خالدہ نیاز "جب مجھے دو سال پہلے دھمکی آمیز کالز موصول ہونا شروع ہوئیں تو میں پولیس کے پاس گیا۔ میرا خیال تھا کہ شاید وہاں سے مجھے تحفظ مل جائے گا، لیکن کچھ عرصے بعد پولیس نے ہی مجھے مشورہ دیا کہ علاقہ چھوڑ دو، تمہاری جان کو خطرہ ہے۔" یہ الفاظ قبائلی اضلاع …
خالدہ نیاز
“جب مجھے دو سال پہلے دھمکی آمیز کالز موصول ہونا شروع ہوئیں تو میں پولیس کے پاس گیا۔ میرا خیال تھا کہ شاید وہاں سے مجھے تحفظ مل جائے گا، لیکن کچھ عرصے بعد پولیس نے ہی مجھے مشورہ دیا کہ علاقہ چھوڑ دو، تمہاری جان کو خطرہ ہے۔”
یہ الفاظ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کے ہیں، جو گزشتہ دو برسوں سے اپنے گھر، اپنے شہر اور اپنی شناخت سے دور زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ انہیں دھمکیاں ملیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ آج بھی اپنا نام ظاہر نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے بقول خطرہ ابھی تک ختم نہیں ہوا۔
دو سال قبل جب انہیں پہلی مرتبہ جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا شروع ہوئیں تو انہوں نے اسے سنجیدگی سے لیا۔ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس گئی اور تحفظ کی درخواست کی۔ لیکن انہیں جس جواب کی امید تھی، وہ کبھی نہیں ملا۔
تحفظ فراہم کرنے کے بجائے انہیں بتایا گیا کہ اپنی جان بچانا چاہتے ہو تو علاقہ چھوڑ دو۔ یوں ایک صحافی، جو اپنے علاقے کے مسائل دنیا تک پہنچاتا تھا، خود اپنے ہی علاقے میں اجنبی بن گیا۔
انہوں نے اپنا گھر چھوڑا، اپنا شہر چھوڑا، اپنے عزیز و اقارب سے دوری اختیار کی اور ایک ایسی زندگی کا آغاز کیا جس میں ہر دن بے یقینی اور ہر رات خوف کے سائے میں گزرتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ قبائلی اضلاع میں صحافت کرنا کبھی بھی آسان نہیں تھا، لیکن حالیہ برسوں میں حالات مزید خطرناک ہو گئے ہیں۔
“یہاں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔ لوگ بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ بارڈر تنازعات اپنی جگہ موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں جب کوئی صحافی زمینی حقائق رپورٹ کرتا ہے تو بہت سے طاقتور عناصر اسے پسند نہیں کرتے”۔
کالز آتی ہے کہ تمہاری باری ہے
قبائلی اضلاع کے صحافی صرف خبر نہیں لکھتے، وہ ایک ایسے ماحول میں کام کرتے ہیں جہاں ایک خبر کئی حلقوں کے مفادات سے ٹکرا سکتی ہے۔ شاید اسی لیئے دھمکی آمیز کالوں کا سلسلہ وقت کے ساتھ بڑھتا گیا۔ آج دو سال گزر جانے کے باوجود انہیں اب بھی فون کالز موصول ہوتی ہیں۔
مجھے آج بھی کالیں آتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تمہاری باری ہے”۔
یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک ایسا نفسیاتی دباؤ ہے جو دن رات ان کے ساتھ رہتا ہے۔ ہرنامعلوم نمبر ایک نئی تشویش بن جاتی ہے۔ ہر فون کال انہیں یاد دلاتی ہے کہ خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا۔
ان کے خوف کی وجہ محض دھمکیاں نہیں بلکہ تلخ تجربات بھی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے ایک صحافی دوست کو بھی اسی طرح کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔
میرے ایک دوست کو بھی مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں۔ دو سال قبل اسے قتل کر دیا گیا”۔
یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے انہیں باور کرا دیا کہ قبائلی اضلاع میں دھمکیاں اکثر محض دھمکیاں نہیں ہوتیں۔ یہاں خاموش کرانے کا عمل اکثر قتل پر جا کر ختم ہوتا ہے۔
اپنی جان بچانے کے لیے علاقے سے نکل جانا شاید ایک وقتی حل تھا، لیکن اس کے بعد شروع ہونے والی زندگی کسی سزا سے کم نہیں۔ دھمکیوں کے باعث وہ صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے سے محروم ہو گئے۔
“میں نہ صحافت کر سکتا ہوں اور نہ ہی اپنے گھر اور بچوں کے لیئےکچھ کر سکتا ہوں، کیونکہ جن لوگوں سے خطرہ ہے وہ بہت طاقتور اور خطرناک ہیں”۔
یہ جملہ صرف ایک صحافی کی بے بسی نہیں بلکہ اس پورے نظام کی ناکامی کی عکاس ہے جس میں ایک صحافی سچ بولنے کی سزا بے روزگاری اور جلاوطنی کی صورت میں بھگتتا ہے۔
دھمکیاں، معاشی مشکلات اور نفسیاتی مسائل
وہ بتاتے ہیں معاشی مشکلات نے ان کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا۔ ابتدائی طور پر فریڈم نیٹ ورک اور جرمنی کے ایک ادارے نے ان کی مدد کی۔ کچھ عرصے تک مالی معاونت بھی فراہم کی گئی، مگر یہ مدد محدود مدت کے لیے تھی۔
“چند مہینوں کی سپورٹ سے زندگی نہیں چلتی۔ خطرات تو ختم نہیں ہوتے”۔
جب امداد ختم ہوئی تو ان کی معاشی مشکلات شدت اختیار کر گئیں۔ اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لیئے انہیں اپنی ذاتی اشیا فروخت کرنا پڑیں۔
“میں نے اپنا لیپ ٹاپ بیچ دیا۔ پھر آئی فون فروخت کیا۔ بعد میں بیوی کا زیور بھی بیچنا پڑا کیونکہ میرے پاس بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیئے بھی پیسے نہیں تھے۔ یہ وہ قیمت ہے جو ایک صحافی نے صرف اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کے عوض ادا کی۔
معاشی دباؤ کے ساتھ ساتھ مسلسل خوف نے ان کی ذہنی صحت کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ دو سال سے سوشل میڈیا سے دور ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی بات لگتی ہے، لیکن جدید صحافت میں سوشل میڈیا صحافی کی پیشہ ورانہ شناخت، رابطے اور معلومات کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے۔
“آج اگر کوئی صحافی سوشل میڈیا سے دور ہو جائے تو وہ عملی طور پر پیشہ ورانہ دوڑ سے باہر ہو جاتا ہے”۔
گویا دھمکیوں نے نہ صرف انہیں گھر سے بے دخل کیا بلکہ پیشے سے بھی تقریباً کاٹ دیا۔ مگر یہ داستان صرف ایک صحافی تک محدود نہیں۔ قبائلی اضلاع اور خیبرپختونخوا کے دیگر حساس علاقوں میں متعدد صحافی اسی طرح کے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
دھمکیاں، مقدمات اور حملے
ایک اور صحافی، جنہوں نے برسوں تک رپورٹنگ اور سیاسی تجزیئے کیئے، آج بھی حملوں اور مقدمات کی یادیں اپنے ساتھ لیئے ہوئے ہیں۔
“میں معمول کے مطابق رپورٹنگ اور تجزیئے کرتا تھا مگر دھمکیاں ملنے لگیں۔ پھر دھمکیاں حملوں میں بدل گئیں”۔
ان کے خلاف مقدمات قائم کیئے گئے۔ انہیں غیر ریاستی مسلح گروہوں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئیں۔ بعد ازاں ان پر تین مختلف حملے کیئے گئے۔
2023 میں ایک صبح انہیں اپنے وکیل کی کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ اٹک میں ان کے خلاف وارنٹ جاری ہو چکا ہے اور فوری طور پر عدالت پہنچنا ضروری ہے۔ وہ اٹک پہنچے اور رات گھر پر گزارنے کا فیصلہ کیا جو اٹک کچہری کے قریب ہے۔
اسی رات پشاور میں رہنے والے ایک دوست کی گھبرائی ہوئی کال موصول ہوئی۔ دوست نے پوچھا:
تم کہاں ہو؟ انہوں نے جواب دیا۔
“گھر پر ہوں۔”
اس پر دوست نے بتایا کہ ان کے کمرے پر خودکار ہتھیاروں سے مسلح افراد حملہ کر رہے ہیں اور مسلسل فائرنگ جاری ہے۔ اگلی صبح جب وہ وہاں پہنچے تو دیواریں گولیوں سے چھلنی ہو چکی تھیں۔ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ ان کے بقول ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔
پہلے سنبھل جاؤ اور لکھنا چھوڑ دو
ایک رات ایک نامعلوم شخص ان کے قریب آیا اور کہا اگر تم پر اچانک حملہ ہو گیا تو تم سنبھل نہیں پاؤ گے، اس لیے پہلے سنبھل جاؤ اور یہ لکھنا چھوڑ دو۔
یہی پیغام انہیں اس وقت بھی دیا گیا جب انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان کے مطابق گرفتاری کے بعد انہیں آٹھ گھنٹے تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں پولیس کے حوالے کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ دوپہر دو بجے گرفتاری کے باوجود ان کے خلاف ایف آئی آر رات تقریباً تین بجے درج کی گئی۔
یہ واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قبائلی اضلاع اور ملحقہ علاقوں میں صحافی صرف مسلح گروہوں ہی نہیں بلکہ مختلف قسم کے دباؤ، مقدمات، تشدد اور غیر یقینی صورتحال کا بھی سامنا کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سلسلہ آج کا نہیں۔ قبائلی علاقوں میں صحافیوں کے خلاف خونریز تاریخ کم از کم دو دہائیوں پر محیط ہے۔
اب تک کئی صحافیوں کو مارا جاچکا ہے
2006 میں حیات اللہ خان کو اغوا کیا گیا اور چھ ماہ بعد ان کی لاش برآمد ہوئی۔ انہوں نے دنیا کو وہ تصاویر دکھائی تھیں جن سے ثابت ہوا تھا کہ ابو حمزہ ربیع کی ہلاکت گیس سلنڈر دھماکے میں نہیں بلکہ ڈرون حملے میں ہوئی تھی۔
اس کے بعد عارف خان، محمد ابراہیم، موسیٰ خان خیل، مصری خان اورکزئی، پیر سپین پاچا، شفیع اللہ، نصراللہ آفریدی، مکرم خان عاطف، ملک ممتاز، عبدالرزاق سیاپ، شاد محمد، زمان محسود، محبوب شاہ آفریدی اور ذوالفقار علی خان سمیت درجنوں صحافی قتل، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔
لیکن اس پوری داستان کا سب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ بیشتر مقدمات میں آج تک انصاف نہیں مل سکا۔ قاتل گمنام رہے، مقدمات سرد خانے میں چلے گئے اور صحافیوں کے خاندان جواب کے منتظر رہ گئے۔
لیکن صحافیوں کے لیے خطرات اب صرف بندوقوں، بم دھماکوں یا دھمکی آمیز فون کالوں تک محدود نہیں رہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان کے سائبر قوانین، خصوصاً پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا)، کے استعمال پر بھی صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ڈیجیٹل دور میں پیکا ایکٹ صحافیوں کی آواز کو دبانے کی کوشش
صحافیوں کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین کا مقصد اگرچہ سائبر جرائم کی روک تھام بتایا جاتا ہے، مگر عملی طور پر بعض اوقات ان کا استعمال صحافیوں اور ناقد آوازوں کے خلاف بھی کیا جاتا ہے۔
ڈیجیٹل دور میں صحافت کا ایک بڑا حصہ سوشل میڈیا، آن لائن پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل اشاعت سے وابستہ ہے۔ ایسے میں کسی صحافی کے خلاف پیکا کے تحت مقدمہ یا تحقیقات کا آغاز نہ صرف قانونی مشکلات پیدا کرتا ہے بلکہ پیشہ ورانہ اور نفسیاتی دباؤ میں بھی اضافہ کر دیتا ہے۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور مختلف بین الاقوامی میڈیا حقوق کی تنظیمیں متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کر چکی ہیں کہ پیکا کی بعض شقیں مبہم ہیں اور ان کے ذریعے آزادیِ اظہار اور صحافتی آزادی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
صحافیوں کے مطابق مسئلہ صرف مقدمات کا نہیں بلکہ اس خوف کا بھی ہے جو ایسے قوانین کے ممکنہ استعمال سے پیدا ہوتا ہے۔
ایک صحافی کے بقول پہلے ہمیں اس بات کا خوف ہوتا تھا کہ کسی خبر پر حملہ ہو سکتا ہے، اب یہ خوف بھی ساتھ چلتا ہے کہ کسی سوشل میڈیا پوسٹ یا رپورٹ پر قانونی کارروائی شروع ہو جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب صحافی ایک ہی وقت میں جسمانی خطرات، مالی مشکلات، مقدمات، ڈیجیٹل نگرانی اور قانونی دباؤ کا سامنا کریں تو اس کا براہِ راست اثر آزاد صحافت پر پڑتا ہے۔
اس صورتحال میں بعض صحافی حساس موضوعات پر رپورٹنگ سے گریز کرنے لگتے ہیں جبکہ کچھ اپنی رائے کے اظہار میں احتیاط برتتے ہیں، جسے میڈیا ماہرین “سیلف سنسرشپ” قرار دیتے ہیں۔
دہشت گردی سے متاثرہ شمالی وزیرستان کے صحافی صفدر داوڑ نے بتایا قبائلی اضلاع میں صحافت کرنا مشکل کام ہے، انکے مطابق یہاں اب تک 14 صحافیوں کو قتل کیا جاچکا ہے لیکن ابھی تک کسی کے قاتلوں کو سزا نہ ملی۔ وہ بتاتے ہیں قبائلی اضلاع جب صوبے کے ساتھ ضم نہیں ہوئے تھے تب بھی وہاں صحافیوں کے لیے حالات سازگار نہیں اور جب ضم ہوئے تب بھی انکی مشکلات میں کمی نہ آسکی۔ “یہاں تو کئی صحافیوں کو الفاظ کے انتخاب پر بھی سزائیں ملیں کہ ہمیں شہید کیوں نہیں لکھا” صفدر داوڑ نے بتایا وہ خود بھی مشکلات کا شکار ہوئے انہوں نے کئی سال پہلے اپنے علاقے کو خیرباد کہہ دیا تھا اور پشاور میں مقیم ہوئے جہاں سے انہوں نے اپنی رپورٹنگ جاری رکھی۔
انہوں نے بتایا وقت کے ساتھ مشکلات بڑھ رہی ہیں کیونکہ موجودہ دور میں آن لائن بھی صحافی محفوظ نہیں رہے اگر وہ کوئی سٹوری کر لیں تو اگلے دن انکو اٹھا لیا جاتا ہے۔
قبائلی اضلاع جیسے علاقوں میں، جہاں صحافی پہلے ہی مسلح گروہوں، سکیورٹی خدشات اور محدود وسائل کے درمیان کام کر رہے ہیں، وہاں قانونی اور ڈیجیٹل دباؤ کے اضافی خطرات ان کے پیشہ ورانہ ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
یوں قبائلی اضلاع کے صحافی آج دوہری نہیں بلکہ کئی سطحوں پر جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایک طرف بارود، دھمکیاں اور ٹارگٹ کلنگ کا خوف ہے، تو دوسری طرف مقدمات، قانونی کارروائیوں اور آن لائن نگرانی کے خدشات۔
سوال یہ ہے کہ ایسے ماحول میں صحافت کس طرح آزاد رہ سکتی ہے؟ اور اگر سچ بولنے والوں کو مسلسل خاموش کیا جاتا رہا تو ان علاقوں کی کہانیاں دنیا تک کون پہنچائے گا؟
قبائلی اضلاع میں آج بھی صحافی ایک ایسے ماحول میں کام کر رہے ہیں جہاں سچ لکھنا اکثر جان جوکھوں کا کام بن چکا ہے۔ کچھ قتل کر دیئے جاتے ہیں، کچھ کو خاموش کرا دیا جاتا ہے اور کچھ اپنے گھروں سے دور جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان سب کی کہانی الگ ہو سکتی ہے، مگر ان کا درد ایک ہی ہے سچ بولنے کی قیمت۔




