Blog Archives

All Posts in digital security in pakistan

November 29, 2018 - Comments Off on Shrinking Spaces for Women Human Rights Defenders

Shrinking Spaces for Women Human Rights Defenders


Women and girls, in every corner of the world, are struggling for their rights or for the rights of the communities they live in. Women Human Rights Defenders across the world are not only discriminated against because of their line of work but also due to their gender. They defend the rights of every human being including women’s rights and the rights related to gender and sexuality and the work they do often puts their physical and cyber safety at risk.

29th November marks the International Women Human Rights Defenders (WHRDs) Day, which is celebrated across the world to honor the courage and resilience women human rights defenders have. WHRDs are comparatively higher at risk than their male counterparts because of the restrictions imposed on them by society due to their gender. They are often labelled as ‘immoral’ women without familial values and morals, and are subjected to reputational damage.

WHRDs working on specific women issues like sexual and reproductive health rights face greater hostility. They are considered to be the ones who bring disgrace to the family due to their sensitive line of work. It is essential that WHRDs get protection and support from their peers, families and the state.

Online and offline spaces are correlated and the consequences individuals face in online spaces can also lead to repercussions in offline spaces which is why it is essential to know what the law is. Other than the challenges and risks from their communities, WHRDs are also vulnerable in digital spaces. They are harassed, exploited and blackmailed through different online platforms especially with the evolution of social media. The Prevention of Electronic Crimes Act (PECA) was passed in 2016 which focused on online violence. The law was specifically introduced to protect women in online spaces. Any activity in which individuals are intimidated and blackmailed through computer technology and social networking sites would constitute as cyber harassment. The cybercrime law clearly states that using someone’s name, ID and pictures without consent can potentially lead to 3 years of imprisonment or five million fine.   

It is important for WHRD’s to have awareness of strong digital security measures and privacy tools on their devices and laptops. Despite the sensitivity of the work they do, some WHRDs tremendously lack online safety awareness, so much that some WHRDs do not know about the ways of securing their email accounts. Digital Rights Foundation is an organisation which works closely with WHRDs to raise awareness of the tools and measures that they can employ to work efficiently and securely, in both online and offline spaces. During one such workshop, I learnt that passwords must be a mix of of alphanumeric characters and symbols. I also learned that that sharing passwords via applications and platforms that are not encrypted is not safe and that one should avoid sharing personal photos, contacts and their daily routine schedule with any new contacts that one adds.

In case you encounter cyber harassment you can get in touch with DRF’s cyber harassment helpline 0800-39393 which is a toll free number. The helpline provides three basic services which are digital security assistance, psychological help and legal aid. The helpline functions from Monday till Sunday, 9:00 am till 5:30 pm. You can also reach out to the helpline on [email protected] .

Author: Sidra Humayun

November 4, 2013 - Comments Off on انٹرنیٹ گورننس فورم ٢٠١٣ میں شریک سول سوسائٹی مندوبین کا مشترکہ اعلامیہ

انٹرنیٹ گورننس فورم ٢٠١٣ میں شریک سول سوسائٹی مندوبین کا مشترکہ اعلامیہ

فریڈم ہاؤس کی سربراہی میں  آۓ ہوۓ سول سول سوسائٹی کے معزز اراکین اور آن لائن حقوق  کے لیے کام کرنے والے اراکین نے  بالی، انڈونیشیا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہونے والی آٹھویں انٹرنیٹ گورننس فورم میں گلوبل انٹرنیٹ پالیسی کے عنوان سے ہونے والے مباحثہ میں شرکت کی .  اگف  کے اختتام پر ١٧ اداروں ور افراد نے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کئے جسکا مقصد فورم  کے دوران اٹھاےَ جانے والے خدشات و تحفظات پر روشنی ڈالنا اور حکومتوں، انٹرنیٹ کمپنیوں اور بین الاقوامی اداروں کو انٹرنیٹ کی آزادی کو یقینی بنانے کے حوالے سے سفارشات پیش کرنے کی  تجاویز پیش کرنا تھا

یہ اعلامیہ  فورم کے آخری دن بوزیں زید نے پیش کیا .زیر دستخطی پوری دنیا میں موجود سول سوسائٹی رہنماؤں کا نمائندہ گروپ ہے جس نے انٹرنیٹ گورننس فورم ٢٠١٣ جو ٢٢ اکتوبر سے ٢٥ اکتوبر تک بالی، انڈونیشیا میں منققد ہوئی میں فریڈم ہاؤس کے وفد کی حیثیت سے شرکت کی . ہم میٹنگ کے اختتام پر  اس اعلامیہ میں ان تمام آرا کو نمایاں کررہے ہیں جو فورم کے دوران پیش کی گئیں

اگف کے شرکا کی بڑی تعداد کے مطابق انٹرنیٹ کے نظم و ضبط کا عمل بہتر بنایا جا سکتا ہے اور بنایا جانا چاہئے لیکن اس کے ساتھ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ انٹرنیٹ کو ہمیشہ قابل رسائی، عالمی ,محفوظ اور مضبوط بنانے کے لئے بھی اقدامات کئے جانے چاہئے  انسانی حقوق کو آن لائن فروغ دینے ، انکی حفاظت کرنے کے لئے ہمارے گروپ نے ضروری اصول اور تجاویز پیش کیں جیسا کہ

١- تمام قوانین، پولیسیاں، قواعد، معاہدہ صارف، انٹرنیٹ پر نظم و ضبط کی عمل داری کے لیے کے جانے والے تمام اقدامات، انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونے چاہئے جس میں اقوام متحدّہ کے انسانی حقوق کے منشور کی شق ١٩ جس میں آزادی اظہار رائے کا حق، شق ١٢ جس میں رازداری کا حق اور شق ٢٠ جس میں اپنی مرضی سے کسی سے الحاق کا حق شامل ہیں.
حکومتوں اور دوسرے حصّہ داروں کو انسانی حقوق کونسل کی قرار داد ٢٠/٨ جولائی ٢٠١٢ میں کثرت رائے سے منظور کی گئی کو مد نظر رکھنا چاہیے جس میں کہا گیا ہے کہ "وہ تمام حقوق جو انسانوں کو آف لائن میسّر ہیں وہ آن لائن بھی میسّر ہونے چاہئے، بنیادی طور پر یہ حق آزادی رائے ہے " اور مزید یہ کہ "انٹرنیٹ ترقی اور انسانی حقوق پر عمل داری کے لیے استمال کیا جانے والا ایک اھم آلہ ثابت ہوسکتا ہے "  اس قرارداد کا اطلاق حکومتوں کی طرف سے کی جانے والی ناجائز اور غیر قانونی آن لائن جاسوسی کو ختم کرنے کے لئے ہوسکتا ہے. کسی بھی جاسوسی کو قانونی اور جائز اسی وقت کہا جا سکتا ہے جب وہ محدود و مخصوص، ہدف پر اور مجرمانہ سرگرمیوں کی روک تھام اور تحقیق کے لیے کی جائے اور آزاد عدلیہ کی نگرانی میں ہو.
٢-انٹرنیٹ کے نظم و ضبط سے متعلق مسائل ہر جگہ یکساں طور پر بحث کئے جائیں، ان میں وہ تمام جگہیں بھی شامل ہیں جو علاقائی، ذیلی علاقائی، قومی، لسانی یا دوسری جماعتوں (گروپس) میں بٹے ہوئے ہیں- یہ بات بہت اھم ہے کہ تمام جگہوں پر شفّافیت ، کشادگی، اور جامعیت کے اصولوں کو برقرار رکھا جائے، یہاں تمام شراکت داروں کو شامل کرنے کا مقصد انٹرنیٹ کو اثر انداز کرنے والی پولیسیوں، اصولوں اور معیار کو ترتیب دیتے وقت ہر طرح کی آرا اور نقطہ نظر کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے، ملٹی سٹیک ہولڈرازم ایک بہت زیادہ استمال کی جانے والی اصطلاح ہے جو کہ واقعات ، گروپس اور طریقہ کار کی بہت بڑی تعداد پر لاگو ہوتی ہے- بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ساتھ قومی اداروں کو بھی شراکتداری(ملٹی سٹیک ہولڈرازم ) کو اپنی سب سے پہلی ترجیح بنانے  کے لیے تمام ذمّہ داران کو برابری کی بنیادوں پر مزاکرات کی میز پر لانے کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنی ہونگی.
٣- انٹرنیٹ کے نظم و ضبط سے متعلق مباحثہ میں اگلا سب سے اھم قدم شفّافیت اور احتساب ہے جسے تمام ذمّہ داران کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے کاروباری حلقے ٹرانسپرںسی رپورٹ کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں جو کہ نہ صرف ان کے صارفین اور ان کی سماجی ذمّہ داریوں کے لیے ضروری ہیں بلکہ ان کے معاشی فوائد بھی ہیں- حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ انکی تمام پولیسیاں اور طریقہ کار شفّاف ہوں جو نہ صرف ان کے اپنے شہریوں کی نظر میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انکی قانونی حیثیت، ساکھ اور اخلاقی حاکمیت کو برقرار رکھنے کا زریعہ ہیں . مواد کی سنسر شپ، نگرانی، نیٹ ورک کی بندش یا نیٹ ورک کو سست رفتار کرنا اور انٹرنیٹ کی نگرانی کے دوسرے طریقوں کو استمال کرنے کے موقعوں پر ان دو ذمّہ داران کو آزادانہ طور پر اور ساتھ مل کر ان اقدامت کی تفصیلات ظاہر کرنا ور انہیں عوامی سطح پربحث کرنا ہوگا، اس کے علاوہ حکومتیں ان تمام ممالک جو انسانی حقوق کی پاسداری کرنے میں ناکام رہے کو نگرانی و فلٹرنگ ٹیکنالوجیز کی برآمد پر سختی سے قابو پائیں. ساتھ ساتھ نجی شعبہ کو بھی اس دائرہ اختیار میں اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہیے- کچھ ممالک میں  ایسے بلوگرز، سماجی کارکنوں اور دیگر انٹرنیٹ صارفین پر تشدّد ، قید اور یہاں تک کہ قتل کرنے   کے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے حکّام کے خلاف تنقیدی معلومات پوسٹ کیں.
ہم انڈونیشیا کی حکومت کا انکی مہمان نوازی اور آٹھویں بین الاقوامی اگف میٹنگ کامیابی سے منعقد کروانے پر شکریہ ادا کرتے ہیں. بالی میں یہ ایونٹ منعقد کروانے سے متعلق ابہام کے باوجود ہم لوگ١٨ ممالک سے سول  سوسائٹی رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور ماہرین تعلیم  کو مدعو کرنے میں کامیاب رہے. ہمارے ٣ ساتھی ویزا کے مسائل ہونے کی وجہ سے نہیں آسکے-اگف کے مخصوص رجسٹرڈ شرکا کو جاری کردہ اجازت نامہ جس کی رو سے انہیں انڈونیشیا آمد پر ویزا جاری کیا جانا تھا دیر سے موصول ہوا جسے ایئر لائن حکّام نے منسوخ کردیا اور وہ کسی بھی ملک کے شرکا کو نہیں مل سکا، مستقبل میں ہونے والی اگف کے لیئے بہتر ہوگا کہ انڈونیشیا آمد پر ویزا ملنے کے عمل کو بہتر بنایا جائے اور متعلقہ محکموں کو باضابطہ طور پر مطلع کیا جائے.
- Freedom House
- The Unwanted Witness, Uganda
- Jorge Luis Sierra, México
- Damir Gainutdinov, Russian Federation, AGORA Association
- Nighat Dad, Pakistan, Digital Rights Foundation
- Artem Goriainov, Kyrgyzstan, Public Foundation “Civil Initiative on Internet Policy”
- Giang Dang, Vietnam
- Fatima Cambronero, Argentina, AGEIA DENSI Argentina
- Michelle Fong, Hong Kong, Hong Kong In-Media
- Dalia Haj-Omar, Sudan, GIRIFNA
- Bouziane Zaid, Morocco
- Syahredzan Johan, Malaysia
- Juned Sonido, Philippines
- Myanmar ICT for Development Organization (MIDO)
- Cambodian Center for Independent Media (CCIM)
- Mahmood Enayat, United Kingdom, Small Media
- Abeer Alnajjar, Jordan
- Arzu Geybullayeva, Azerbaijan
*Thanks to Sobia Ghazal for translating this press release