خواتین صحافی، لباس کی سیاست اور آزادیٔ صحافت  کیا پاکستان میں واقعی آزادی صحافت موجود ہے؟

خواتین صحافی، لباس کی سیاست اور آزادیٔ صحافت  کیا پاکستان میں واقعی آزادی صحافت موجود ہے؟

ناہید جہانگیر   کیا پاکستان میں خواتین کے لیے صحافت واقعی آزاد ہے، یا ان کی آزادی کو سماجی اقدار اور غیر تحریری پابندیوں کے ذریعے محدود کیا جا رہا ہے؟ آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، مگر جب صحافیوں، خصوصاً خواتین، کو ان کے کام کے …

ناہید جہانگیر

 

کیا پاکستان میں خواتین کے لیے صحافت واقعی آزاد ہے، یا ان کی آزادی کو سماجی اقدار اور غیر تحریری پابندیوں کے ذریعے محدود کیا جا رہا ہے؟ آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، مگر جب صحافیوں، خصوصاً خواتین، کو ان کے کام کے بجائے ان کی ظاہری شکل ولباس کی بنیاد پر جانچا جائے تو یہ بنیادی آزادیوں پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

 

غریدہ فاروقی کیس: لباس پر تنقید یا منظم ہراسانی؟

واضح رہے کہ غریدہ فاروقی جو پاکستان کی معروف اور سنیئر خاتون صحافی ہیں 11 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والی ایران، امریکہ مذاکرات کی کوریج کیلئے غریدہ فاروقی نے سبز رنگ کا لباس پہنا تھا جس کو بنیاد بنا کر ان کی سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کی گئی تھی۔

خاتون صحافی غریدہ فاروقی نے اپنے لباس پر ہونے والی تنقید پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیا ہے۔

انہوں نے پوسٹ میں لکھا کہ ’یہ نہ تو تنقید ہے اور نہ ہی لباس پر کوئی بات۔ یہ ایک تصویر ہے جو میری اجازت کے بغیر ’پرائیویٹ اینگل‘ سے لی گئی، پھر اسے تبدیل کیا گیا اور ایک منظم، گھٹیا کردار کشی اور ہراسانی مہم میں بدل دیا گیا۔

اپنی پوسٹ میں غریدہ فاروقی نے مزید لکھا کہ یہ میرے ساتھ پہلی بار نہیں ہوا، میں 2011 سے اس سب کا سامنا اور مقابلہ کر رہی ہوں، لیکن یہ پورے معاشرے کی خواتین کے لیے خوف اور دہشت کا باعث بنتا ہے۔

پسماندہ علاقوں کی خواتین صحافی، خاموشی کی مجبوری

نادیہ (فرضی نام ) جنکا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع با جوڑ کے ایک پسماندہ علاقے سے ہیں جو 5 سالوں سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں بتاتی ہیں کہ آزادی صحافت پر حملے خواتین صحافیوں کو خود سنسر شپ کی طرف مائل کرتے ہیں، جہاں وہ اپنی رائے، موضوعات اور حتیٰ کہ اپنی موجودگی تک کو محدود کرنے لگتی ہیں تاکہ تنقید اور ہراسانی سے بچ سکیں۔ یہ صورتحال آزادی اظہار کے بنیادی حق کے خلاف ہے۔ اور خواتین صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش ہے۔ غریدہ فاروقی جیسی تجربہ کار صحافی کو سمجھنے کے بجائے ان کے لباس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرہ اب بھی خواتین کی پیشہ ورانہ شناخت کو ان کی ظاہری شکل سے الگ کرنے میں ناکام ہے۔ وہ مزید بتاتی ہیں کہ وہ خود صحافت سے وابستہ ہیں لیکن معاشرے کے رویے کے خوف سے اپنا نام تک ظاہر نہیں کر سکتی۔

 

لباس نہیں، رویہ مسئلہ ہے

نادیہ نے کہا کہ دوسری جانب، خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقوں میں کام کرنے والی خواتین صحافیوں کو مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ وہاں پردہ یا برقعہ کرنے کے باوجود بھی خواتین خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتیں۔ بعض خواتین کے مطابق، لوگ ان کی آنکھوں، ہاتھوں یا انداز پر تبصرے کرتے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ

لباس نہیں بلکہ رویوں کا ہے۔ حتیٰ کہ پردہ بھی انہیں غیر ضروری توجہ اور ہراسانی سے نہیں بچا پاتا۔

ان کے مطابق ڈریس کوڈ تنازع نے اس حقیقت کو مزید واضح کیا ہے کہ پاکستان میں خواتین صحافیوں کو اکثر ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے بجائے ان کے لباس اور ظاہری انداز پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک سینئر صحافی کو ان کی رائے یا رپورٹ کے بجائے ان کے لباس پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس سے اصل صحافتی کام پسِ پشت چلا گیا۔ یہ رجحان نہ صرف انفرادی سطح پر ہراسانی ہے بلکہ مجموعی طور پر آزادی صحافت کے ماحول کو بھی متاثر کرتا ہے۔

سماجی دباؤ اور ہراسانی

آسمہ گل، جو گزشتہ بارہ سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، بتاتی ہیں کہ خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں خواتین صحافیوں کے لیے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے باوجود جو خواتین اس شعبے میں کام کر رہی ہیں، انہیں سماجی دباؤ، کردار کشی اور ہراسانی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض لوگ میڈیا سے وابستہ خواتین کو پیشہ ورانہ طور پر سنجیدہ لینے کے بجائے انہیں غلط نظر سے دیکھتے ہیں، محض اس بنیاد پر کہ وہ مردوں کے ساتھ کام کرتی ہیں۔

سوشل میڈیا ایک نیا میدان، پرانے مسائل

آسما گل بتاتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر بھی صورتحال مختلف نہیں۔ خواتین صحافیوں کو نامناسب پیغامات، ذاتی معلومات کے مطالبات، اور غیر پیشہ ورانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب عوامل نہ صرف ان کی ذہنی صحت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنے کام میں مکمل آزادی سے کام کرنے سے بھی روکتے ہیں۔

دیہی خواتین صحافیوں کے چیلنجز

آسما گل، غریدہ فاروقی کے حوالے سے بتاتی ہیں کہ اگر ایک معروف اور سینئر خاتون صحافی بھی اس طرح کی آن لائن ہراسانی سے محفوظ نہیں، تو دیہی اور پسماندہ علاقوں میں کام کرنے والی خواتین کے لیے آزادی صحافت کا تصور اور بھی محدود ہو جاتا ہے۔ وہاں وسائل کی کمی، سماجی دباؤ اور کمزور قانونی تحفظ ان کی آواز کو مزید دبانے کا سبب بنتے ہیں۔

آزادی اظہار کی خلاف ورزی

نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی صحافی خالدہ نیاز جو گذشتہ 12 سالوں سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں بتاتی ہیں کہ خواتین صحافیوں کو ان کے اچھے پیشہ ورانہ کام کے بجائے ان کے لباس ،شکل و صورت پر جج کرنا آزادی اظہار کی خلاف ورزی ہے جو دیہی علاقوں میں خواتین کے لیے صحافت کو مزید مشکل کرتا ہے۔ یہاں مسئلہ لباس سے نہیں بلکہ سماجی رویے اور منفی ذہنیت ہے۔

وہ مزید بتاتی ہیں کہ پاکستان کے سائبر کرائم قوانین موجود ہونے کے باوجود ان کے نفاذ میں کمزور یاں پائی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری بھی اس حوالے سے اہم ہے کہ وہ ہراسانی اور نفرت انگیز مواد کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔ اب وقت بدل گیا ہے معاشرتی سطح پر خواتین صحافیوں کی پیشہ ورانہ شناخت اور قابلیت کو تسلیم کرنا چاہئے۔ اگر اتنی سینئر اور نامی گرامی خاتون کو اس طرح آن لائن ہراسا کیا جاتا ہے تو پھر ان علاقوں میں جہاں پہلے ہی میڈیا کی آزادی محدود ہے۔ وہ کس طرح آذادی صحافت کر سکتی ہیں پسماندہ علاقوں میں کام کرنے والی خواتین صحافی نہ صرف وسائل کی کمی بلکہ سماجی دباؤ، ہراسانی اور کردار کشی جیسے مسائل کا سامنا سب سے زیادہ کرتی ہیں اور بآسانی ان کی آواز دبائی بھی جاتی ہے وہ کام چھوڑنے یا خاموش رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتی ہیں ۔

آزادیٔ صحافت صرف قانون میں نہیں بلکہ عملی رویوں میں نظر آنی چاہیے۔ جب تک خواتین صحافیوں کو بغیر خوف، دباؤ اور ہراسانی کے کام کرنے کا حق نہیں ملتا، تب تک حقیقی معنوں میں آزادی صحافت ادھوری رہے گی۔

قانونی تحفظ اور قوانین

پشاور ہائی کورٹ کی سینئر وکیل نازش خان بتاتی ہیں اگر کسی خاتون صحافی کو اس کے لباس، ظاہری شکل یا جنس کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر ہراساں کیا جائے، کردار کشی کی جائے، دھمکیاں دی جائیں یا نفرت انگیز مہم چلائی جائے، تو وہ پاکستان میں مختلف قوانین کے تحت قانونی کارروائی کر سکتی ہے پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو آزادیٔ اظہار اور پریس کی آزادی کا حق دیتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 19 اے عوامی معلومات تک رسائی کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔، جو صحافت کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔

Prevention of Electronic Crimes Act 2016 (PECA)

سیکشن 20 کے تحت عزت اور ساکھ کو نقصان پہنچانے، جھوٹے الزامات لگانے یا آن لائن کردار کشی کی کوشش کی گئ ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اسی طرح سیکشن 21، خواتین کے وقار، نجی تصاویر یا جنسی نوعیت کی ہراسانی سے متعلق جرائم پر لاگو ہو سکتا ہے۔

اگر کسی صحافی کے بارے میں جھوٹا پروپیگنڈا کیا جائے یا اس کی شہرت کو نقصان پہنچایا جائے تو:

پاکستان پینل کوڈ (PPC) سیکشن 499 اور 500

Defamation Ordinance 2002

کے تحت فوجداری یا سول مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے۔

اگر ہراسانی کام کی جگہ یا میڈیا ادارے کے اندر ہو تو

Protection Against Harassment of Women at the Workplace Act 2010

کے تحت متعلقہ ادارے کی انکوائری کمیٹی، محتسب یا عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

غریدہ فاروقی کے معاملے کے حوالے سے ایڈوکیٹ نازش بتاتی ہیں کہ اگر تنقید صرف صحافتی کام پر نہیں بلکہ لباس، جنس یا ذاتی کردار کو نشانہ بنا کر کی گئی ہے، جس سے ہرا سانی، کردار کشی یا ساکھ کو نقصان پہنچا تو متاثرہ خاتون اپنی شکایت

Federal Investigation Agency (FIA)

سائبر کرائم ونگ میں درج  کرا سکتی ہیں ۔

صحافت ایک مشکل مگر باہمت شعبہ ہے

صحافی آسمہ کا کہنا ہے کہ چونکہ انہیں گھر والوں کی طرف سے حمایت حاصل ہے اور وہ شوق سے اس شعبے میں آئی ہیں، اس لیے وہ ان منفی رویوں کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔ لیکن ہر لڑکی کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں ہوتا۔

وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ صحافت ایک مشکل مگر باہمت شعبہ ہے۔ جو خواتین اس میدان میں آتی ہیں، وہ اپنے والدین یا سرپرستوں کی اجازت سے آتی ہیں۔ اس لیے معاشرے کو چاہیے کہ وہ ان کی حوصلہ افزائی کرے نہ کہ ان کی حوصلہ شکنی کرے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو گھر بٹھانے کے بجائے ان کا ساتھ دیں اور انہیں مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیں۔

آزادی صحافت میں خواتین کے کردار کو موثر بنانے میں نیوز روم یا ایک ادارے کی ذمہ داری

آزادی صحافت میں خواتین کے کردار کو موثر بنانے میں نیوز روم یا ایک ادارے کی کیا زمہ داری ہونی چاہیے اس حوالے سے پاکستان ٹیلیویژن پشاور سنٹر کے نیوز ایڈیٹر محمد عرفان خان بتاتے ہیں کہ قانون تو موجود ہے لیکن عمل کمزور اور کافی سست ہے۔ جہاں تک ایک نیوز ادارے کی زمہ داری ہے تو نیوز رومز کو پالیسی سے آگے بڑھ کر کلچر کوبدلنا ہوگا۔ خواتین کو صرف “کوٹہ” پر نہیں، قابلیت پر ٹاپ پوزیشنز تک لانا ہوگا۔ تب ہی آزادانہ صحافت ممکن ہے ورنہ نہیں۔

وہ آن لائن ٹرولنگ، دھمکیوں یا کردار کشی کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اس پر ادارہ کسی بھی خاتون ساتھی کو قانونی معاونت دے سائبر کرائم رپورٹ کرنے کا طریقہ کار میں مدد فراہم کریں اور ساتھ میں ساشل میڈیا اکاونٹ ہینڈل کرنے کی تربیت بھی دی جائے۔ لیکن بد قسمتی سے جب بھی کسی خاتون صحافی کو ٹرولنگ یا دھمکایا جاتا ہے یا سوشل میڈیا پر گالیاں دی جاتی ہیں تو ادارے کی جانب سے متاثرہ خاتون کو بہت کم سپورٹ ملتا ہے جو زیادتی ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہے۔

اس سوال کے جواب پر کہ خواتین کو کیوں صرف سافٹ بیٹ یعنی تعلیم ،صحت یا تقریبات وغیرہ کو کور کرنے کا کہا جاتا ہے تو عرفان خان نے بتایا کہ  چونکہ

حساس علاقوں میں خواتین رپورٹرز کو ثقافتی دباؤ، خاندانی مزاحمت اور سکیورٹی رسک زیادہ ہوتا ہے اس لیے ادارے رسک لے کر بھیجنے سے گریز کرتے ہیں اکیلی خاتون رپورٹر کو نہیں بھیجا جاتا جب تک وہ خود رضامند نہ ہو۔

حوصلہ اور مزاحمت شائستہ حکیم کی کہانی

شائستہ حکیم واحد خاتون صحافی ہیں جس نے سوات میں طالبان کے دور میں بھی بھادری کے ساتھ کام کیا کہتی ہیں کہ سوات تعلیم کے میدان میں آگے ہیں لیکن بد قسمتی سے جب بات صحافت کی آتی ہیں تو مکمل آزادی اور وہ سہولیات موجود نہیں ہیں جو ہونی چاہے۔

تاریخی، سماجی اور ثقافتی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں، خاص طور پر خواتین کے لیے میڈیا میں کام کرنے کے مواقع کم ہیں اور انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی مرتبہ خود ان کو کہا گیا ہے کہ شائستہ آپکا کام مائیک ہاتھ میں پکڑ کر گلی محلوں اور بازاروں میں گھومنا پھرنا نہیں ہے گھر میں جھاڑو لگانا اور برتن مانجنا ہے۔ لیکن مسائل اور منفی رویوں کے باجود غریدہ فاروقی جیسی کچھ بہادر خواتین صحافت میں کام کر رہی ہیں اور کوشش کر رہی ہیں کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائیں اور عوام کی آواز بنیں بعض عناصر ان کے اچھے کام وقابلیت کا مقابلہ تو کر نہیں سکتے۔ لیکن بد قسمتی سے آن لائن ٹرولنگ، کردار کشی کا سہارا لیتے ہیں۔

شائستہ حکیم بتاتی ہیں کہ ان کو اس بات کی خوشی ہے کہ غریدہ فاروقی نے منفی ذہینت رکھنے والے افراد کے خلاف آواز اٹھائی ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا جس سے پسماندہ علاقوں میں کام کرنے والی خواتین صحافیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

Share On

Digital Rights Foundation

Digital Rights Foundation

خواتین صحافی، لباس کی سیاست اور آزادیٔ صحافت  کیا پاکستان میں واقعی آزادی صحافت موجود ہے؟

ناہید جہانگیر   کیا پاکستان میں خواتین کے لیے صحافت واقعی آزاد ہے، یا ان کی آزادی کو سماجی اقدار اور غیر تحریری پابندیوں کے ذریعے محدود کیا جا رہا ہے؟ آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، مگر جب صحافیوں، خصوصاً خواتین، کو ان کے کام کے …

Digital Rights Foundation

Digital Rights Foundation