نازیہ سلارزئی جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ قبائلی اضلاع میں خواتین صحافی نہ ہونے کے برابر ہے۔ مگر قبائلی اضلاع کے گیارہ پریس کلب میں صرف ایک خاتون صحافی کی ممبرشپ ہے۔ باقی دس پریس کلب میں خواتین کی نمائندگی اور ممبرشپ صفر ہے۔ یونیسکو کے آرٹیکل 19 کے مطابق پریس …
نازیہ سلارزئی
جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ قبائلی اضلاع میں خواتین صحافی نہ ہونے کے برابر ہے۔ مگر قبائلی اضلاع کے گیارہ پریس کلب میں صرف ایک خاتون صحافی کی ممبرشپ ہے۔ باقی دس پریس کلب میں خواتین کی نمائندگی اور ممبرشپ صفر ہے۔
یونیسکو کے آرٹیکل 19 کے مطابق پریس فریڈم (صحافت کی آزادی) کے تین مضبوط ستون ہیں: سنسرشپ سے آزادی، صحافیوں کا تحفظ، اور پلورلزم یعنی معاشرے کے ہر طبقے، ہر صنف اور ہر علاقے کی آواز کا میڈیا میں شامل ہونا۔ لیکن اگر ہم قبائلی اضلاع کی بات کریں تو پریس فریڈم کا یہ آخری اور اہم ترین ستون زمین بوس نظر آتا ہے۔ اب ہم اس کو جامع، منصفانہ اور فریڈم آف پریس کیسے کہیں کہ ان قبائلی اضلاع میں صرف ایک خاتون صحافی کی ممبرشپ ہے۔
ان اضلاع میں خواتین صحافی خوف و ہراس، دہشت گردی، قبائلی روایات، صنفی امتیاز اور تحفظ کی عدم موجودگی کی وجہ سے ممبرشپ کا سوچ بھی نہیں سکتیں۔ پھر نتیجہ کے طور پر پچاس فیصد آبادی پر مشتمل خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے والی آواز دب جاتی ہے۔ کیونکہ کوئی مرد صحافی کسی خاتون کا نہ تو انٹرویو کر سکتا ہے اور نہ ہی قبائلی روایات کی وجہ سے کوئی خاتون کسی مرد صحافی کو اپنا مسٔلہ بتا سکتی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ خبر ادھوری ہے جو پریس فریڈم اور میڈیا میں صنفی مساوات کے منافی ہے۔
قبائلی اضلاع کے کل رجسٹرڈ پریس کلب
پریس کلب کے ریکارڈ کے مطابق قبائلی اضلاع میں کل گیارہ پریس کلب ہے
| خواتین صحافی | مرد صحافی | پریس کلب کی تعداد | قبائلی اضلاع |
| صفر | چیالیس | ایک: باجوڑ پریس کلب | باجوڑ |
| صفر | بائیس | ایک: مہمند پریس کلب | مہمند |
| صفر | باڑہ پریس کلب: ستائیس
جمرود پریس کلب: تیس لنڈیکوتل پریس کلب: بیس |
تین (باڑہ پریس کلب، جمرود پریس کلب اور لنڈیکوتل پریس کلب) | خیبر |
| صفر | بائیس | ایک: اورکزئی پریس کلب | اورکزئی |
| صفر | پاڑا چنار پریس کلب: چوبیس
صدہ پریس کلب: پندرہ |
دو: (پاڑا چنار پریس کلب اور صدہ پریس کلب) | کرم |
| صفر | انیس | ایک: میرانشاہ پریس کلب | نارتھ وزیرستان |
| ایک (محسود پریس کلب) | محسود پریس کلب: بائیس
وانا پریس کلب: اٹھارہ |
دو: (محسود پریس کلب اور وانا پریس کلب) | ساؤتھ وزیرستان |
حسن خیل میں کوئی پریس کلب نہیں
قبائلی علاقہ حسن خیل سے تعلق رکھنے والی صحافی شمائلہ آفریدی پریس کلب کی ممبر بننا چاہتی ہیں مگر اس کے علاقے میں پریس کلب ہی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ “میں ایک ایسے علاقے سے تعلق رکھتی ہوں جہاں پریس کلب نہیں ہے اور نہ ہی کوئی صحافی۔ جو خبریں آتی ہے وہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹ کی جاتی ہیں۔
میں چاہتی ہوں کہ مجھے نزدیک کسی اور ضلع میں ممبر شپ ملے تا کہ میرا صحافتی کام مضبوط ہو۔ لیکن مجھے یقین نہیں کہ مجھے ممبر شپ مل جائے گی کیونکہ بہت سی ایسی خواتین ہیں جنہوں نے بہت اچھا کام کیا ہوا ہے تجربہ کار بھی ہیں مگر پھر بھی پریس کلب کی ممبرشپ سے محروم ہے۔
بہت جگہوں پر پریس کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا بھی ہوتا ہے۔
اگر خواتین زیادہ ہوتی تو میری آواز توانا ہوتی
قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والی صحافی ناہید جہانگیر نے اپنے اوپر ہونے والے تشدد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب ان پر تشدد کیا گیا تو بعد میں انہوں نے پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس بلائی۔ مگر انہیں دکھ اس وقت ہوا جب صرف چار خواتین ہال میں موجود تھیں جن میں سے صرف ایک کی ممبرشپ تھی جبکہ باقی تین فری لانسر صحافی تھیں جن کو انہوں نے مدعو کیا ہوا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ “اگر اس وقت پریس کلب میں خواتین زیادہ ہوتی تو ایک توانا آواز اور پیغام پریس کلب سے جاتا اور مجھے بھی تقویت ملتی اور مخالفین کو بھی احساس ہوتا کہ میں اکیلی نہیں بلکہ صحافی خواتین میرے شانہ بشانہ کھڑی ہیں“۔ پشاور پریس کلب میں مرد صحافیوں کی تعداد کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس میں مرد صحافیوں کی تعداد چار سو بیاسی ہے جبکہ خواتین صحافیوں کی تعداد بارہ کے قریب ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خواتین صحافیوں کو یونین کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ اگر کل کو کسی خاتون صحافی کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو یہ یونین ہی کام آۓ گی۔ خواتین کی ممبرشپ کی اہمیت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پریس کلب میں اگر زیادہ خواتین صحافی ہوں گی تو اس کو ہم جامع اور منصفانہ پریس کلب کہہ سکتے ہیں۔ پشاور پریس کلب کی ممبرشپ کے لیے انتہائی قابل خواتین صحافی درخواستیں دیتی ہیں مگر پھر بھی ممبرشپ سے محروم ہے۔ انصاف سے کام لیا جاۓ اور خواتین کو بھی ممبر شپ دی جائے کیونکہ پشاور میں خواتین کے لیے صحافت کرنا قبائلی اضلاع کی نسبت تھوڑا آسان ہے۔
جرنلزم کی ڈگری کا شوق تھا مگر داخلہ نہ لے سکی
قبائلی ضلع اورکزئی سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ حنا (فرضی نام) نے بتایا کہ جب وہ بارہویں جماعت سے فارغ ہوئی تو اس کی خواہش تھی کہ وہ جرنلزم میں بی ایس کرے مگر جب قبائلی اضلاع کی خواتین کی صحافت کے بارے میں انہوں نے سوچا کہ نہ تو وہ قبائلی اضلاع میں صحافت کر سکتی ہے، نہ تو پریس کلب کی ممبر بن سکتی ہے اور نہ ہی ان کو اچھی تنخواہیں اور مراعات مل سکتی ہیں تو اس وجہ سے انہوں نے دلبرداشتہ ہو کر اردو سبجیکٹ میں داخلہ لے لیا۔
قبائلی اضلاع میں خواتین کی صحافت کے حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ “قبائلی اضلاع کی طالبات بھی چاہتی ہیں کہ وہ صحافت کی ڈگری حاصل کرے اور ان کی ضرورت بھی بہت ہے مگر جب وہ یہ سوچتی ہے کہ پدرشاہی معاشرے میں نہ تو وہ کیمرہ اٹھا سکتیں ہیں، نا مائیک اور نہ ہی کھل کر صحافت کر سکتیں ہیں۔ تو اس سے اچھا ہے کہ طالبات کوئی ایسی ڈگری حاصل کرے جو بعد میں کام تو آ سکے۔ کیونکہ قبائلی اضلاع میں تعلیم یافتہ خواتین ذیادہ سے ذیادہ ٹیچنگ کے شعبے سے وابسطہ ہوتی ہیں۔
میرے دور میں کوئی خاتون صحافی تھی اور نہ آج
قبائلی ضلع خیبر کے تحصیل لنڈیکوتل سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی قاضی فضل اللہ جو 2003 سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ 2005 میں وہ لنڈیکوتل پریس کلب کے صدر منتخب ہوۓ۔ 2016 میں ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس ضلع خیبر کے صدر منتخب ہوۓ، اور سال 2024 میں ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس ضم اضلاع کے صدر منتخب ہوۓ۔
خواتین کی ممبرشپ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ “قبائلی اضلاع میں شرح خواندگی ملک کے دیگر علاقوں کے نسبت کم ہے۔ اور خصوصا لڑکیوں کی تعلیم کی شرح مزید ابتر ہے۔ گزشتہ بیس، بائیس سالوں سے دہشتگردی کے باعث لڑکیوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں خواتین کا صحافی بننا ایک مشکل کام ہے۔
تنخواہوں اور مراعات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ قبائلی اضلاع کے صحافیوں کی تنخواہوں اور مراعات کا مسٔلہ اور صوبوں کی نسبت زیادہ ہے۔ ایسے حالات میں ایک خاتون کیسے صحافت کرسکتی ہے۔ کیونکہ ایک سخت گیر معاشرہ جہاں خواتین کو گھر سے نکلنا مشکل ہوتا ہے وہاں بغیر تنخواہ کے صحافت جیسا پیشہ اختیار کرنا مشکل کام ہے۔ جو تھوڑی بہت تعلیم یافتہ خواتین ہیں وہ کسی سکول میں ٹیچر بھرتی ہونا پسند کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ”نہ میرے دور صدارت میں کوئی خاتون صحافی ممبر بن سکی اور نہ آج کوئی خاتون صحافی ممبر موجود ہے جو کہ دکھ کی بات ہے۔
مہمند پریس کلب کا پس منظر اور خواتین کی ممبرشپ کی اہمیت
قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے مہمند پریس کلب کے جنرل سیکریٹری فوزی خان مہمند نے مہمند پریس کلب کے پس منظر کے حوالے سے بتایا کہ ”شروع سے ہی مہمند پریس کلب میں خواتین کی ممبرشپ موجود نہیں ہے۔ یہاں صحافت کا آغاز بڑی مشکل سے ہوا، اور ہمارے زیادہ تر ساتھی سرکاری سکولوں کے اساتذہ یا کلرک تھے۔ انہوں نے ہی صحافت شروع کیا تھا، اور پھر بعد میں آزاد/پیشہ ور صحافی اس میں شامل ۔“ہوئے
خواتین صحافیوں کی ممبر شپ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ “آج تک کسی خاتون صحافی نے ممبرشپ کے لیے درخواست نہیں دی ہے۔ پشاور اور اسلام آباد کی رہنے والی دو خواتین نے ممبرشپ کے لیے اپلائی کیا تھا۔
کچھ غیر مقامی خواتین صحافی بطور مہمان اپنے کسی اسائنمنٹ کے سلسلے میں مہمند پریس کلب آئی تھی باقی کوئی خاتون ممبر نہیں ہے”۔
قبائلی روایات اور پردے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ “یہاں خواتین اگر ہسپتال بھی جاتی ہیں تو بہت سخت پردے میں جاتی ہیں۔ اب اگر صحافت کی بات کی جائے، تو اس کے لیے تو لازمی فیلڈ میں نکلنا پڑتا ہے اور رپورٹنگ کرنی ہوتی ہے۔ ان وجوہات اور ثقافتی رکاوٹوں کی وجہ سے مقامی خواتین اس طرف نہیں آئی”۔
موجودہ دور میں خواتین صحافیوں کی ممبرشپ کی اہمیت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ
اب صورتحال بدل چکی ہے اور خواتین کے لیے پریس کلب کی ممبرشپ بہت ضروری ہے۔ چونکہ اب فاٹا کا انضمام بھی ہو چکا ہے، یہاں مختلف ادارے آ چکے ہیں، عدالتیں قائم ہو چکی ہیں اور پولیس بھی آ گئی ہے تو اب خواتین صحافیوں کی ممبرشپ بھی ضرور ہونی چاہیے کیونکہ خواتین کے جو مسائل ہیں وہ ہمارے معاشرے میں کھل کر سامنے نہیں آتے ہیں۔
خواتین کے ساتھ جو زیادتیاں ہوتی ہے یا ان کے حقوق کی جو خلاف ورزی ہوتی ہے انہیں اجاگر کرنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ خواتین کو پریس کلب کی ممبرشپ آسان شرائط پر ملے، تاکہ وہ خود آگے بڑھ کر خواتین کے مسائل کو سامنے لا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ”ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے، جس طرح مردوں کے لیے پریس کلب کی ممبرشپ ضروری ہے، اس طرح خواتین کی ممبرشپ بھی بہت ضروری ہے۔ خواتین کی صحت کے مسائل، تعلیم کے مسائل، گھریلو تشدد اور حقوق کی پامالی ہوتی ہے، ان سب کو سامنے لانے کے لیے خواتین صحافیوں کا ہونا بے حد ضروری ہے”۔
قبائلی اضلاع کے پریس کلب میں سالانہ الیکشن کا فقدان
قبائلی ضلع اورکزئی سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی رفعت اللہ اورکرزئی جو پچیس سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ “پشاور پریس کلب کی طرح ان قبائلی پریس کلب میں باقاعدہ سالانہ جمہوری انتخابات نہیں ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مصلحت اور باہمی افہام و تفہیم سے طویل عرصے تک عہدے برقرار رکھے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے خواتین کو ممبرشپ اور آگے بڑھنے کے مواقع نہیں مل پاتے۔
اس کے علاوہ قبائلی اضلاع میں خواتین کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کا شدید فقدان رہا ہے۔ جب تک خواتین کو صحافت کی تعلیم تک رسائی نہیں ملے گی، ان کی اس میدان میں آمد ممکن نہیں”۔
اورکزئی پریس کلب کی عمارت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ “اورکزئی پریس کلب خود اورکزئی میں نہیں بلکہ ہنگو میں واقع ہے۔ ایسے حالات میں جہاں مردوں کے لیے چیلنجز ہیں، وہاں خواتین صحافیوں کا دوسرے اضلاع میں جا کر کام کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
بدامنی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ”وزیرستان سے لے کر باجوڑ تک یہ اضلاع طویل عرصے تک جنگ اور شورش کا شکار رہے ہیں۔ اس سخت اور پرخطر ماحول میں خواتین کے لیے صحافت جیسے حساس شعبے کا حصہ بننا انتہائی مشکل کام ہے۔
پختون معاشرے کی ثقافتی حساسیت اور پردے کے نظام کی وجہ سے مرد صحافی وہاں کی خواتین کے مسائل (جیسے صحت، تعلیم، اور گھریلو چیلنجز) کو اس طرح سامنے نہیں لا سکتے جیسے ایک خاتون صحافی لا سکتی ہے، کیونکہ مردوں کی نسبت خواتین صحافیوں کو آسانی سے رسائی مل سکتی ہے۔ تو یہ ضروری ہے کہ خواتین کو بھی پریس کلب میں زیادہ سے زیادہ ممبرشپ دی جاۓ تاکہ خواتین کے مسائل بھی اجاگر ہو سکیں”۔
حل کیا ہے
پشاور سے تعلق رکھنے والی صائمہ منیر جو تیس سالوں سے عورت فاؤنڈیشن میں بطور نیشنل مینیجر کام کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ “قبائلی اضلاع میں بمشکل تین یا چار خواتین ہی اس شعبے میں کام کرتی نظر آتی ہے۔
جب سیٹلڈ علاقوں میں کام کرنے والی خواتین صحافیوں کو اتنے مسائل کا سامنا ہے، تو قبائلی اضلاع کی خواتین کے لیے بغیر کسی سپورٹ کے اس فیلڈ میں آنا اور کیریئر بنانا واقعی ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ بد امنی کی وجہ سے بھی خواتین صحافیوں کے لیے وہاں کام کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔
خواتین کی صحافت کو جاری رکھنے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ خواتین کو بطور فری لانسر زیادہ سے زیادہ سوشل میڈیا کا استعمال کرنا چاہیے، جیسے کہ یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس کے ذریعے لوگوں کو اپنا پیغام پہنچاۓ۔ انہوں نے بتایا کہ پریس کلب کی ممبرشپ کے لیے ضرور درخواست دے مگر پریس کلب کی ممبرشپ کے انتظار میں بیٹھنا وقت کا ضیاع ہے۔ خواتین ویسے بھی ممبرشپ کے بغیر بھی اپنی صحافت کر رہی ہیں۔ کیونکہ خواتین صحافیوں نے حالات کا مقابلہ کر کے آگے بڑھنا ہے تاکہ وہ اپنے علاقے کے خواتین کی آواز بن سکیں۔




