیا کے کسی بھی کونے سے آپکے واٹس ایپ پر کوئی بھی کوشش رہا ہو اگر آپ کے نمبر سے اسے او ٹی پی کوڈ بھی چلا جائے اور وہ لاگ ان بھی کرے پھر بھی آپ کے واٹس ایپ تک ایکسس نہیں کر سکتا اور لاگ ان نہیں کر سکتا، کیونکہ وہاں ان سے ٹو سٹیپ ویریفکیشن کوڈ مانگا جائے گا۔ یہ ایک انتہائی مظبوط سیکورٹی ہے جو واٹس ایپ نے لانچ کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹو سٹپ ویریفیکیشن کیلئے واٹس ایپ سییٹنگ میں جاکے اکاونٹ پر کلک کریں وہاں نیچے ٹو سٹیپ ویریفیکیشن آن کر کے 6 ڈیجٹس پین کوڈ درج کریں اور اپنا ای میل ریکوری کیلئے شامل کریں۔ اگر آپ چھ ڈیجیٹس پین کوڈ بھول جائیں تو اپنا ای میل ریکوری کے لیے ایڈ کرنا ہوگا، میٹا کمپنی ریکوری کیلئے آپ کا پاسورڈ آپ کے ای میل میں بھیجتے ہیں وہاں سے پھر آپ کو ریکور کرنا ہوگا۔ ٹو سٹیپ ویریفیکیشن سیٹینگز میں ای میل ایڈ نہ ہو اور پن کوڈ آپ بھول جائیں تو آپ کا واٹس ایپ ختم اب اس نمبر پر آپ کھبی بھی واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکتے اگر آپ وٹس ایپ ختم کرکے کچھ بھی کریں، پھرآن کروگے پھر یہ پن کوڈ مانگا جائے گا کیونکہ ٹو سٹیپ ویرفیکیشن کھبی ختم نہیں ہوتا۔ جن کا ٹو سٹیپ ویریفیکیشن آن نہیں ہوتا ان پر سائبر اٹیکس انتہائی زیادہ ہوتے ہیں جن کا آن ہوتا ہے اب تک دنیا میں ایک بندے کی شکایت نہیں ملی۔ اپنا پن کوڈ کسی کے ساتھ بھی شیئر نہ کریں، اگر کوئی آپ سے پن کوڈ مانگے تو سمجھو وہ ہیکر/ چورہے جو آپ کا ڈیٹا چوری کرنا چاہتا ہے۔
آئی ٹی امور کے ماہر نے مزید بتایا کہ ٹو سٹیپ ویریفیکیشن کے بعد بھی اگر کوئی ایسے مسائل کا سامنا کرتا ہے تو واٹس ایپ کا اپنا ہیلپ آپشن موجود ہے وہاں اپنی شکایت درج کرکے اپنا موبائل نمبر دیں میٹا کمپنی کچھ ہی منٹوں میں آپکا مسئلہ حل کردیتے ہیں اور آپ کے ریکوری ای میل پر فورا سے معلومات آتی ہیں اور واٹس ایپ دوبارہ ریکور ہوتا ہے۔ لیکن ٹو سٹیپ ویرفکیشن کے بعد دنیا میں کوئی ایسا ہیکر نہیں جس سے آپکا واٹس ایپ ہیک ہوجائے یہ ناممکن ہے۔
Published by: Digital Rights Foundation in Digital 50.50, Feminist e-magazine





Comments are closed.