October 03, 2013 - Comments Off on ’انٹرنیٹ پر آزادئ اظہار، پاکستان بدترین ملک‘

’انٹرنیٹ پر آزادئ اظہار، پاکستان بدترین ملک‘

ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق، پاکستان انٹرنیٹ کی آزادی سے متعلق درجہ بندی میں 2012 کے مقابلے میں 2013 میں مزید نیچے چلا گیا ہے۔

امریکی غیر سرکاری تنظیم فریڈم ہاؤس کی جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹ ’انٹرنیٹ پر آزادی 2013‘ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جمہوری طریقے سے اقتدار کی تاریخی منتقلی کے بعد بھی حکومت نے انٹرنیٹ پر سیاسی و سماجی مواد بلاک کرنے کا عمل جاری رکھا ہے جبکہ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر بظاہر نگرانی ہو رہی ہے۔ 

فریڈم ہاؤس کی سالانہ رپورٹ 60 ممالک میں کی گئی تحقیق پر مبنی ہے اور پاکستان سے متعلق اس رپورٹ کا باب غیر سرکاری تنظیم ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن پاکستان اور فریڈم ہاؤس نے مل کر تیار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان ان 34 ممالک میں شامل ہے جہاں انٹرنیٹ کی آزادی کے حوالے سے منفی رجحان پایا گیا ہے۔ پاکستان کا شمار انٹرنیٹ پر آزادی اظہار کے حوالے سے درجہ بندی میں آخری دس ممالک میں ہوتا ہے۔

فریڈم ہاؤس جمہوریت، انسانی حقوق اور سیاسی آزادی پر تحقیق کرتی ہے۔

"انٹرنیٹ پر آزادئ اظہار، صارفین کے حقوق اور شہریوں کی پرائیوسی یا نجی زندگی کے حوالے سے پاکستان کا شمار بدترین ممالک میں ہوتا ہے"

نگہت داد

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں ادارے کی چیف ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد کا کہنا ہے کہ ’انٹرنیٹ پر آزادئ اظہار، صارفین کے حقوق اور شہریوں کی پرائیوسی یا نجی زندگی کے حوالے سے پاکستان کا شمار بدترین ممالک میں ہوتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’گذشتہ برس سے شدت پسندی کے خلاف جنگ کے نام پر ریاست سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں کی نگرانی کے لیے ٹیکنولوجی کا استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’سنسرشپ سیاسی مقاصد کی عکاسی کرتی ہے‘۔

انٹرنیشنل ٹیلی کمیونکیشن یونین کے مطابق 2012 میں پاکستان کی دس فیصدآبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی تھی جبکہ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ 2013 میں یہ شرح بڑھ کر 16 فیصد ہو گئی ہے جس میں سے 8 فیصد صارفین موبائل فون پر انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے سٹیزن جرنلزم یا شہری صحافت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر انتخابات کے دوران دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے ویڈیوز اور تصاویر روایتی میڈیا کے بجائے فیس بک اور ٹوئٹر پر پہلے منظرِ عام پر آئیں۔

"پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے پاس بلاک ہونے والی ویب سائٹس کی فہرست موجود ہے لیکن تفصیلات نامعلوم ہیں۔ نہ تو کوئی رہنما اصول عام ہیں جس سے بلاک کرنے کی وجہ پتہ چلے اور نہ ہی پابندی لگانے کا طریقۂ کار بتایا جاتا ہے"

فریڈم ہاؤس رپورٹ

فروری 2013 میں فیر ٹرائل ایکٹ قانون سینیٹ میں منظور ہوا جس کے تحت ذاتی رابطوں کی نگرانی کے لیے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں جوڈیشل وارنٹ حاصل کر سکتی ہیں۔

فریڈم آن دا نیٹ 2013 رپورٹ کا کہنا ہے کہ ’ناقدین نے اس قانون کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے الفاظ ایسے ہیں کہ قانون کا غلط استعمال آسانی سے ہو سکتا ہے جبکہ کئی ایجنسیوں کو وسیع پیمانے پر اختیارات دیے گئے ہیں۔‘

تاہم وکیل اور سابق عبوری وزیرِ قانون احمر بلال صوفی نے بی بی سی کی نامہ نگار عنبر شمسی کو بتایا کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس میں سکیورٹی اور شہریوں کے حقوق کے درمیان توازن رکھا گیا ہے۔

’کسی اور ملک میں ہائی کورٹ کے جج کو یہ اختیار نہیں دیا گیا ہے کہ وہ تمام ثبوتوں کی چانچ پڑتال کر کے ہی نگرانی کی اجازت دیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس بات کا غیر معمولی حد تک خیال رکھا گیا ہے تاکہ شہریوں کی انفرادی آزادی اور ریاست کی سکیورٹی قائم کرنے کی ضروریات ساتھ ساتھ ممکن ہوں تاہم اس قانون پر اب تک عمل نہیں ہو پایا کیونکہ متعلقہ جج نامزد نہیں ہوئے۔

اسلام مخالف فلم

پاکستانی حکام کا کہنا ہےکہ یو ٹیوب پر پابندی تب تک رہے گی جب تک گوگل اسلام مخالف فلم ’انوسنس آف مسلمز‘ کو ہٹا نہیں دیتا یا ملک گیر انٹرنیٹ کی چھان بین کا نظام قائم نہیں ہوتا۔

دوسری جانب، یوٹیوب پر اکتوبر 2012 سے عائد کی گئی پابندی بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ سے متعلق شہریوں کے حقوق پر کام کرنے والے کارکنوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یو ٹیوب کے ساتھ ساتھ بیس ہزار دیگر ویب ساٹس کو بھی بلاک کیا گیا ہے، جن میں بلوچ اور سندھی قوم پرستوں کی ویب سائٹس اور فحش ویب سائٹس شامل ہیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہےکہ یو ٹیوب پر پابندی تب تک رہے گی جب تک گوگل اسلام مخالف فلم ’انوسنس آف مسلمز‘ کو ہٹا نہیں دیتا یا ملک گیر انٹرنیٹ کی چھان بین کا نظام قائم نہیں ہوتا۔

رپورٹ کے مطابق حکومتِِِ پاکستان نے جنوری 2003 سے آن لائن مواد کو بلاک کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس پر تنقید کرتے ہوئے رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن آتھارٹی کے پاس بلاک ہونے والی ویب سائٹس کی فہرست موجود ہے لیکن تفصیلات نامعلوم ہیں۔ نہ تو کوئی رہنما اصول عام ہیں جس سے بلاک کرنے کی وجہ پتہ چلے اور نہ ہی پابندی لگانے کا طریقۂ کار بتایا جاتا ہے۔‘

Published by: Digital Rights Foundation in DRF in Media

Comments are closed.